ٹیگ کے محفوظات: پیچاک

موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 95
بارش ہُوئی تو پُھولوں کے تن چاک ہو گئے
موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفّاک ہو گئے
بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں
کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے
جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں
بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے
لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس
سُورج کی شہ پہ تِنکے بھی بے باک ہو گئے
بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب
دریا کے رُخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے
سُورج دما غ لوگ بھی ابلاغِ فکر میں
زُلفِ شبِ فراق کے پیچاک ہو گئے
جب بھی غریبِ شہر سے کُچھ گفتگو ہُوئی
لہجے ہَوائے شام کے نمناک ہو گئے
پروین شاکر

مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 130
اے فکر سخن کیوں زر گل خاک سے لے آؤں
مضمون اگر کم ہوں تو افلاک سے لے آؤں
پھر کام ہیں کچھ اور بھی لیکن دل ناداں
پہلے تو تجھے زلف کے پیچاک سے لے آؤں
کیا گنج گہر کی مرے دامن کو کمی ہے
چاہوں تو ابھی دیدۂ نمناک سے لے آؤں
دکھلاؤں تمہیں اپنے قبیلے کی نشانی
کچھ تار کسی پیرہن چاک سے لے آؤں
چمکے تو اندھیرے میں مرا طرۂ دستار
دوچار ستارے تری پوشاک سے لے آؤں
عرفان صدیقی

آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 514
ذہن اللہ کا ادراک پہن کر آئے
آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے
لوگ تو ننگ لباسوں میں چھپا کر نکلے
ہم گریباں کے فقط چاک پہن کر آئے
فصلِ گل ہاتھ پہ رکھ کر کوئی تھل سے نکلا
ہم چمن سے خس و خاشاک پہن کر آئے
نور و سایہ کی کثافت سے منزہ تھے مگر
میری دنیا کی طرف خاک پہن کر آئے
ہم عمامہ و قبا روند کے باہر نکلے
شیخ دستاروں کے پیچاک پہن کر آئے
کیا ڈبوئے گی اسے موجۂ وحشت منصور
چشمِ گرداب جو پیراک پہن کر آئے
منصور آفاق

دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 417
جسم نا پاک پر جامہء پاک بے فائدہ
دل میں ہو غیر تو سجدہِ خاک بے فائدہ
صاحبِ فہم ہو توتمہیں اک الف کافی ہے
یہ کتابوں بھرا عقل و ادراک بے فائدہ
آدمی آخری حد ہے تشکیل و تخلیق کی
گردشِ وقت کا گھومتا چاک بے فائدہ
اس کی ساری توجہ رہی اپنی تلوار کی دھار پر
میں نے پہنی ہے زخموں کی پوشاک بے فائدہ
اِس دماغِ شرر خیز میں جھوٹ کے ڈھیر ہیں
تیری دستار کے اتنے پیچاک بے فائدہ
کون سا ا س نے منصور کمرے میں آ جانا ہے
گریۂ شب کا شورِ المناک بے فائدہ
منصور آفاق

محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 151
فلک سے بھی پرانی خاک کی تاریخ
محمدﷺ کی زمینِ پاک کی تاریخ
مکمل ہو گئی ہے آخرش مجھ پر
جنوں کے دامن صد چاک کی تاریخ
ابھی معلوم کرتا پھر رہا ہوں میں
تری دستار کے پیچاک کی تاریخ
مری آنکھوں میں اڑتی راکھ کی صورت
پڑی ہے سوختہ املاک کی تاریخ
رگِ جاں میں اتر کر عمر بھر میں نے
پڑھی ہے خیمہء افلاک کی تاریخ
سرِ صحرا ہوا نے نرم ریشوں سے
پھٹا کویا تو لکھ دی آک کی تاریخ
مسلسل ہے یہ کیلنڈر پہ میرے
جدائی کی شبِ سفاک کی تاریخ
پہن کر پھرتی ہے جس کو محبت
مرتب کر تُو اُس پوشاک کی تاریخ
ہوائے گل سناتی ہے بچشمِ کُن
جہاں کو صاحبِ لولاک کی تاریخ
کھجوروں کے سروں کو کاٹنے والو
دکھائی دی تمہیں ادراک کی تاریخ
ہے ماضی کے مزاروں میں لکھی منصور
بگولوں نے خس و خاشاک کی تاریخ
منصور آفاق