ٹیگ کے محفوظات: پیمان

جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل

کیا بیاں کیجیے اب وسعتِ دامانِ غزل
جبکہ ہر بات میں پوشیدہ ہو امکانِ غزل
آپ ہم لاکھ بگاڑا کریں اس کی صورت
کوئی قوت ہے پُراسرار نگہبانِ غزل
قطب تھا اُن میں کوئی اور ولی تھا کوئی
دیکھنے میں تو وہ تھے محض ثنا خوانِ غزل
چاہیے شعر کو اب بھی وہی سودا وہی درد
توسنِ طبع وہی اور وہی میدانِ غزل
میرِ محفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر
اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل
آتشِ عشق نے دی جرأتِ اظہار مجھے
شجرِ غم کا ثمر ہے مرا دیوانِ غزل
کام گو بند نہیں کوئی بھی غالب کے بغیر
نام سے اُس کے ہی روشن ہے خیابانِ غزل
ناسخ و ذوق و ظفر، مومن و حالی و امیر
ان کے پھولوں سے مہکتا ہے گلستانِ غزل
راہ شاعر کو دکھاتا ہے وہی داغِ فراق
آج بھی ہجر کا سامان ہے سامانِ غزل
سفرِ فکر میں اقبال رہا میرا انیس
اُس نے سیراب کیا میرا بیابانِ غزل
لخت ہائے جگرِ وحشی کو معمولی نہ جان
کوئی یاقوتِ غزل ہے کوئی مرجانِ غزل
عمر بھر ہم کو وفا پیشہ اُسی نے رکھا
ہم نے باندھا تھا لڑکپن میں جو پیمانِ غزل
فیض پایا ہے کئی چشموں سے یوں تو باصِرؔ
مدرسہ میرا ہے ناصِر کا دبستانِ غزل
باصر کاظمی

احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 44
گر ہو سلوک کرنا انسان کر کے بھولے
احسان کا مزا ہے احسان کر کے بھولے
نشتر سے کم نہیں ہے کچھ چھیڑ آرزو کی
عاشق مزاج کیوں کر ارمان کر کے بھولے
وعدہ کیا پھر اُس پر تم نے قسم بھی کھائی
کیا بھول ہے انساں پیمان کر کے بھولے
وعدے کی شب رہا ہے کیا انتظار مجھ کو
آنے کا وہ یہاں تک سامان کر کے بھولے
اپنے کئے پہ نازاں ہو آدمی نہ ہر گز
طاعت ہو یا اطاعت انسان کر کے بھولے
خود ہی مجھے بلایا پھر بات بھی نہ پوچھی
وہ انجمن میں اپنی مہمان کر کے بھولے
یہ بھول بھی ہماری ہے یادگار دیکھو
دل دے کے مفت اپنا نقصان کر کے بھولے
تم سے وفا جو کی ہے ہم سے خطا ہوئی ہے
ایسا قصور کیوں کر انسان کر کے بھولے
آخر تو آدمی تھے نسیان کیوں نہ ہوتا
میری شناخت شب کو دربان کر کے بھولے
اب یاد ہے اُسی کی فریاد ہے اُسی کی
سارے جہاں کو جس کا ہم دھیان کر کے بھولے
اب عشق کا صحیفہ یوں دل سے مٹ گیا ہے
جس طرح یاد کوئی قرآن کر کے بھولے
اے داغ اپنا احساں رکھے گا یاد قاتل
وہ اور میری مشکل آسان کر کے بھولے
داغ دہلوی

مہر بت دگر سے طوفان کر کے مارا

دیوان سوم غزل 1064
کیا رویئے ہمیں کو یوں آن کر کے مارا
مہر بت دگر سے طوفان کر کے مارا
تربت کا میری لوحہ آئینے سے کرے ہے
یعنی کہ ان نے مجھ کو حیران کر کے مارا
بیگانہ جان ان نے کیا چوٹ رات کو کی
منھ دیکھ دیکھ میرا پہچان کر کے مارا
پہلے گلے لگایا پھر دست جور اٹھایا
مارا تو ان نے لیکن احسان کر کے مارا
اس سست عہد نے کیا کی تھی قسم مجھی سے
بہتوں کو ان نے عہد و پیمان کر کے مارا
حاضر یراق ہونا کاہے کو چاہیے تھا
مجھ بے نوا کو کیا کیا سامان کر کے مارا
کہنے لگا کہ شب کو میرے تئیں نشہ تھا
مستانہ میر کو میں کیا جان کر کے مارا
میر تقی میر

آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے

دیوان اول غزل 606
اپنا سر شوریدہ تو وقف خم چوگان ہے
آ بوالہوس گر ذوق ہے یہ گو ہے یہ میدان ہے
عالم مری تقلید سے خواہش تری کرنے لگا
میں تو پشیماں ہو چکا لوگوں کو اب ارمان ہے
ہر چند بیش از بیش ہے دعویٰ تو رونے کا تجھے
پر دیدئہ نمناک بھی اے ابرتر طوفان ہے
اس بے دمی میں بھی کبھو دل بھر اٹھے ہے دم ترا
آ ٹک شتابی بے وفا اب تک تو مجھ میں جان ہے
ہر لحظہ خنجر درمیاں ہر دم زباں زیر زباں
وہ طور وہ اسلوب ہے یہ عہد یہ پیمان ہے
اس آرزوے وصل نے مشکل کیا جینا مرا
ورنہ گذرنا جان سے اتنا نہیں آسان ہے
بس بے وقاری ہوچکی گلیوں میں خواری ہوچکی
اب پاس کر ٹک میر کا دو چار دن مہمان ہے
میر تقی میر

عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 10
پکارتا ہے مگر دھیان میں نہیں آتا
عجیب حرف ہے امکان میں نہیں آتا
بس ایک نام ہے اپنا نشاں، جو یاد نہیں
اور ایک چہرہ جو پہچان میں نہیں آتا
میں گوشہ گیر ہوں صدیوں سے اپنے حجرے میں
مصافِ بیعت و پیمان میں نہیں آتا
مجھے بھی حکم نہیں شہر سے نکلنے کا
مرا حریف بھی میدان میں نہیں آتا
میں اس ہجوم میں کیوں اس قدر اکیلا ہوں
کہ جمع ہو کے بھی میزان میں نہیں آتا
مرے خدا، مجھے اس آگ سے نکال کہ تو
سمجھ میں آتا ہے، ایقان میں نہیں آتا
عرفان صدیقی

نظر دیوار سے گزری، رکی ڈھلوان پر بارش

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 192
تحیر خیز موسم کی ہوئی وجدان پر بارش
نظر دیوار سے گزری، رکی ڈھلوان پر بارش
ترے پاگل کی باتیں اتفاقاتِ جہاں ہیں کیا
ہوئی ہے یوں ہی برسوں بعد ریگستان پر بارش
سراپا آگ !دم بھر کو مرے چہرے پہ نظریں رکھ
تری آنکھوں سے ہو گی تیرے آتش دان پر بارش
گرے تو پھول بن جائے ترے چہرے پہ مہتابی
پڑے تو آگ بن جائے ترے دامان پر بارش
کتابِ غم کو کتنی بار برساتوں میں رکھا ہے
نہیں پڑتی جنابِ میر کے دیوان پر بارش
وہ برساتیں پہن کر گاؤں میں پھرتی ہوئی لڑکی
مجھے یاد آتی ہے اس سے مہکتی دھان پر بارش
محبت جاگتی ہے جب تو پھر ہوتی ہے سپنوں کی
مقام یاد پر بارش، شبِ پیمان پر بارش
عدم آباد سے آگے خدا کی آخری حد تک
رہی ہے زندگی کی قریہء امکان پر بارش
گئے گزرے زمانے ڈھونڈتی بدلی کی آنکھوں سے
یونہی ہے اِس کھنڈر جیسے دلِ ویران پر بارش
کئی برسوں سے پانی کو ترستی تھی مری چوپال
کسی کا پاؤں پڑتے ہی ہوئی دالان پر بارش
بڑی مشکل سے بادل گھیر لایا تھا کہیں سے میں
اتر آئی ہے اب لیکن مرے نقصان پر بارش
بہا کر لے گئی جو شہر کے کچے گھروندوں کو
نہیں ویسی نہیں ہے قصرِ عالی شان پر بارش
کہے ہے بادلو! یہ ڈوبتے سورج کی تنہائی
ذرا سی اہتمامِ شام کے سامان پر بارش
بدن کو ڈھانپ لیتی ہیں سنہری بھاپ کی لہریں
اثر انداز کیا ہو لمس کے طوفان پر بارش
جلایا کس گنہ گارہ کو معصوموں کی بستی نے
کہ اتری بال بکھرائے ہوئے شمشان پر بارش
کسی مشہور نٹ کا رقص تھا اونچی حویلی میں
ہوئی اچھی بھلی نوٹوں کی پاکستان پر بارش
مجھے مرجھاتے پھولوں کا ذرا سا دکھ ہوا منصور
مسلسل ہو رہی ہے کانچ کے گلدان پر بارش
منصور آفاق