ٹیگ کے محفوظات: پیمانے

شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 59
ہم کو ہم خاک نشینوں کا خیال آنے تک
شہر تو شہر بدل جائیں گے ویرانے تک
دیکھیے محفلِ ساقی کا نتیجہ کیا ہوا
بات شیشے کی پہنچنے لگی پیمانے تک
صبح ہوئی نہیں اے عشق یہ کیسی شب ہے
قیس و فرہاد کے دہرا لئے افسانے تک
پھر نہ طوفان اٹھیں گے نہ گرے گی بجلی
یہ حوادث ہیں غریبوں ہی کے مٹ جانے تک
میں نے ہر چند بلا ٹالنی چآ ہی لیکن
شیخ نے ساتھ نہ چھوڑا مرا میخانے تک
وہ بھی کیا دن تھے گھر سے کہیں جاتے ہی نہ تھے
اور گئے بھی تو فقط شام کو میخانے تک
میں وہاں کیسے حقیقت کو سلامت رکھوں
جس جگہ رد و بدل ہو گئے افسانے تک
باغباں فصلِ بہار آنے کا وعدہ تو قبول
اور اگر ہم نے رہے فصلِ بہار آنے تک
اور تو کیا کہیں اے شیخ تری ہمت پر
کوئی کافر ہی گیا ہو ترے میخانے تک
اے قمر شام کا وعدہ ہے وہ آتے ہوں گے
شام کہلاتی ہے تاروں کے نکل آنے تک
قمر جلالوی

شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 50
حسن سے رسوا نہ ہو گا اپنے دیوانے کا نام
شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام
ہو گئی توبہ کو اک مدت کسے اب یاد ہے
اصطلاحاً ہم نے کیا رکھا تھا پیمانے کا نام
میتِ پروانہ بے گور و کفن دیکھا کئے
اہلِ محفل نے لیا لیکن نہ دفنانے کا نام
یہ بھی ہے کوئی عیادت دو گھڑی بیٹھے نہ وہ
حال پوچھا چل دیے گھر کر گئے آنے کا نام
لاکھ دیوانے کھلائیں گل چمن کہہ دے گا کون
عارضی پھولوں سے بدلے گا نہ ویرانے کا نام
ان کو کوسے دے رہے، ہو خود، ہیں جو جینے سے تنگ
زندگی رکھا ہے جن لوگوں نے مر جانے کا نام
اِس ہوا میں قوتِ پرواز سے آگے نہ بڑھ
ہے قفس آزادیوں کی حد گزر جانے کا نام
قمر جلالوی

خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 25
حرم کی راہ کو نقصان بت خانے سے کیا ہو گا
خیالاتِ بشر میں انقلاب آنے سے کیا ہو گا
کسے سمجھا رہے ہیں آپ سمجھانے سے کیا ہو گا
بجز صحرا نوردی اور دیوانے سے کیا ہو گا
ارے کافر سمجھ لے انقلاب آنے سے کیا ہو گا
بنا کعبہ سے بت خانہ تو بت خانے سے کیا ہو گا
نمازی سوئے مسجد جا رہے ہیں شیخ ابھی تھم جا
نکلتے کوئی دیکھے گا جو مے خانے سے کیا ہو گا
خدا آباد رکھے میکدہ یہ تو سمجھ ساقی
ہزاروں بادہ کش ہیں ایک پیمانے سے کیا ہو گا
تم اپنی ٹھوکریں کا ہے کو روکو دل کو کیوں مارو
ہمیں جب مٹ گئے تو قبر مٹ جانے سے کیا ہو گا
قمر جلالوی

صراحی جھک گئی اٹھے ادب سے پیمانے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 5
وہ مہتمم ہیں جہاں بھی گئے دیوانے
صراحی جھک گئی اٹھے ادب سے پیمانے
جب آئے تھے مجھے وحشت میں لوگ سمجھانے
نہ جانے آپ کو کیا کیا کہا تھا دنیا نے
سنائے کوئی کہاں تک جنوں کے افسانے
نہ جانے ہو گئے آباد کتنے ویرانے
زمینِ عشق میں ہیں دفن وہ بھی دیوانے
نہ جن کے نام کی شہرت نہ جن کے افسانے
کمالِ حسن بناتا ہے عشق کو دشمن
فروغِ شمع سے جلنے لگے ہیں پروانے
نہ رکھ قفس میں مگر طعنۂ قفس تو نہ دے
کہ ہم بھی چھوڑ کر آئیں ہیں اپنے خس خانے
یہ عشق ہے جسے پرواہ حسن کی بھی نہیں
کہ شمع روتی ہے اور سو رہے ہیں پروانے
جہاں سے عشق نے رودادِ غم کو چھوڑ دیا
شروع میں نے وہاں سے کئے ہیں افسانے
وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمر
کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے
قمر جلالوی

بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر

دیوان پنجم غزل 1622
ابر سیہ قبلے سے اٹھ کر آیا ہے میخانے پر
بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے کچھ شیشے پر پیمانے پر
رنگ ہوا سے ٹپکنے لگا ہے سبزے میں کوئی پھول کھلا
یعنی چشمک گل کرتا ہے فصل بہار کے آنے پر
شور جنوں ہے جوانوں کے سر میں پاؤں میں زنجیریں ہیں
سنگ زناں لڑ کے پھرتے ہیں ہر ہر سو دیوانے پر
بیتابانہ شمع پر آیا گرد پھرا پھر جل ہی گیا
اپنا جی بھی حد سے زیادہ رات جلا پروانے پر
قدرجان جو کچھ ہووے تو صرفہ بھی ہمؔ میر کریں
منھ موڑیں کیا آنے سے اس کے اپنی جان کے جانے پر
میر تقی میر

بھر نہ آویں کیونکے آنکھیں میری پیمانے کی طرح

دیوان دوم غزل 794
دور گردوں سے ہوئی کچھ اور میخانے کی طرح
بھر نہ آویں کیونکے آنکھیں میری پیمانے کی طرح
آنکلتا ہے کبھو ہنستا تو ہے باغ و بہار
اس کی آمد میں ہے ساری فصل گل آنے کی طرح
چشمک انجم میں اتنی دلکشی آگے نہ تھی
سیکھ لی تاروں نے اس کی آنکھ جھمکانے کی طرح
ہم گرفتاروں سے وحشت ہی کرے ہے وہ غزال
کوئی تو بتلائو اس کے دام میں لانے کی طرح
ایک دن دیکھا جو ان نے بید کو تو کہہ اٹھا
اس شجر میں کتنی ہے اس میرے دیوانے کی طرح
آج کچھ شہر وفا کی کیا خرابی ہے نئی
عشق نے مدت سے یاں ڈالی ہے ویرانے کی طرح
پیچ سا کچھ ہے کہ زلف و خط سے ایسا ہے بنائو
ہے دل صد چاک میں بھی ورنہ سب شانے کی طرح
کس طرح جی سے گذر جاتے ہیں آنکھیں موند کر
دیدنی ہے دردمندوں کے بھی مر جانے کی طرح
ہے اگر ذوق وصال اس کا تو جی کھو بیٹھیے
ڈھونڈ کر اک کاڑھیئے اب اس کے بھی پانے کی طرح
یوں بھی سر چڑھتا ہے اے ناصح کوئی مجھ سے کہ ہائے
ایسے دیوانے کو سمجھاتے ہیں سمجھانے کی طرح
جان کا صرفہ نہیں ہے کچھ تجھے کڑھنے میں میر
غم کوئی کھاتا ہے میری جان غم کھانے کی طرح
میر تقی میر

رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 202
بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے
رند اٹھ جائیں نہ میخانے سے
کوئی دنیا سے شکایت تو نہیں
کون پوچھے ترے دیوانے سے
کس کے ہنسنے کی صدا آئی ہے
دل میں چلنے لگے پیمانے سے
زندگی کا یہ معمہ باقیؔ
اور الجھا مرے سلجھانے سے
باقی صدیقی