ٹیگ کے محفوظات: پیسہ

کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 45
جو ہونا چاہئے اس کے علاوہ کیا نہیں ہوتا
کبھی تقدیر کا خواہش سے سمجھوتا نہیں ہوتا
بچھڑنا حادثہ بن جائے خود جاں سے بچھڑنے کا
کس کے ساتھ ایسا ربط بھی اچھا نہیں ہوتا
حقیقت پر گماں ، پھر اس گماں پر بھی گماں کرنا
یہ صورت ہو تو عکس افروز آئینہ نہیں ہوتا
ہمیں نظّارہ کرواتا ہے بے ساحل سمندر کا
وُہ آنسو جو ہماری آنکھ پر افشا نہیں ہوتا
ہم اپنے آپ کو اس شہر کا حاکم سمجھتے ہیں
ہمیشہ کی طرح جب جیب میں پیسہ نہیں ہوتا
لگا ہے قفل پر چہرے پر نامانوس چہرے کا
کہیں پہچان کا دروازہ ہم پر وا نہیں ہوتا
آفتاب اقبال شمیم