ٹیگ کے محفوظات: پیرہن

اُتری ہے چاند تک میں ترے پیرہن کی باس

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
آ دیکھ گُل بہ گُل ہے ترے تن بدن کی باس
اُتری ہے چاند تک میں ترے پیرہن کی باس
گل جس طرح رہے ہوں کبھی ہم نشینِخاک
مجھ میں بھی اِس طرح کی ہے تجھ سے ملن کی باس
ہاں ہاں مجھے جلائے جو تیرے فراق میں
ہر رگ میں جاگزیں ہے اُسی اِک اگن کی باس
یوں اب کے اشک یاد میں تیری بہا کیے
بارش برس کے عام کرے جیسے بن کی باس
کھٹکا یہی تو تجھ سے مجھے ابتدا سے تھا
جانا ں!تجھے بھی کھینچ نہ لے جائے دَھن کی باس
ماجد صدیقی

جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
کس مہر کا ہے عکس کہ تیرے بدن میں ہے
جو حرفِ لطف ہے وہی کنجِ دہن میں ہے
دیکھے سے جس کے سِحر زدہ ہو ہر اک نگاہ
سربستگی سی کیا یہ ترے پیرہن میں ہے
رنگینیاں تجھی میں چمن کے جمال کی
اور سادگی وہی کہ جو کوہ و دمن میں ہے
ہر اوجِ آرزُو ہے نثار اِس نشیب پر
رفعت نہ جانے کیا ترے چاہِ زقن میں ہے
خنکی تو خیر جسم کی رشکِ چمن سہی
حدّت بھی اس طرح کہ کہاں دشت دبن میں ہے
حسرت سے دیکھتی ہیں سوالی رُتیں تجھے
کیا تازگی یہ تیری نظر کے ختن میں ہے
اُمڈے ہے حرف حرف میں کس شہ پہ اِن دنوں
ماجدؔ یہ لطفِ خاص جو تیرے سخن میں ہے
ماجد صدیقی

پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 13
نسبت شجر شجر کو اگرچہ چمن سے ہے
پہچان موسموں کے دئیے پیرہن سے ہے
پہلو میں میرے جس کی طراوت ہے موج موج
یہ لب شگفتگی اُسی تازہ بدن سے ہے
ہر آن اشک اشک جھلکتی رہی تھی جو
دبکی ہوئی وہ آگ بھڑکنے کو تن سے ہے
کھٹکا ہی کیا بھنور کا، گُہرجُو ہوئے تو پھر
اب نت کا واسطہ اِسی رنج و محن سے ہے
تیرا رقیب ہو تو کوئی بس اِسی سے ہو
ماجدؔ تجھے جو ربط نگارِ سخن سے ہے
ماجد صدیقی

طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
کلی کلی کو لپک جس کے بانکپن کی ہے
طلب ہمیں بھی اُسی شوخ گلبدن کی ہے
ہزار بھنوروں سا اُس کا کریں احاطہ ہم
بدن میں اُس کے بھی خُو بُو بھرے چمن کی ہے
مقامِ شکر ہے وجدان مطمئن ہے مرا
یہی بہا، یہی قیمت مرے سخن کی ہے
ہر اک نظر پہ عیاں ہو بقدرِ حَظ طلبی
تمہیں یہ قید سی کاہے کو پیرہن کی ہے
کھُلی ہے دعوتِ نظارۂِ جمال یہاں
زباں دراز قباؤں کی ہر شکن کی ہے
ترا سلوک تو ماجدؔ بجا ہے جو کُچھ ہے
اُسے بھی جانچ کہ نیّت جو انجمن کی ہے
ماجد صدیقی

وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 60
خیال ہی میں رہا، زینتِ بدن نہ ہوا
وہ شوخ میری تمّنا کا پیرہن نہ ہوا
میانِ معرکہ نکلے ہیں مستِ ساز جو ہم
طوائفوں کا ہُوا مشغلہ، یہ رَن نہ ہُوا
نہ تھا قبول جو اُس کی نگاہ سے گرنا
بہم ہمیں کوئی پیرایۂ سخن نہ ہُوا
لُٹے شجر تو دِفینوں پہ کی گزر اِس نے
یہ دل زمینِ چمن تھا اجاڑ بن نہ ہُوا
تھا جیسی شاخ پہ اصرار بیٹھنے کو اُسے
نظر میں اپنی ہی پیدا وہ بانکپن نہ ہُوا
ہمیں وُہ لفظ ہے ماجدؔ مثالِ برگِ علیل
لبوں سے پھُوٹ کے جو زیبِ انجمن نہ ہوا
ماجد صدیقی

رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 75
گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
رات کی گم گشتگی جیسے بدن پر سج گئی
جاچکے موسم کی خوشبو ، صورتِ تحریرِ گل
یاد کے ملبوس کی اک اک شِکن پر سج گئی
میں تو شبنم تھی ہتھیلی پر ترے گُم ہو گئی
وہ ستارہ تھی سو تیرے پیرہن پر سج گئی
کُچھ تو شہرِ درد کا احوال آنکھوں نے کہا
اور کچھ گلیوں کی سفاکی تھکن پر سج گئی
پروین شاکر

بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 34
رقص میں رات ہے بدن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح
چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح
چاک ہے دامن قبائےِ بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح
زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح
مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح
بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
پروین شاکر

سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 69
صبر آگیا یہ کہہ کر دل سے غمِ وطن میں
سب پھول ہی نہیں کانٹے بھی تھے چمن میں
بلبل ہے گلستاں میں پروانہ انجمن میں
سب اپنے اپنے گھر ہیں اک ہم نہیں وطن میں
صیاد باغباں کی ہم سے کبھی نہ کھٹکی
جیسے رہے قفس میں ویسے رہے چمن میں
دامانِ آسماں کو تاروں سے کیا تعلق
ٹانکے لگے ہوئے ہیں بوسیدہ پیرہن میں
سنتے ہیں اب وہاں بھی چھائی ہوئی ہے ظلمت
ہم تو چراغ جلتے چھوڑ آئے تھے وطن میں
کچھ اتنے مختلف ہیں احباب جب اور اب کے
ہوتا ہے فرق جتنا رہبر میں راہزن میں
صیاد آج کل میں شاید قفس بدل دے
خوشبو بتا رہی ہے پھول آ گئے چمن میں
اے باغباں تجھے بھی اتنی خبر تو ہو گی
جب ہم چمن میں آئے کچھ بھی نہ تھا چمن میں
سونی پڑی ہے محفل، محفل میں جا کے بیٹھو
آتے نہیں پتنگے بے شمع انجمن میں
دیدار آخری پر روئے قمر وہ کیا کیا
یاد آئیں گی وفائیں منہ دیکھ کر کفن میں
قمر جلالوی

چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 277
حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمائش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمائش ہے
قد و گیسو میں ، قیس و کوہکن کی آزمائش ہے
جہاں ہم ہیں ، وہاں دار و رسن کی آزمائش ہے
کریں گے کوہکن کے حوصلے کا امتحاں آخر
ہنوز اُس خستہ کے نیروئے تن کی آزمائش ہے
نسیمِ مصر کو کیا پیرِ کنعاں کی ہوا خواہی!
اُسے یوسف کی بُوئے پیرہن کی آزمائش ہے
وہ آیا بزم میں ، دیکھو ، نہ کہیو پھر کہ ”غافل تھے“
شکیب و صبرِ اہلِ انجمن کی آزمائش ہے
رہے دل ہی میں تیر @، اچھا ، جگر کے پار ہو ، بہتر
غرض شِستِ بُتِ ناوک فگن کی آزمائش ہے
نہیں کچھ سُبحۂ و زُنّار کے پھندے میں گیرائی
وفاداری میں شیخ و برہمن کی آزمائش ہے
پڑا رہ ، اے دلِ وابستہ ! بیتابی سے کیا حاصل؟
مگر پھر تابِ زُلفِ پُرشکن کی آزمائش ہے
رگ و پَے میں جب اُترے زہرِ غم ، تب دیکھیے کیا ہو!
ابھی تو تلخئ کام و دہن کی آزمائش ہے
وہ آویں گے مِرے گھر ، وعدہ کیسا ، دیکھنا ، غالب!
نئے فتنوں میں اب چرخِ کُہن کی آزمائش@ ہے
@ نسخۂ مہرمیں "رہے گر دل میں تیر” @ اصل نسخوں میں آزمایش ہے لیکن ہم نے موجودہ املا کو ترجیح دے کر آزمائش لکھا ہے۔
مرزا اسد اللہ خان غالب

جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ

دیوان ششم غزل 1869
اب دل خزاں میں رہتا ہے جی کی رکن کے ساتھ
جانا ہی تھا ہمیں بھی بہار چمن کے ساتھ
کب تک خراب شہر میں اس کے پھرا کریں
اب جاویں یاں سے کوئی غریب الوطن کے ساتھ
ہم باغ سے خزاں میں گئے پر ہزار حیف
جانا بنا نہ اپنا گل و یاسمن کے ساتھ
لکنت سے کیا نکلتی نہیں اس کے منھ سے بات
چپکا ہے حرف یار کے شیریں دہن کے ساتھ
جی خواب مرگ لے گئی حسرت ہی میں ندان
اک شب نہ سوئے ہم کسو گل پیرہن کے ساتھ
جی پھٹ گیا ہے رشک سے چسپاں لباس کے
کیا تنگ جامہ لپٹا ہے اس کے بدن کے ساتھ
کیا جانیں لوگ عشق کا راز و نیاز میر
اک بات اس سے ہو گئی دو دو بچن کے ساتھ
میر تقی میر

سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر

دیوان سوم غزل 1134
پڑتی ہے آنکھ ہر دم جا کر صفاے تن پر
سو جی گئے تھے صدقے اس شوخ کے بدن پر
نام خدا نکالے کیا پائوں رفتہ رفتہ
تلواریں چلتیاں ہیں اس کے تو اب چلن پر
تو بھی تو ایک دن چل گلشن میں ساتھ میرے
کرتی ہے کیا تبختر بلبل گل چمن پر
دل جو بجا نہیں ہے وحشی سا میں پھروں ہوں
تم جائیو نہ ہرگز میرے دوانے پن پر
درکار عاشقوں کو کیا ہے جو اب نامہ
یک نام یار بس ہے لکھنا مرے کفن پر
تب ہی بھلے تھے جب تک حرف آشنا نہ تھے تم
لینے لگے لڑائی اب تو سخن سخن پر
گرد رخ اس کے پیدا خط کا غبار یوں ہے
گرد اک تنک سی بیٹھے جس رنگ یاسمن پر
کس طرح میرجی کا ہم توبہ کرنا مانیں
کل تک بھی داغ مے تھے سب ان کے پیرہن پر
میر تقی میر

اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے

دیوان دوم غزل 1039
کیا کہیے کلی سا وہ دہن ہے
اس میں بھی جو سوچیے سخن ہے
اس گل کو لگے ہے شاخ گل کب
یہ شاخچہ بندی چمن ہے
وابستگی مجھ سے شیشہ جاں کی
اس سنگ سے ہے کہ دل شکن ہے
کیا سہل گذرتی ہے جنوں سے
تحفہ ہم لوگوں کا چلن ہے
لطف اس کے بدن کا کچھ نہ پوچھو
کیا جانیے جان ہے کہ تن ہے
وے بند قبا کھلے تھے شاید
صد چاک گلوں کا پیرہن ہے
گہ دیر میں ہیں گہے حرم میں
اپنا تو یہی دوانہ پن ہے
ہم کشتۂ عشق ہیں ہمارا
میدان کی خاک ہی کفن ہے
کر میر کے حال پر ترحم
وہ شہر غریب و بے وطن ہے
میر تقی میر

دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام

دیوان دوم غزل 859
مشتاق ان لبوں کے ہیں سب مرد و زن تمام
دفتر لکھے گئے نہ ہوا پر سخن تمام
اب چھیڑیے جہاں وہیں گویا ہے درد سب
پھوڑا سا ہو گیا ہے ترے غم میں تن تمام
آیا تھا گرم صید وہ جیدھر سے دشت میں
دیکھا ادھر ہی گرتے ہیں اب تک ہرن تمام
آوارہ گردباد سے تھے ہم پہ شہر میں
کیا خاک میں ملا ہے یہ دیوانہ پن تمام
کیا لطف تن چھپا ہے مرے تنگ پوش کا
اگلا پڑے ہے جامے سے اس کا بدن تمام
اس کار دست بستہ پہ ریجھا نہ مدعی
کیونکر نہ کام اپنا کرے کوہکن تمام
اک گل زمیں نہ وقفے کے قابل نظر پڑی
دیکھا برنگ آب رواں یہ چمن تمام
نکلے ہیں گل کے رنگ گلستاں میں خاک سے
یہ وے ہیں اس کے عشق کے خونیں کفن تمام
تہ صاحبوں کی آئی نکل میکدے گئے
گروی تھے اہل صومعہ کے پیرہن تمام
میں خاک میں ملا نہ کروں کس طرح سفر
مجھ سے غبار رکھتے ہیں اہل وطن تمام
کچھ ہند ہی میں میر نہیں لوگ جیب چاک
ہے میرے ریختوں کا دوانہ دکن تمام
میر تقی میر

تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ

دیوان دوم غزل 790
دل کھو گیا ہوں میں یہیں دیوانہ پن کے بیچ
تم بھی تو دیکھو زلف شکن در شکن کے بیچ
کیا جانے دل میں چائو تھے کیا کیا دم وصال
مہجور اس کا تھا ہمہ حسرت کفن کے بیچ
کنعاں سے جا کے مصر میں یوسفؑ ہوا عزیز
عزت کسو کی ہوتی نہیں ہے وطن کے بیچ
سن اے جنوں کہ مجھ میں نہیں کچھ سواے دم
تار ایک رہ گیا ہے یہی پیرہن کے بیچ
سرسبز ہند ہی میں نہیں کچھ یہ ریختہ
ہے دھوم میرے شعر کی سارے دکھن کے بیچ
ستھرائی اور نازکی گلبرگ کی درست
پر ویسی بو کہاں کہ جو ہے اس بدن کے بیچ
بلبل خموش و لالہ و گل دونوں سرخ و زرد
شمشاد محو بے کلی اک نسترن کے بیچ
کل ہم بھی سیر باغ میں تھے ساتھ یار کے
دیکھا تو اور رنگ ہے سارے چمن کے بیچ
یا ساتھ غیر کے ہے تمھیں ویسی بات چیت
سو سو طرح کے لطف ہیں اک اک سخن کے بیچ
یا پاس میرے لگتی ہے چپ ایسی آن کر
گویا زباں نہیں ہے تمھاری دہن کے بیچ
فرہاد و قیس و میر یہ آوارگان عشق
یوں ہی گئے ہیں سب کی رہی من کی من کے بیچ
میر تقی میر

ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے

دیوان اول غزل 547
نہ تنہا داغ نو سینے پہ میرے اک چمن نکلے
ہر اک لخت جگر کے ساتھ سو زخم کہن نکلے
گماں کب تھا یہ پروانے پر اتنا شمع روئے گی
کہ مجلس میں سے جس کے اشک کے بھر بھر لگن نکلے
کہاں تک نازبرداری کروں شام غریباں کی
کہیں گرد سفر سے جلد بھی صبح وطن نکلے
جنوں ان شورشوں پر ہاتھ کی چالاکیاں ایسی
میں ضامن ہوں اگر ثابت بدن سے پیرہن نکلے
حرم میں میر جتنا بت پرستی پر ہے تو مائل
خدا ہی ہو تو اتنا بتکدے میں برہمن نکلے
میر تقی میر

سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے

دیوان اول غزل 473
کلی کہتے ہیں اس کا سا دہن ہے
سنا کریے کہ یہ بھی اک سخن ہے
ٹپکتے درد ہیں آنسو کی جاگہ
الٰہی چشم یا زخم کہن ہے
خبر لے پیر کنعاں کی کہ کچھ آج
نپٹ آوارہ بوے پیرہن ہے
نہیں دامن میں لالہ بے ستوں کے
کوئی دل داغ خون کوہکن ہے
شہادت گاہ ہے باغ زمانہ
کہ ہر گل اس میں اک خونیں کفن ہے
کروں کیا حسرت گل کو وگرنہ
دل پر داغ بھی اپنا چمن ہے
جو دے آرام ٹک آوارگی میر
تو شام غربت اک صبح وطن ہے
میر تقی میر

بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں

دیوان اول غزل 301
زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں
بندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں
نہ کھول اے یار میرا گور میں منھ
کہ حسرت ہے مری جاگہ کفن میں
رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتے
نہیں رہتا چراغ ایسی پون میں
جلے دل کی مصیبت اپنے سن کر
لگی ہے آگ سارے تن بدن میں
نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقی
مسافر ہی رہے اکثر وطن میں
خردمندی ہوئی زنجیر ورنہ
گذرتی خوب تھی دیوانہ پن میں
کہاں کے شمع و پروانے گئے مر
بہت آتش بجاں تھے اس چمن میں
کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوں
ہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں
گداز عشق میں بہ بھی گیا میر
یہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں
میر تقی میر

کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 69
کیوں نہیں ، ہم سے زمانے کے چلن اچھے ہی تھے
کیا گلہ کرتے کہ ہم کچھ عادتاً اچھے ہی تھے
کاٹیے اپنی صلیبوں کے اُٹھانے کی سزا
اور کہئیے، ہم سے قیس و کوہکن اچھے ہی تھے
تیرے پہلو کی گھنی نیندیں نہ راس آئیں ہمیں
ہجر کے وہ رت جگے اے جانِ من اچھے ہی تھے
یہ تصّور خود فریبی کے سوا کچھ بھی نہیں
آج کے باغات سے کل کے چمن اچھے ہی تھے
اس سلامت دامنی میں ربطِ گُل جاتا رہا
اپنے بوسیدہ دریدہ پیرہن اچھے ہی تھے
بعد ہم جلتے چراغوں کی طرح شاہد رہے
شوخ چہرے انجمن در انجمن اچھے ہی تھے
آ گئے کیوں عشرتِ یک جام کی خاطر یہاں
اِس مسرت سے تو غم ہائے وطن اچھے ہی تھے
آفتاب اقبال شمیم

ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 14
جب اک چراغِ راہگزر کی کرن پڑے
ہونٹوں کی لو لطیف حجابوں سے چھن پڑے
شاخِ ابد سے جھڑتے زمانوں کا روپ ہیں
یہ لوگ جن کے رخ پہ گمانِ چمن پڑے
تنہا گلی، ترے مرے قدموں کی چاپ، رات
ہرسو وہ خامشی کہ نہ تابِ سخن پڑے
یہ کس حسیں دیار کی ٹھنڈی ہوا چلی
ہر موجۂ خیال پہ صدہا شکن پڑے
جب دل کی سل پہ بج اٹھے نیندوں کا آبشار
نادیدہ پائلوں کی جھنک جھن جھنن پڑے
یہ چاندنی، یہ بھولی ہوئی چاہتوں کا دیس
گزروں تو رخ پہ رشحۂ عطرِ سمن پڑے
یہ کون ہے لبوں میں رسیلی رُتیں گھلیں
پلکوں کی اوٹ نیند میں گلگوں گگن پڑے
اک پل بھی کوئے دل میں نہ ٹھہرا وہ رہ نورد
اب جس کے نقشِ پا ہیں چمن در چمن پڑے
اِک جست اس طرف بھی غزالِ زمانہ رقص
رہ تیری دیکھتے ہیں خطا و ختن پڑے
جب انجمن تموّجِ صد گفتگو میں ہو
میری طرف بھی اک نگہِ کم سخن پڑے
صحرائے زندگی میں جدھر بھی قدم اٹھیں
رستے میں ایک آرزوؤں کا چمن پڑے
اس جلتی دھوپ میں یہ گھنے سایہ دار پیڑ
میں اپنی زندگی انہیں دے دوں جو بن پڑے
اے شاطرِ ازل ترے ہاتھوں کو چوم لوں
قرعے میں میرے نام جو دیوانہ پن پڑے
اے صبحِ دیرخیز انہیں آواز دے جو ہیں
اک شامِ زودخواب کے سکھ میں مگن پڑے
اک تم کہ مرگِ دل کے مسائل میں جی گئے
اک ہم کہ ہیں بہ کشمکشِ جان و تن پڑے
امجد طریقِ مے میں ہے یہ احتیاط شرط
اک داغ بھی کہیں نہ سرِ پیرہن پڑے
مجید امجد

کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 44
اس نے کیا دیکھا کہ ہر صحرا چمن لگنے لگا
کتنا اچھا اپنا من‘ اپنا بدن لگنے لگا
جنگلوں سے کون سا جھونکا لگا لایا اسے
دل کہ جگنو تھا چراغِ انجمن لگنے لگا
اس کے لکھے لفظ پھولوں کی طرح کھلتے رہے
روز ان آنکھوں میں بازارِ سمن لگنے لگا
اوّل اوّل اس سے کچھ حرف و نوا کرتے تھے ہم
رفتہ رفتہ رائیگاں کارِ سخن لگنے لگا
جب قریب آیا تو ہم خود سے جدا ہونے لگے
وہ حجابِ درمیانِ جان و تن لگنے لگا
ہم کہاں کے یوسفِ ثانی تھے لیکن اس کا ہاتھ
ایک شب ہم کو بلائے پیرہن لگنے لگا
تیرے وحشی نے گرفتاری سے بچنے کے لیے
رم کیا اتنا کہ آہوئے ختن لگنے لگا
ہم بڑے اہلِ خرد بنتے تھے یہ کیا ہو گیا
عقل کا ہر مشورہ دیوانہ پن لگنے لگا
کر گیا روشن ہمیں پھر سے کوئی بدرِ منیر
ہم تو سمجھے تھے کہ سورج کو گہن لگنے لگا
عرفان صدیقی

چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 22
منہ پھر نہ کر وطن کی طرف یوں وطن کو چھوڑ
چھوٹے جو بوئے گل کی طرح سے چمن کو چھوڑ
اے روح، کیا بدن میں پڑی ہے بدن کو چھوڑ
میلا بہت ہوا ہے، اب اس پیرہن کو چھوڑ
ہے روح کو ہوس کہ نہ چھوڑے بدن کا ساتھ
غربت پکارتی ہے کہ غافل، وطن کو چھوڑ
کہتی ہے بوئے گل سے صبا آ کے صبح دم
اب کچھ اِدھر اُدھر کی ہوا کھا، چمن کو چھوڑ
تلوار چل رہی ہے کہ یہ تیری چال ہے
اے بُت خدا کے واسطے اِس بانکپن کو چھوڑ
شاعر کو فِکر شعر میں راحت کہاں امیر
آرام چاہتا ہے تو مشقِ سخن کو چھوڑ
امیر مینائی