ٹیگ کے محفوظات: پیرس

پیرس

دن ڈھلا کوچہ و بازار میں صف بستہ ہوئیں

زرد رُو روشنیاں

ان میں ہر ایک کے کشکول سے برسیں رم جھم

اس بھرے شہر کی ناسودگیاں

دور پس منظرِ افلاک میں دھندلانے لگے

عظمتِ رفتہ کے نشاں

پیش منظر میں

کسی سایۂ دیوار سے لپٹا ہوا سایہ کوئی

دوسرے سائے کی موہوم سی امید لیے

روزمرہ کی طرح

زیرِ لب

شرحِ بےدردیِ ایّام کی تمہید لیے

اور کوئی اجنبی

ان روشنیوں سایوں سے کتراتا ہوا

اپنے بے خواب شبستاں کی طرف جاتا ہوا

(پیرس)

فیض احمد فیض

میرا کمرہ کرے سخن کس کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 574
کون درزوں سے آئے رس رس کے
میرا کمرہ کرے سخن کس کے
میں گلی میں سلگتا پھرتا ہوں
جل رہے ہیں چراغ مجلس کے
بازوئوں پر طلوع ہوتے ہی
کٹ گئے دونوں ہاتھ مفلس کے
کیا ہے میک اپ زدہ طوائف میں
جز ترے کیا ہیں رنگ پیرس کے
میں بھی شاید مُہِنجو داڑو ہوں
اب بھی سر بند راز ہیں جس کے
متحرک ہیں غم کی تصویریں
چل رہے ہیں بدن حوادث کے
دیکھ چھو لے مجھے ذرا اے دوست
دیکھنا پھر کرشمے پارس کے
وقت کے ساتھ میرے سینے پر
بڑھتے جاتے ہیں داغ نرگس کے
تم سمجھ ہی کہاں سکے منصور
مسئلے عشق میں ملوث کے
بنامِ میر
منصور آفاق