ٹیگ کے محفوظات: پیراک

آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 514
ذہن اللہ کا ادراک پہن کر آئے
آدمی خاک سے افلاک پہن کر آئے
لوگ تو ننگ لباسوں میں چھپا کر نکلے
ہم گریباں کے فقط چاک پہن کر آئے
فصلِ گل ہاتھ پہ رکھ کر کوئی تھل سے نکلا
ہم چمن سے خس و خاشاک پہن کر آئے
نور و سایہ کی کثافت سے منزہ تھے مگر
میری دنیا کی طرف خاک پہن کر آئے
ہم عمامہ و قبا روند کے باہر نکلے
شیخ دستاروں کے پیچاک پہن کر آئے
کیا ڈبوئے گی اسے موجۂ وحشت منصور
چشمِ گرداب جو پیراک پہن کر آئے
منصور آفاق