ٹیگ کے محفوظات: پیام

اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 36
اب مجھے دشمن سے کیا جب زیرِ دام آ ہی گیا
اک نشیمن تھا سو وہ بجلی کے کام آ ہی گیا
سن مآلِ سوزِ الفت جب یہ نام آ ہی گیا
شمع آخر جل بجھی پروانہ کام آ ہی گیا
طالبِ دیدار کا اصرار کام آ ہی گیا
سامنے کوئی بحسنِ انتظام آ ہی گیا
ہم نہ کہتے تھے کہ صبح شام کے وعدے نہ کر
اک مریضِ غم قریبِ صبح شام آ ہی گیا
کوششِ منزل سے تو اچھی رہی دیوانگی
چلتے پھرتے ان سے ملنے کا مقام آ ہی گیا
رازِ الفت مرنے والے نے چھپایا تو بہت
دم نکلتے وقت لب پر ان کا نام آ ہی گیا
کر دیا مشہور پردے میں تجھے زحمت نہ دی
آج کا ہونا ہمارا تیرے کام آ ہی گیا
جب اٹھا ساقی تو واعظ کی نہ کچھ بھی چل سکی
میری قسمت کی طرح گردش میں جام آ ہی گیا
حسن کو بھی عشق کی ضد رکھنی پڑتی ہے کبھی
طور پر موسیٰ سے ملنے کا پیام آ ہی گیا
دیر تک بابِ حرم پر رک کے اک مجبورِ عشق
سوئے بت خانہ خدا کا لے کے نام آ ہی گیا
رات بھر مانگی دعا ان کے نہ جانے کی قمر
صبح کا تارہ مگر لے کر پیام آ ہی گیا
قمر جلالوی

نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 88
بہ رہنِ شرم ہے با وصفِ شوخی اہتمام اس کا
نگیں میں جوں شرارِ سنگ نا پیدا ہے نام اس کا
مِسی آلود ہے مُہرنوازش نامہ ظاہر ہے
کہ داغِ آرزوئے بوسہ دیتا ہے پیام اس کا
بامیّدِ نگاہِ خاص ہوں محمل کشِ حسرت
مبادا ہو عناں گیرِ تغافل لطفِ عام اس کا
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا

دیوان سوم غزل 1067
اعجاز منھ تکے ہے ترے لب کے کام کا
کیا ذکر یاں مسیح علیہ السلام کا
رقعہ ہمیں جو آوے ہے سو تیر میں بندھا
کیا دیجیے جواب اجل کے پیام کا
کچھ سدھ سنبھالتے ہی رکھی ان نے پگڑی پھیر
ممنون میں نہیں ہوں جواب سلام کا
منھ دیکھو بدر کا کہ تری روکشی کرے
تو یوں ہی نام لے ہے کسو ناتمام کا
نوبت ہے اپنی جب سے یہی کوچ کاہے شور
بجنا سنا نہیں ہے کبھو یاں مقام کا
کنج لب اس کا دیکھ کے خاموش رہ گئے
یعنی کہ تھا مقام یہ ختم کلام کا
اس رو و مو کے محو کو کیا روزگار سے
جلوہ ہی کچھ جدا ہے مرے صبح و شام کا
صاحب ہو مار ڈالو مجھے تم وگرنہ کچھ
جز عاشقی گناہ نہیں ہے غلام کا
کب اقتدا ہو مجھ سے کسو کی سواے میر
بندہ ہوں دل سے میں اسی سید امام کا
میر تقی میر

کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا

دیوان سوم غزل 1060
ان دلبروں سے رابطہ کرنا ہے کام کیا
کر اک سلام پوچھنا صاحب کا نام کیا
حیرت ہے کھولیں چشم تماشا کہاں کہاں
حسن و جمال ویسا ہے اس کا خرام کیا
کی اک نگاہ گرم جہاں ان سے مل گئے
عاشق کو دلبروں سے سلام و پیام کیا
شکر خدا کہ سر نہ فرو لائے ہم کہیں
کیا جانیں سجدہ کہتے ہیں کس کو سلام کیا
اس کنج لب پہ چپکے ہوئے منھ کو رکھ کے ہم
دلچسپ اس مقام میں حرف و کلام کیا
جس جاے اس کے چہرے سے کرتے ہیں گفتگو
مرآت و ماہ و گل کا ہے اس جا مقام کیا
کہتا ہے کون بدر میں نقصان کچھ رہا
پر منھ کھلے پہ اس کے ہے ماہ تمام کیا
یہ جانوں ہوں کہ دل کو ہے اس رو ومو سے لاگ
کیا جانوں پیش آوے ہے اب صبح و شام کیا
تسبیح تک تو میر نے رکھا کلال کے
وقت نماز اب بھی ہوئے تھے امام کیا
میر تقی میر

آئو کہیں کہ رہتے ہیں رفتہ تمام روز

دیوان دوم غزل 820
کب تک بھلا بتائوگے یوں صبح و شام روز
آئو کہیں کہ رہتے ہیں رفتہ تمام روز
وہ سرکشی سے گو متوجہ نہ ہو ادھر
ہم عاجزانہ کرتے ہیں اس کو سلام روز
گہ رنج کھینچنے کو کہے گہ ہلاک کو
پہنچے ہے ہم کو اس سے نیا اک پیام روز
منظور بندگی نہیں میری تو کیا کروں
حاضر ہے اپنی اور سے یوں تو غلام روز
برسوں ہوئے کہ رات کو ٹک بیٹھتے نہیں
رہتے ہیں تم کو میر جی کیا ایسے کام روز
میر تقی میر

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے

دیوان اول غزل 608
جس جگہ دور جام ہوتا ہے
واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے
ہم تو اک حرف کے نہیں ممنون
کیسا خط و پیام ہوتا ہے
تیغ ناکاموں پر نہ ہر دم کھینچ
اک کرشمے میں کام ہوتا ہے
پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش
روز ان کا بھی شام ہوتا ہے
زخم بن غم بن اور غصہ بن
اپنا کھانا حرام ہوتا ہے
شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان
جس پہ شب احتلام ہوتا ہے
قتل کو میں کہا تو اٹھ بولا
آج کل صبح و شام ہوتا ہے
آخر آئوں گا نعش پر اب آ
کہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے
میر صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر
جیسے کوئی غلام ہوتا ہے
میر تقی میر

دامن ہے منھ پہ ابر نمط صبح و شام یاں

دیوان اول غزل 289
بے روے و زلف یار ہے رونے سے کام یاں
دامن ہے منھ پہ ابر نمط صبح و شام یاں
آوازہ ہی جہاں میں ہمارا سنا کرو
عنقا کے طور زیست ہے اپنی بنام یاں
وصف دہن سے اس کے نہ آگے قلم چلے
یعنی کیا ہے خامے نے ختم کلام یاں
غالب یہ ہے کہ موسم خط واں قریب ہے
آنے لگا ہے متصل اس کا پیام یاں
مت کھا فریب عجز عزیزان حال کا
پنہاں کیے ہیں خاک میں یاروں نے دام یاں
کوئی ہوا نہ دست بسر شہر حسن میں
شاید نہیں ہے رسم جواب سلام یاں
ناکام رہنے ہی کا تمھیں غم ہے آج میر
بہتوں کے کام ہو گئے ہیں کل تمام یاں
میر تقی میر

غرض اس شوخ نے بھی کام کیا

دیوان اول غزل 132
کام پل میں مرا تمام کیا
غرض اس شوخ نے بھی کام کیا
سرو و شمشاد خاک میں مل گئے
تونے گلشن میں کیوں خرام کیا
سعی طوف حرم نہ کی ہرگز
آستاں پر ترے مقام کیا
تیرے کوچے کے رہنے والوں نے
یہیں سے کعبے کو سلام کیا
اس کے عیارپن نے میرے تئیں
خادم و بندہ و غلام کیا
حال بد میں مرے بتنگ آکر
آپ کو سب میں نیک نام کیا
دختر رز سے کیا تھا میرے تئیں
شیخ کی ضد پہ میں حرام کیا
ہو گیا دل مرا تبرک جب
ورد یہ قطعۂ پیامؔ کیا
’’دلی کے کج کلاہ لڑکوں نے
کام عشاق کا تمام کیا
کوئی عاشق نظر نہیں آتا
ٹوپی والوں نے قتل عام کیا‘‘
عشق خوباں کو میر میں اپنا
قبلہ و کعبہ و امام کیا
میر تقی میر

پڑھوں سلام تو خوشبو کلام سے آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 244
سخن میں موسم گل اُن کے نام سے آئے
پڑھوں سلام تو خوشبو کلام سے آئے
شگفت اسم محمد کا وقت ہے دل میں
یہاں نسیم سحر احترام سے آئے
وہی سراج منیر آخری ستارۂ غیب
اجالے سب اُسی ماہ تمام سے آئے
وہ جس کو نان جویں بخش دیں اُسی کے لیے
خراج مملکت روم و شام سے آئے
انہیں سے ہو دل و جاں پر سکینیوں کا نزول
قرار اُن کے ہی فیضان عام سے آئے
انہیں کے نام سے قائم رہے وجود مرا
نمو کی تاب انہیں کے پیام سے آئے
میں اُن کا حرف ثنا اپنی دھڑکنوں میں سنوں
وہی صدا مرے دیوار و بام سے آئے
یہ بے کسان گرفتار سب انہیں کے طفیل
نکل کے حلقۂ زنجیر و دام سے آئے
عرفان صدیقی