ٹیگ کے محفوظات: پیالی

تیرے جگ کی ریت نرالی

کوئی ہے داتا کوئی سوالی
تیرے جگ کی ریت نرالی
موتی رولے ساحل ساحل
پھر بھی ہے دامن خالی خالی
ان کی قسمت دُودھ کے ساگر
میرا حصہ زہر کی پیالی
بادِ صبا ہے زخم سراپا
خار اُگے ہیں ڈالی ڈالی
دَھن کے رُوپہلی تہہ خانوں پر
پھن لہرائے ناگن کالی
میں نے جس کے عیب چھپائے
اسی نے میری بات اُچھالی
اس کے علاوہ ہم کیا بولیں
تم نے دل کی بات چُرا لی
شکیب جلالی

چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 311
سبز سر چھیڑ خشک سالی میں
چوڑیاں ڈال مردہ ڈالی میں
کوئی دریا گرا تھا پچھلی شب
تیری کچی گلی کی نالی میں
لمس ہے تیرے گرم ہونٹوں کا
ویٹرس… چائے کی پیالی میں
جو ابھی ہونا ہے پڑوسن نے
واقعہ لکھ دیا ہے گالی میں
اپنے دانتوں سے کس لیے ناخن
کاٹتا ہوں میں بے خیالی میں
وہ چہکتی ہے میرے مصرعے مِیں
میں دمکتا ہے اس کی بالی میں
بھوک بہکی ہوئی تھی برسوں کی
اور چاول تھے گرم ، تھالی میں
گم ہے دونوں جہاں کی رعنائی
سبزروضے کی جالی جالی میں
عمر ساری گزار دی منصور
خواہشِ ساعتِ وصالی میں
منصور آفاق