ٹیگ کے محفوظات: پیارے

جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو

احمد فراز ۔ غزل نمبر 50
ہم سے کہیں کچھ دوست ہمارے مت لکھو
جان اگر پیاری ہے پیارے مت لکھو
حاکم کی تلوار مقدس ہوتی ہے
حاکم کی تلوار کے بارے مت لکھو
کہتے ہیں یہ دار و رسن کا موسم ہے
جو بھی جس کی گردن مارے، مت لکھو
لوگ الہام کو بھی الحاد سمجھتے ہیں
جو دل پر وجدان اتارے مت لکھو
وہ لکھو بس جو بھی امیرِ شہر کہے
جو کہتے ہیں درد کے مارے مت لکھو
خود منصف پا بستہ ہیں لب بستہ ہیں
کون کہاں اب عرض گزارے مت لکھو
کچھ اعزاز رسیدہ ہم سے کہتے ہیں
اپنی بیاض میں نام ہمارے مت لکھو
دل کہتا ہے کھل کر سچی بات کہو
اور لفظوں کے بیچ ستارے مت لکھو
احمد فراز

رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 104
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
رنگ ہی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے
ایک موہوم تمّنا کے سہارے نکلے
چاند کے ساتھ ترے ہجر کے مارے نکلے
کوئی موسم ہو مگر شانِ خم و پیچ وہی
رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے
رقص جن کا ہمیں ساحل سے بھگا لایا تھا
وہ بھنور آنکھ تک آئے تو کنارے نکلے
وہ تو جاں لے کے بھی ویسا ہی سبک نام رہا
عشق کے باب میں سب جُرم ہمارے نکلے
عشق دریا ہے، جو تیرے وہ تہی دست رہے
وہ جو ڈوبے تھے، کسی اور کنارے نکلے
دھوپ کی رُت میں کوئی چھاؤں اُگاتا کیسے
شاخ پھوٹی تھی کہ ہمسایوں میں آرے نکلے
پروین شاکر

نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے

دیوان پنجم غزل 1760
اٹھکھیلیوں سے چلتے طفلی میں جان مارے
نام خدا ہوا ہے اب وہ جوان بارے
اپنی نیاز تم سے اب تک بتاں وہی ہے
تم ہو خداے باطل ہم بندے ہیں تمھارے
ٹھہرے ہیں ہم تو مجرم ٹک پیار کرکے تم کو
تم سے بھی کوئی پوچھے تم کیوں ہوئے پیارے
کل میں جو سیر میں تھا کیا پھول پھول بیٹھی
بلبل لیے ہے گویا گلزار سب اجارے
کرتا ہے ابر نیساں پر در دہن صدف کا
منھ جو کوئی پسارے ایسے کنے پسارے
اے کاش غور سے وہ دیکھے کبھو ٹک آکر
سینے کے زخم اب تو غائر ہوئے ہیں سارے
چپکا چلا گیا میں آزردہ دل چمن سے
کس کو دماغ اتنا بلبل کو جو پکارے
میدان عشق میں سے چڑھ گھوڑے کون نکلا
مارے گئے سپاہی جتنے ہوئے اتارے
جو مر رہے ہیں اس پر ان کا نہیں ٹھکانا
کیا جانیے کہاں وے پھرتے ہیں مارے مارے
کیا برچھیاں چلائیں آہوں نے نیم شب کی
رخنے ہیں آسماں میں سارے نہیں ستارے
ہوتی ہے صبح جو یاں ہے شام سے بھی بدتر
کیا کہیے میر خوبی ایام کی ہمارے
میر تقی میر

سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح

دیوان چہارم غزل 1375
مر گیا فرہاد جیسے مرتے بارے اس طرح
سر کوئی پتھر سے مارے بھی تو مارے اس طرح
ٹکڑے ٹکڑے کر دکھایا آپ کو میں نے اسے
یعنی جی مارا کرو آئندہ پیارے اس طرح
مست و بے خود ہر طرف پہروں پھرا کرتے ہو تم
حیف ہے آتے نہیں ٹک گھر ہمارے اس طرح
عشق کی کہیے طرح کیا وامق و فرہاد و قیس
بے کسانہ مر گئے وے لوگ سارے اس طرح
جو عرق تحریک میں اس رشک مہ کے منھ پہ ہے
میر کب ہووے ہیں گرم جلوہ تارے اس طرح
میر تقی میر

سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے

دیوان سوم غزل 1277
اے نوخط ایک دن ہے جھگڑا ہمارے تیرے
سبزی بہت لگی ہے منھ سے پیارے تیرے
حیران حال عاشق ہو گی اجل پہنچ کر
کیا حال یاں رہا ہے ظلموں کے مارے تیرے
ہر بار دیکھے ہے تو ایدھر ہی آہ شب نے
کچھ تو اثر کیا ہے جی میں بھی بارے تیرے
باغ و بہار و نکہت گل پھول سب ہی تو ہے
یاروں کی ہیں نظر میں یہ رنگ سارے تیرے
الماس میر تجھ کو کیا عشق نے دیا ہے
لخت جگر گرے ہیں جوں لعل پارے تیرے
میر تقی میر

تو یہی آج کل سدھارے ہم

دیوان سوم غزل 1168
جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
تو یہی آج کل سدھارے ہم
مرتے رہتے تھے اس پہ یوں پر اب
جا لگے گور کے کنارے ہم
دن گذرتا ہے دم شماری میں
شب کو رہتے ہیں گنتے تارے ہم
ہے مروت سے اپنی وحشت دور
انس رکھتے ہیں تم سے پیارے ہم
زندگی بار دوش آج ہے یاں
دیکھیں گے کل جو ہوں گے بارے ہم
جا چکی بازی یعنی مرتے ہیں
جیتے تم یہ قمار ہارے ہم
میر آئوگے آپ میں بھی کبھو
سخت مشتاق ہیں تمھارے ہم
میر تقی میر

گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب

دیوان سوم غزل 1105
طاقت تعب کی غم میں تمھارے نہیں ہے اب
گویا کہ جان جسم میں سارے نہیں ہے اب
کل کچھ صبا ہوئی تھی گل افشاں قفس میں بھی
وہ بے کلی تو جان کو بارے نہیں ہے اب
جیتے تو لاگ پلکوں کی اس کی کہیں گے ہم
کچھ ہوش ہم کو چھڑیوں کے مارے نہیں ہے اب
زردی چہرہ اب تو سفیدی کو کھنچ گئی
وہ رنگ آگے کا سا پیارے نہیں ہے اب
مسکن جہاں تھا دل زدہ مسکیں کا ہم تو واں
کل دیر میر میر پکارے نہیں ہے اب
میر تقی میر

حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے

دیوان دوم غزل 967
اک شور ہورہا ہے خوں ریزی میں ہمارے
حیرت سے ہم تو چپ ہیں کچھ تم بھی بولو پیارے
زخم اس کے ہاتھ کے جو سینے پہ ہیں نمایاں
چھاتی لگے رہیں گے زیر زمیں بھی سارے
ہیں بدمزاج خوباں پر کس قدر ہیں دلکش
پائے کہاں گلوں نے یہ مکھڑے پیارے پیارے
بیٹھیں ہیں رونے کو تو دریا ہی رو اٹھیں ہیں
جوش و خروش یہ تھے تب ہم لگے کنارے
لاتے نہیں ہو مطلق سر تم فرو خدا سے
یہ ناز خوبرویاں بندے ہیں ہم تمھارے
کوئی تو ماہ پارہ اس بھی رواق میں ہے
چشمک زنی میں شب کو یوں ہی نہیں ہیں تارے
لگ کر گلے نہ سوئے اس منھ پہ منھ نہ رکھا
جی سے گئے ہم آخر ان حسرتوں کے مارے
بیتابی ہے دنوں کو بے خوابی ہے شبوں کو
آرام و صبر دونوں مدت ہوئی سدھارے
آفاق میں جو ہوتے اہل کرم تو سنتے
ہم برسوں رعد آسا بیتاب ہو پکارے
جل بجھیے اب تو بہتر مانند برق خاطف
جوں ابر کس کے آگے دامن کوئی پسارے
ہم نے تو عاشقی میں کھویا ہے جان کو بھی
صدقے ہیں میر جی کے وے ڈھونڈتے ہیں وارے
میر تقی میر

ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے

دیوان اول غزل 633
مرے رنگ شکستہ پہ ہنسے ہیں مردماں سارے
ہوا ہوں زعفراں کا کھیت تیرے عشق میں پیارے
عرق گرتا ہے تیری زلف سے اور دل سہمتا ہے
کہ شب تاریک ہے اور ٹوٹتے ہیں دم بدم تارے
میر تقی میر

جان کو اپنی گل مہتاب انگارے ہوئے

دیوان اول غزل 544
شب گئے تھے باغ میں ہم ظلم کے مارے ہوئے
جان کو اپنی گل مہتاب انگارے ہوئے
گور پر میری پس از مدت قدم رنجہ کیا
خاک میں مجھ کو ملاکر مہرباں بارے ہوئے
آستینیں رکھتے رکھتے دیدئہ خونبار پر
حلق بسمل کی طرح لوہو کے فوارے ہوئے
وعدے ہیں سارے خلافی حرف ہیں یکسر فریب
تم لڑکپن میں کہاں سے ایسے عیارے ہوئے
پھرتے پھرتے عاقبت آنکھیں ہماری مند گئیں
سو گئے بیہوش تھے ہم راہ کے ہارے ہوئے
پیار کرنے کا جو خوباں ہم پہ رکھتے ہیں گناہ
ان سے بھی تو پوچھتے تم اتنے کیوں پیارے ہوئے
تم جو ہم سے مل چلے ٹک رشک سب کرنے لگے
مہرباں جتنے تھے اپنے مدعی سارے ہوئے
آج میرے خون پر اصرار ہر دم ہے تمھیں
آئے ہو کیا جانیے تم کس کے سنکارے ہوئے
لیتے کروٹ ہل گئے جو کان کے موتی ترے
شرم سے سر در گریباں صبح کے تارے ہوئے
استخواں ہی رہ گئے تھے یاں دم خوں ریز میر
دانتے پڑ کر نیمچے اس شوخ کے آرے ہوئے
میر تقی میر

موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے

دیوان اول غزل 479
زندگی ہوتی ہے اپنی غم کے مارے دیکھیے
موند لیں آنکھیں ادھر سے تم نے پیارے دیکھیے
لخت دل کب تک الٰہی چشم سے ٹپکا کریں
خاک میں تا چند ایسے لعل پارے دیکھیے
ہو چکا روز جزا اب اے شہیدان وفا
چونکتے ہیں خون خفتہ کب تمھارے دیکھیے
راہ دور عشق میں اب تو رکھا ہم نے قدم
رفتہ رفتہ پیش کیا آتا ہے بارے دیکھیے
سینۂ مجروح بھی قابل ہوا ہے سیر کے
ایک دن تو آن کر یہ زخم سارے دیکھیے
خنجر بیداد کو کیا دیکھتے ہو دمبدم
چشم سے انصاف کی سینے ہمارے دیکھیے
ایک خوں ہو بہ گیا دو روتے ہی روتے گئے
دیدہ و دل ہو گئے ہیں سب کنارے دیکھیے
شست و شو کا اس کی پانی جمع ہوکر مہ بنا
اور منھ دھونے کے چھینٹوں سے ستارے دیکھیے
رہ گئے سوتے کے سوتے کارواں جاتا رہا
ہم تو میر اس رہ کے خوابیدہ ہیں ہارے دیکھیے
میر تقی میر