ٹیگ کے محفوظات: پیادہ

دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے

زیاں جگر کا سہی یہ جو شغلِ بادہ ہے
دل و نظر کے لیے اِس میں کچھ افادہ ہے
دکھائی دی ہے جھلک اُس کی ایک مدت بعد
یہ خواب میرے لیے خواب سے زیادہ ہے
ملائے گا یہ کسی شاہراہ سے ہم کو
مٹا مٹا سا جو قدموں میں اپنے جادہ ہے
یہی بچائے گا تم دیکھنا مری بازی
بِساط پر جو یہ ناچیز سا پیادہ ہے
یہ سوچ کر وہ مری بات کاٹ دیتے ہیں
کہ ہو نہ ہو یہ کسی بات کا اعادہ ہے
یہاں رہیں گے وہ میرے حریف کے ہمراہ
اُنہیں گماں ہے مرا دل بہت کشادہ ہے
وہ اہلِ بزم کی رنگیں نوائی اپنی جگہ
ہزار رنگ لیے میرا حرفِ سادہ ہے
اگر خدا نے نکالا بُتوں کے چکّر سے
طوافِ کعبہ کا اب کے برس اِرادہ ہے
باصر کاظمی

کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ

دیوان ششم غزل 1874
مکتوب دیر پہنچا پر دو طرف سے سادہ
کیا شوخ طبع ہے وہ پرکار سادہ سادہ
جب میکدے گئے ہیں پابوس ہی کیا ہے
ہے مغبچہ ہمارا گویا کہ پیرزادہ
سائے میں تاک کے ہم خوش بیٹھے ہیں اب اپنا
اس سلسلے میں بیعت کرنے کا ہے ارادہ
دل اس قدر نہ رکتا گھبراتا جی نہ اپنا
چھاتی لگا جو رہتا وہ سینۂ کشادہ
شیشہ کنار جو ہے پنبہ دہان و رعنا
میناے مے چمن میں اک سرو ہے پیادہ
پڑتی ہیں اس کی آنکھیں چاروں طرف نشے میں
جوں راہ میں بہکتے ہوں ترک مست بادہ
جو شہرہ نامور تھے یارب کہاں گئے وے
آباد کم رہا ہے یاں کوئی خانوادہ
مت دم کشی کر اتنی ہنگام صبح بلبل
فریاد خونچکاں ہے منھ سے ترے زیادہ
کیا خاک سے اٹھوں میں نقش قدم سا بیٹھا
اب مٹ ہی جانا میرا ہے پیش پا فتادہ
حالات عشق رنج و درد و بلا مصیبت
دل دادہ میر جانے کیا جانے کوئی ندادہ
میر تقی میر