ٹیگ کے محفوظات: پہنچانے

دکھ ابھی تازہ ہیں اوروں سے بچھڑ جانے کے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 283
رائیگاں ہو گئے لمحے ترے پاس آنے کے
دکھ ابھی تازہ ہیں اوروں سے بچھڑ جانے کے
آنکھ سورج کی کرن دیکھ کے ڈرنے والی
خواب پیڑوں کی گھنی چھاؤں میں سستانے کے
دل ہو یا آنکھ بس اک رات کا ڈیرا اپنا
ہم تو بنجارے، نہ بستی کے، نہ ویرانے کے
لوٹ کر آئے تو سنسان لگا شہر تمام
اب کبھی اس کو سفر پر نہیں پہنچانے کے
عرفان صدیقی