ٹیگ کے محفوظات: پہنچائیں

کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 108
جور سے باز آئے پر باز آئیں کیا
کہتے ہیں ہم تجھ کو منہ دکھلائیں کیا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
لاگ ہو تو اس کو ہم سمجھیں لگاؤ
جب نہ ہو کچھ بھی تو دھوکا کھائیں کیا
ہو لیے کیوں نامہ بر کے ساتھ ساتھ
یا رب اپنے خط کو ہم پہنچائیں کیا
موجِ خوں سر سے گزر ہی کیوں نہ جائے
آستانِ یار سے اٹھ جائیں کیا
عمر بھر دیکھا کیے مرنے کی راہ
مر گیے پر دیکھیے دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ہرگز نہ ایدھر آئیں گے خلق خدا ملک خدا

دیوان پنجم غزل 1557
اب یاں سے ہم اٹھ جائیں گے خلق خدا ملک خدا
ہرگز نہ ایدھر آئیں گے خلق خدا ملک خدا
مطلب اگر یاں گم ہوا اندیشے کی جاگہ نہیں
جاکر کہیں کچھ پائیں گے خلق خدا ملک خدا
دل میں نہ جانے یہ کوئی ہم کھانے کو دیں ہیں انھیں
جو ہے مقدر کھائیں گے خلق خدا ملک خدا
گو لکھنؤ ویراں ہوا ہم اور آبادی میں جا
مقسوم اپنا لائیں گے خلق خدا ملک خدا
اب دی پری گذری گئی ہم آجکل بے خانماں
کیا غیر ازیں ٹھہرائیں گے خلق خدا ملک خدا
اس بستی سے اٹھ جائیں گے درویشوں کی کیا مشورت
وے بھی یہی فرمائیں گے خلق خدا ملک خدا
تو میر ہووے گا جہاں امرقضا کے تابعاں
روزی تجھے پہنچائیں گے خلق خدا ملک خدا
میر تقی میر