ٹیگ کے محفوظات: پہنائے

اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 10
کیلنڈر کا ہر ہندسہ سمجھائے مجھے
اپنے تساہل پر کیوں شرم نہ آئے مجھے
تاج کسی لاوارث شہ کا، نگری میں
کون اُترتے دم ہی، بھلا پہنائے مجھے
درس نہیں ہوں، میں ہوں اکائی زینے کی
وقت کا بالک کاہے کو دُہرائے مجھے
میں کہ جسے اِک ایک تمنّا عاق کرے
کون سخی ہو ایسا، جو اپنائے مجھے
لُو کا بھبھوکا ماجدؔ ماں کا ہاتھ نہیں
بے دم ہوتا دیکھ کے جو سہلائے مجھے
ماجد صدیقی

دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 191
ہم تری بزم سے بازار میں جب لائے گئے
دور تک ساتھ لپٹے ہوئے کچھ سائے گئے
ہائے یہ شوق کہ ہر لب پہ تھا پیغام سفر
وائے یہ وہم کہ ہر گام پہ ٹھہرائے گئے
گرچہ ہر بزم میں اک قصہ ترا چلتا تھا
پھر بھی کچھ قصّے کسی طرح نہ دہرائے گئے
روز ہم اک نئے احساس کی تصویر بنے
روز ہم اک نئی دیوار میں چنوائے گئے
جس جگہ کھوئے ہیں اپنوں کی تمنا میں ہم
وہیں غیروں کی روایات میں ہم پائے گئے
کیا وفا کرکے ہوئے سب کی نظر میں مجرم
ایک عرصہ ترے کوچے میں نہ ہم آئے گئے
ہر قدم حلقۂ صد دام چمن تھا باقیؔ
ہار زنجیر کی صورت کبھی پہنائے گئے
باقی صدیقی

راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 29
ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے
زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے
دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے
تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے
بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے
بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے
باقی صدیقی