ٹیگ کے محفوظات: پہلو

کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو

ویرانوں میں اے جگنو
کِس کو ڈھونڈ رہا ہے تو
اُن بے معنی باتوں کے
اب کیا کیا نکلے پہلو
خون جلایا ساری رات
پائے مٹھی بھر آنسو
کتنی تازہ ہے اب تک
بیتے لمحوں کی خوشبو
مدت میں جا کر پایا
تیری یادوں پر قابو
باصرِؔ اتنے غموں کے ساتھ
کیسے خوش رہتا ہے تو
باصر کاظمی

یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
شکن کیا تھی، سرِ ابرو، نہ جانے
یہ دل اُس کا یہی پہلو نہ جانے
سماعت پر کسی حرفِ گراں کے
اُبل پڑتے ہیں کیوں آنسو، نہ جانے
لہو کس گھاٹ پر اُس کا بہے گا
یہ نکتہ تشنہ لب آہو نہ جانے
وُہی رُت، حبس تھا جس سے کہے یہ
چلیں کیوں آندھیاں ہر سُو، نہ جانے
الاؤ دل کے جانے اِک زمانہ
مگر یہ بات وُہ گلرُو نہ جانے
یہی نا آگہی خاصہ ہے اُس کا
کوئی فرعون اپنی خُو نہ جانے
یہاں مجرم ہے جو بھی منکسر ہے
یہی اِک بات ماجدؔ تُو نہ جانے
ماجد صدیقی

کون ہے بے قابو مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 113
کرتا ہے ہا ہُو مجھ میں
کون ہے بے قابو مجھ میں
یادیں ہیں یا بلوا ہے
چلتے ہیں چاقو مجھ میں
لے ڈوبی جو ناؤ مجھے
تھا اس کا چپو مجھ میں
جانے کن کے چہرے ہیں
بے چشم و ابرو مجھ میں
ہیں یہ کس کے تیغ و علم
بے دست و بازو مجھ میں
جانے کس کی آنکھوں سے
بہتے ہیں آنسو مجھ میں
ڈھونڈتی ہے اک آہو کو
اک مادہ آہو مجھ میں
آدم ، ابلیس اور خدا
کوئی نہیں یکسو مجھ میں
میں تو ایک جہنم ہوں
کیوں رہتا ہے تو مجھ میں
جون کہیں موجود نہیں
میرا ہم پہلو مجھ میں
اب بھی بہاراں مژدہ ہے
ایک خزاں خوشبو مجھ میں
جون ایلیا

برات عاشقاں بر شاخ آہو

دیوان ششم غزل 1866
لکھے ہے کچھ تو کج کر چشم و ابرو
برات عاشقاں بر شاخ آہو
گیا وہ ساتھ سوتے لے کے کروٹ
لگا بستر سے پھر اپنا نہ پہلو
اڑے ہے خاک سی سارے چمن میں
پھرا ہے آہ کس کا واں سے گل رو
جدھر پھرتے تھے چنتے پھول ہنستے
ادھر ٹپکے ہیں اب تک میرے آنسو
جدا ہوتے ہی گل خنداں ہوا میر
کیا تھا اس کا گل تکیہ جو بازو
میر تقی میر

کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا

دیوان دوم غزل 713
پھریے کب تک شہر میں اب سوے صحرا رو کیا
کام اپنا اس جنوں میں ہم نے بھی یک سو کیا
عشق نے کیا کیا تصرف یاں کیے ہیں آج کل
چشم کو پانی کیا سب دل کو سب لوہو کیا
نکہت خوش اس کے پنڈے کی سی آتی ہے مجھے
اس سبب گل کو چمن کے دیر میں نے بو کیا
کام میں قدرت کے کچھ بولا نہیں جاتا ہے ہائے
خوبرو اس کو کیا لیکن بہت بدخو کیا
جانا اس آرام گہ سے ہے بعینہ بس یہی
جیسے سوتے سوتے ایدھر سے ادھر پہلو کیا
عزلتی اسلام کے کیا کیا پھرے ہیں جیب چاک
تونے مائل کیوں ادھر کو گوشۂ ابرو کیا
وہ اتوکش کا مجھی پر کیا ہے سرگرم جفا
مارے تلواروں کے ان نے بہتوں کو اتو کیا
ہاتھ پر رکھ ہاتھ اب وہ دو قدم چلتا نہیں
جن نے بالش خواب کا برسوں مرا بازو کیا
پھول نرگس کا لیے بھیچک کھڑا تھا راہ میں
کس کی چشم پرفسوں نے میر کو جادو کیا
میر تقی میر

رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 60
چاپ گرتے پتوں کی، مل رہی ہے خوشبو میں
رنگ کچھ ادھورے سے، تھرتھرائے آنسو میں
میرے پاؤں کے نیچے دلدلیں ہیں سایوں کی
شام آ پڑی شاید پربتوں کے پہلو میں
وصف دیوتاؤں کے، ڈھونڈتے ہو کیا مجھ میں
کون تاب سورج کی، پا سکا ہے جگنو میں
عدل ہے یہ آمر کا، اس طرح اسے سہہ جا
آندھیاں تُلیں جیسے برگ کے ترازو میں
تالیاں بجا کر رو، دیکھ اس تماشے کو
المیے کا ہیرو ہے، مسخرے کے قابو میں
سہہ رہا ہوں برسوں سے یورشیں زمانے کی
لوچ ہے شجر کی سی میرے دست و بازو میں
آفتاب اقبال شمیم

پوچھئے دور کی آواز کا جادو ہم سے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 271
ہم سخن ہوتا ہے صحرا کا وہ آہو ہم سے
پوچھئے دور کی آواز کا جادو ہم سے
لیے پھرتی تھی کسی شہرِ فراموشی میں
رات پھر کھیل رہی تھی تری خوشبو ہم سے
اپنے لفظوں سے اسے ہم نے سنبھلنے نہ دیا
ہو گئے دل میں کئی تیر ترازو ہم سے
کیا جھلکتاہے یہ جاناں تری خاموشی میں
حرفِ اقرار تو کہتا بھی نہیں توُ ہم سے
ہم کبھی دھیان سے اس کے نہ اترنے پائیں
دائم آباد رہے حسن کا پہلو ہم سے
عرفان صدیقی

نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 360
طلسمِ مرگ کے جادومیں محوِ استراحت ہیں
نگر زنبیلِ ظلمت رُو میں محو استراحت ہیں
شبیں چنگاریوں کے بستروں میں خواب بنتی ہیں
اندھیرے راکھ کے پہلو میں محوِ استراحت ہیں
خموشی کا بدن ہے چادرِ باردو کے نیچے
کراہیں درد کے تالو میں محوِ استراحت ہیں
پہن کر سرسراہٹ موت کی ، پاگل ہوا چپ ہے
فضائیں خون کی خوشبو میں محوِ استراحت ہیں
کہیں سویا ہواہے زخم کے تلچھٹ میں پچھلا چاند
ستارے آخری آنسو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ہو گا شعاعوں کے لہو سے آئینہ خانہ
ابھی شیرِ خدا دارو میں محوِ استراحت ہیں
ابھی ابھریں گے بامِ صبحِ مشرق پر ابھی منصور
مرے سورج ابھی جگنو میں محو استراحت ہیں
منصور آفاق

مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 149
میرا اعجاز نہیں رنگ کے جادو کی طرح
مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح
ذکر آیا جو کہیں بزمِ سخن میں میرا
چشمِ جاناں سے نکل آیا میں آنسو کی طرح
اچھے موسم کی دعا مانگی تو موجود تھا میں
خشک آنکھوں میں کہیں رنج کے پہلو کی طرح
دل نہ تھا دامنِ گل پوش میں آخر میں بھی
اڑ گیا پیڑ سے اک روز پکھیرو کی طرح
اس کی دہلیزسے طالب کو دعا بھی نہ ملی
سر پٹختا ہی رہاموجِ لبِ جو کی طرح
میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح
پھر ہرے ہو گئے اس دل میں تری یاد کے زخم
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح
قتل کرتا ہے تو آداب بجا لاتا ہے
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح
پھر سنائی دی انا الحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے آوازِ صبا ہو کی طرح
کشمکش ایک حریفانہ سی اُس میں بھی ہے
کشمکش مجھ میں بھی تفریقِ من و تُو کی طرح
شہر میں ہوتا تو پھر پوچھتے عاشق کا مزاج
دشت میں قیس چہکتا پھرے آہو کی طرح
اس کی آسودہ نفاست پہ ہے قربان فرانس
کیسی کمخواب سی نازک سی ہے اردو کی طرح
یہ شہادت کا عمل ہے کہ قلم کے وارث
مر کے بھی مرتے نہیں وارث و باہو کی طرح
وقت، سچائی ،خدا ساتھ تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
منصور آفاق

ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 72
سین ستو میں پڑ گیا ہو گا
ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا
گر پڑا ہے افق کے شعلوں میں
دل پکھیرو میں پڑ گیا ہو گا
بے خیالی میں چھو گئے تھے لب
نیل بازو میں پڑ گیا ہو گا
اس طرف جھک گئی ہے سب دنیا
کچھ ترازو میں پڑ گیا ہو گا
ایک گجرے کے ٹوٹ جانے سے
داغ خوشبو میں پڑ گیا ہو گا
ایسا لگتا ہے عمر کا دریا
ایک آنسو میں پڑ گیا ہو گا
کتنی مشکل سے روکی ہے گالی
چھالا تالو میں پڑ گیا ہو گا
ہجر کی رات شور تھا کوئی
درد پہلو میں پڑ گیا ہو گا
شام سے جا گرا تھا کچھ باہر
نور جگنو میں پڑ گیا ہو گا
ہاتھ چھلکا نہیں یونہی منصور
چاند دارو میں پڑ گیا ہو گا
منصور آفاق

تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 241
زیست پر میں ہوں گراں یا تو ہے
تشنۂ شوق ہر اک پہلو ہے
خشک پتوں پہ سرشک شبنم
اور کیا حاصل رنگ و بو ہے
وقت منہ دیکھ رہا ہے سب کا
کوئی غافل کوئی حالہ جو ہے
جانے کب دیدۂ تر تک پہنچے
دل بھی اک جلتا ہوا آنسو ہے
زخم بھر جائیں گے بھرتے بھرتے
زندگی سب سے بڑا جادو ہے
کس کی آمد ہے چمن میں باقیؔ
اجنبی اجنبی سی خوشبو ہے
باقی صدیقی