ٹیگ کے محفوظات: پھی

پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے

شبِ گزشتہ کے زخم سی کے
پھر آج بیٹھے ہیں زہر پی کے
ہمارے دِل کی جو رونقیں تھیں
وہ خواب کیسے تھے زِندگی کے
فضائے محفل! یہ کیا ستم ہے
نہ وہ ہمارا! نہ ہم کسی کے
ندامتوں کے یہ داغ دل پر
یہ وار احساسِ کمتری کے
نکل کے آنکھوں سے بس گئے ہیں
افق پہ سارے یہ رنگ پھیکے
گزشت آنچہ گزشت یاؔور
اٹھاؤ نغمے کوئی خوشی کے
یاور ماجد

مُطربہ چھیڑ دے خوشی کے گیت

لے اُڑی ہے صَبا کلی کے گیت
مُطربہ چھیڑ دے خوشی کے گیت
ہم سے پہلے کہاں تھا سوز و گداز
ساز بے سُر تھے اور پھیکے گیت
نیند میں زہر گھول دیتے ہیں
رات کو ایک اجنبی کے گیت
موج رہ رہ کے سر کو دُھنتی ہے
کتنے سندر ہیں جل پری کے گیت
تم تو سرگوشیوں میں کھوئے رہے
کب سُنے تم نے خامُشی کے گیت
موت کے سامنے بھی لہرا کر
ہم نے گائے ہیں زندگی کے گیت
جس کا دُکھ درد تم نہ بانٹ سکے
بُھول بھی جاؤ اُس کوی کے گیت
گونجتے ہیں، شکیبؔ، خوابوں میں
آنے والی کسی صدی کے گیت
شکیب جلالی

پھر بھی ہمیں کیوں جانے زعم خودی کا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
ماتھوں پر تو کچھ الٹا ہی ٹیکا ہے
پھر بھی ہمیں کیوں جانے زعم خودی کا ہے
بُعد کا باعث فرق ہے اُس کی نیّت کا
ورنہ اُس سے کیسا وَیر شرِیکا ہے
جن کو اپنا زور جتانا آ جائے
اِس دنیا میں ہر اعزاز اُنہی کا ہے
پچھلے برس بھی آندھی پیڑ اُجاڑ گئی
اب کی بہار بھی رنگ ثمر کا پھیکا ہے
جس کو تم معمولی شخص سمجھتے ہو
وہ ماجدؔ ہے اگلا عہد اُسی کا ہے
ماجد صدیقی