ٹیگ کے محفوظات: پھیلاتا

جابر جابر اپنا عِجز دکھاتا رہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نیکوں کی فہرست میں نام لکھاتا رہ
جابر جابر اپنا عِجز دکھاتا رہ
ہے تیرا مقدور، سرِ دربار یہی
چانٹے کھا اور گالوں کو سہلاتا رہ
پھیر سیاہی محرومی کے اُکروں پر
درس یہی، ہر آتی پل دُہراتا رہ
بندہ ہے تو اور بھلا کیا کام ترا
ہاتھ خداؤں کے آگے پھیلاتا رہ
ختم نہ ہونے دے اپنی یہ نادانی
بھینس کے آگے ماجدؔ بین بجاتا رہ
ماجد صدیقی

پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 312
دریچوں سے سیہ پردوں کو سرکاتا ہوا میں
پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں
وہی ہوں میں مجھے پہچان دن کی روشنی میں
وہی تیرے مسلسل خواب میں آتا ہوا میں
کسی منہ زور تتلی کا تعاقب کر رہا ہوں
یہ خوشبو کی طرح پھولوں میں چکراتا ہوا میں
تمنا ہے رہوں جاگیر میں اپنی ہمیشہ
زمیں پر گفتگو کے پھول مہکاتا ہوا میں
جہاں کوکس لئے منصوردیتا ہوں دکھائی
کہیں آتا ہوا میں اور کہیں جاتا ہوا میں
منصور آفاق