ٹیگ کے محفوظات: پھیلائے

چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا

حُسنِ فردا‘ غمِ امروز سے ضَو پائے گا
چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا
آندھیوں میں بھی فروزاں ہے چراغِ اُمّید
خاک ڈالے سے یہ شُعلہ کہیں بُجھ جائے گا
کُو بہ کُو دام بچھے ہوں کہ کڑکتی ہو کماں
طائرِ دل‘ پرِ پرواز تو پھیلائے گا
توڑ کر حلقہِ شب‘ ڈال کے تاروں پہ کمند
آدمی عرصہِ آفاق پہ چھا جائے گا
ہم بھی دو چار قدم چل کے اگر بیٹھ گئے
کون پھر وقت کی رفتار کو ٹہرائے گا
راہ میں جس کی‘ دیا خونِ دل و جاں ہم نے
وہ حَسیں دَور بھی آئے گا‘ ضرور آئے گا
شکیب جلالی

آندھی کب آداب اپنائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 73
آئے اور کہرام مچائے
آندھی کب آداب اپنائے
ہم پہ نگاہ پڑی ہے رُت کی
اُڑتی ریت ہمیں سہلائے
دکھلائیں ہر قد کو بڑھا کے
پچھلے پہر کے بڑھتے سائے
راہی ہمیشہ راہ نکالے
سانپ ہمیشہ پھن پھیلائے
بندہ خوشی خوشی کو پا کر
بچوں ایسی پینگ جُھلائے
وقت کی اَن جانی چالوں سے
کوہ بدن کا کُھرتا جائے
ماجد پائے رواں کیوں ٹھہرے
جب تک سانس نہ رُکنے پائے
ماجد صدیقی

جلتی شمع بجھائے کون

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 88
دل کی آس مٹائے کون
جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون
جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں
دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن
ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ
پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی