ٹیگ کے محفوظات: پھیلائیے

یہ بھی اِک رسمِ جنوں کیونکر نہ اب دُہرائیے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
تیر ہی چاہے تنے کے ساتھ لگ کر کھائیے
یہ بھی اِک رسمِ جنوں کیونکر نہ اب دُہرائیے
کر بھی کیا لے گا کہ دل بچّہ ہے اِک بے آسرا
جھڑکئے یا دے کے میٹھی گولیاں بہلائیے
چاہئے کچھ شغل، دشمن تو کبھی کا جا چکا
نفرتوں کا زہر آپس ہی میں اب پھیلائیے
قبر تک جائے گا تکمیلِ تمنا کا خیال
یعنی انگوٹھا یہی اب چوستے سو جائیے
بیٹھئے بھی تو سخن نا آشنا لوگوں کے پاس
گوش و لب گھر سے نکلتے ہی کہیں رکھ جائیے
ماجد صدیقی

عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 7
میری تربت پر اگر آئیے گا
عمرِ رفتہ کو بھی بُلوائیے گا
سب کی نظروں پہ نہ چڑھیے اتنا
دیکھیے دل سے اُتر جائیے گا
آئیے نزع میں بالیں پہ مری
کوئی دم بیٹھ کے اُٹھ جائیے گا
وصل میں بوسۂ لب دے کے کہا
مُنہ سے کچھ اور نہ فرمائیے گا
ہاتھ میں نے جو بڑھایا تو کہا
بس، بہت پاؤں‌ نہ پھیلائیے گا
زہر کھانے کو کہا، تو، بولے
ہم جلا لیں گے جو مر جائیے گا
حسرتیں نزع میں‌بولیں مُجھ سے
چھوڑ کر ہم کو کہاں جائیے گا
آپ سنیے تو کہانی دل کی
نیند آ جائے گی سو جائیے گا
اتنی گھر جانے کی جلدی کیا ہے؟
بیٹھیے ، جائیے گا، جائیے گا
کہتے ہیں، کہہ تو دیا، آئیں گے
اب یہ کیا چِڑ ہے کہ کب آئیے گا
ڈبڈبائے مرے آنسو تو کہا
روئیے گا تو ہنسے جائیے گا
رات اپنی ہے ٹھہرئیے تو ذرا
آئیے بیٹھئے، گھر جائیے گا
جس طرح عمر گزرتی ہے امیر
آپ بھی یونہی گزر جائیے گا
امیر مینائی