ٹیگ کے محفوظات: پھوڑ

وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
وہ پیڑ پیڑ پہ آکاس بیل چھوڑ گیا
سہاگ جن سے تھا منسوب لطفِ فردا کا
کلائیاں ہیں کچھ ایسی بھی وہ مروڑ گیا
اُسے عزیز تھا پرچار اپنے باطل کا
سو جو بھی چشم تھی حق بِیں، اُسے وہ پھوڑ گیا
جفا پرست وہ ایسا تھا جو خلافِ ستم
دلوں میں عزم تھے جتنے اُنہیں جھنجھوڑ گیا
رہا بھی اُس سے تو بس لین دین نفرت کا
سو،لے کے لاکھ، ہمیں دے کے وہ کروڑ گیا
ماجد صدیقی

پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ

دیوان اول غزل 230
آشوب دیکھ چشم تری سر رہے ہیں جوڑ
پلکوں کی صف سے بھیڑیں گئیں منھ کو موڑ موڑ
لاکھوں جتن کیے نہ ہوا ضبط گریہ لیک
سنتے ہی نام آنکھ سے آنسو گرے کڑوڑ
زخم دروں سے میرے نہ ٹک بے خبر رہو
اب ضبط گریہ سے ہے ادھر ہی کو سب نچوڑ
گرمی سے بر شگال کی پروا ہے کیا ہمیں
برسوں رہی ہے جان کے رکنے کی یاں مروڑ
بلبل کی اور چشم مروت سے دیکھ ٹک
بے درد یوں چمن میں کسو پھول کو نہ توڑ
کچھ کوہکن ہی سے نہیں تازہ ہوا یہ کام
بہتیرے عاشقی میں موئے سر کو پھوڑ پھوڑ
بے طاقتی سے میر لگے چھوٹنے پران
ظالم خیال دیکھنے کا اس کے اب تو چھوڑ
میر تقی میر

پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 282
تم ایسے لوگوں کا رستہ میں چھوڑ دیتا ہوں
پر اپنے ساتھ گلی کو بھی موڑ دیتا ہوں
میں اس مقام پہ پہنچا ہوں عشق میں کہ جہاں
فراق و وصل کو آپس میں جوڑ دیتا ہوں
مجھے مزاج کی وحشت نے فتح مند رکھا
کہ ہار جاؤں تو سر اپنا پھوڑ دیتا ہوں
ابھی دھڑکتا ہے دل بھیڑیے کے سینے میں
ابھی غزال پکڑتا ہوں ، چھوڑ دیتا ہوں
ڈرا ہوا ہوں میں اپنے مزاج سے منصور
جو میری ہو نہ سکے، شے وہ توڑ دیتا ہوں
منصور آفاق