ٹیگ کے محفوظات: پھوٹ

کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر

دیوان سوم غزل 1131
پیس مارا دل غموں نے کوٹ کر
کیا اجاڑا اس نگر کو لوٹ کر
ابر سے آشوب ایسا کب اٹھا
خوب روئے دیدئہ تر پھوٹ کر
کیوں گریباں کو پھروں پھاڑے نہ میر
دامن اس کا تو گیا ہے چھوٹ کر
میر تقی میر

خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے

دیوان دوم غزل 1021
کبھو میر اس طرف آکر جو چھاتی کوٹ جاتا ہے
خدا شاہد ہے اپنا تو کلیجا ٹوٹ جاتا ہے
خرابی دل کی کیا انبوہ درد و غم سے پوچھو ہو
وہی حالت ہے جیسے شہر لشکر لوٹ جاتا ہے
شکست اس رنگ آئی بے خودی عشق میں دل پر
نشے میں مست سے جیسے کہ شیشہ پھوٹ جاتا ہے
نہ یوں ہووے کہ اٹھ جائوں کہ ہے افسوس کی جاگہ
جب ایسا طائر خوش لہجہ پھنس کر چھوٹ جاتا ہے
نہیں کچھ عقل میں آتا کہ دیوانہ سا میر ایدھر
کبھو آتا جو ہے کیدھر کو مارے زوٹ جاتا ہے
میر تقی میر

بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 394
تاریخ ساز ’’لوٹ‘‘ کوئی دیکھتا نہیں
بندوق کے سلوٹ کوئی دیکھتا نہیں
رقصاں ہیں ایڑیوں کی دھنوں پر تمام لوگ
کالے سیاہ بوٹ کوئی دیکھتا نہیں
انصاف گاہ ! تیرے ترازو کے آس پاس
اتنا سفید جھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
چکلالہ چھاؤنی کی طرف ہے تمام رش
اسلام آباد روٹ کوئی دیکھتا نہیں
طاقت کے آس پاس حسیناؤں کا ہجوم
میرا عوامی سوٹ کوئی دیکھتا نہیں
سب دیکھتے ہیں میری نئی کار کی طرف
چہرے کی ٹوٹ پھوٹ کوئی دیکھتا نہیں
منصور آفاق

اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 234
رات کے بوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اک غلط روٹ کی تم تو تاریخ ہو
میں نے سمجھا تھا تم کو محافظ مگر
اک بڑی لوٹ کی تم تو تاریخ ہو
تم لٹیروں کا سفاک سرکش گروہ
ظلم کی جھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
اپنی بربادیوں کی کہانی ہو تم
ٹوٹ کی پھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
کتنے منصور تم نے کئے قتل ہیں
جرم میں چھوٹ کی تم تو تاریخ ہو
منصور آفاق