ٹیگ کے محفوظات: پھلتی

مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 139
سانس ان کے مریضِ حسرت کی رک رک کے چلی جاتی ہے
مایوس نظر ہے در کی طرف اور جان نکلی جاتی ہے
چہرے سے سرکتی جاتی ہے زلف ان کی خواب کے عالم میں
وہ ہیں کہ ابھی تک ہوش نہیں اور شب ہے کہ ڈھلی جاتی ہے
اللہ خبر بجلی کو نہ ہو گلچیں کی نگاہِ بد نہ پڑے
جس شاخ پہ تنکے رکھے ہیں وہ پھولتی پھلتی جاتی ہے
عارض پہ نمایاں خال ہوئے پھر سبزۂ خط آغاز ہوا
قرآں تو حقیقت میں ہے وہی تفسیر بدلتی جاتی ہے
توہینِ محبت بھی نہ رہی وہ جورو ستم بھی چھوٹ گئے
پہلے کی بہ نسبت حسن کی اب ہر بات بدلتی جاتی ہے
لاج اپنی مسیحا نے رکھ لی مرنے نہ دیا بیماروں کو
جو موت نہ ٹلنے والی تھی وہ موت بھی ٹلتی جاتی ہے
ہے بزمِ جہاں میں ناممکن بے عشق سلامت حسن رہے
پروانے تو جل کر خاک ہوئے اب شمع بھی جلتی جاتی ہے
شکوہ بھی اگر میں کرتا ہوں تو جورِ فلک کا کرتا ہوں
بے وجہ قمر تاروں کی نظر کیوں مجھ سے بدلتی جاتی ہے
قمر جلالوی

نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 235
قدم اُٹھے تو گلی سے گلی نکلتی رہی
نظر دیئے کی طرح چوکھٹوں پہ جلتی رہی
کچھ اَیسی تیز نہ تھی اُس کے اِنتظار کی آنچ
یہ زندگی ہی مری برف تھی پگھلتی رہی
سروں کے پھول سرِ نوکِ نیزہ ہنستے رہے
یہ فصل سوکھی ہوئی ٹہنیوں پہ پھلتی رہی
ہتھیلیوں نے بچایا بہت چراغوں کو
مگر ہوا ہی عجب زاویے بدلتی رہی
دیارِ دِل میں کبھی صبح کا گجر نہ بجا
بس ایک دَرد کی شب ساری عمر ڈھلتی رہی
میں اَپنے وقت سے آگے نکل گیا ہوتا
مگر زمیں بھی مرے ساتھ ساتھ چلتی رہی
عرفان صدیقی