ٹیگ کے محفوظات: پھلتا

نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 85
پاؤں پاؤں ڈولتا، اور سنبھلتا آدمی
نیلی چھتری تھام کے تار پہ چلتا آدمی
آتی جاتی کثرتیں کارگہِ ایّام کی
قالب جیسی روح پہ، جسم بدلتا آدمی
جسم دہکتا کوئلہ پھونک بناتی سانس سے
عمر کے آتش دان کی آگ میں جلتا آدمی
مٹی کے باغات میں تیز ہوا کا شور ہے
گر ہی نہ جائے شاخ سے پھولتا پھلتا آدمی
آفتاب اقبال شمیم

ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 60
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
ہم یہ سمجھے حادثہ ٹلتا رہا
آپ تو اک بات کہہ کر چل دئیے
رات بھر بستر مرا جلتا رہا
ایک غم سے کتنے غم پیدا ہوئے
دل ہمارا پھولتا پھلتا رہا
زندگی کی آس بھی کیا آس ہے
موج دریا پر دیا جلتا رہا
اک نظر تنکا بنی کچھ اسی طرح
دیر تک آنکھیں کوئی ملتا رہا
یہ نشاں کیسے ہیں باقیؔ دیکھنا
کون دل کی راکھ پر چلتا رہا
باقی صدیقی