ٹیگ کے محفوظات: پھرسوا

آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 626
ہر قدم تلوار پر ہے ، ہر نگہ نیزے پہ ہے
آگ میں انسانیت ہے کربلا نیزے پہ ہے
دوپہر ہے موت کی گرمی ہے کالی رات میں
ظلم کا مصنوعی سورج پھرسوا نیزے پہ ہے
جاہلوں کے شہر میں ہے بے دماغوں کا خرام
علم کی دستار مٹی میں ، قبا نیزے پہ ہے
میں اسی کے راستے پر چل رہا ہوں دشت میں
ہاں وہی جس شخص کی حمدو ثنا نیزے پہ ہے
ہے محمدﷺکے نواسے سی شبیہ منصور کچھ
دیکھ کچھ نزدیک جا کر، دیکھ کیا نیزے پہ ہے
منصور آفاق