ٹیگ کے محفوظات: پھاڑ

جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دیوان اول غزل 213
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہوسکے
پچھتائوگے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
یارب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرے
تسکین دے کہ بیٹھ رہوں پائوں گاڑ کر
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہے
آئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کو
تنکے کو جو دکھادے ہے پل میں پہاڑ کر
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سے
کچھ ڈھیر کرچکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میر
بہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
میر تقی میر

صحیح ہوا ہے نہ ہو گا بگاڑ عمروں کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 15
یہی کہ سہم اٹھاؤ اجاڑ عمروں کا
صحیح ہوا ہے نہ ہو گا بگاڑ عمروں کا
تجھے پتہ تو چلے اصل واقعہ کیا ہے
غبار چہرۂ ہستی سے جھاڑ عمروں کا
پڑی ہیں بیڑیاں پاؤں میں اپنے ہونے کی
رواں ہوں پشت پہ لا دے پہاڑ عمروں کا
سفر بھی ہونے نہ ہونے کا اک تسلسل ہے
یہاں لگا، وہاں خیمہ اکھاڑ عمروں کا
یہاں سے دیکھ تماشا ہجوم رفتہ کا
بدن سے جامۂ نازیب پھاڑ عمروں کا
نہ ہو یہ وقت پیامِ بقا کے آنے کا!
لہذا کھول کے رکھو کواڑ عمروں کا
آفتاب اقبال شمیم

رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 575
پتھر کے رتجگے میری پلکوں میں گاڑ کے
رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے
اتنی کوئی زیادہ مسافت نہیں مگر
مشکل مزاج ہوتے ہیں رستے پہاڑ کے
آنکھوں سے خدو خال نکالے نہ جا سکے
ہر چند پھینک دی تری تصویر پھاڑ کے
یہ بھولپن نہیں ہے کہ سورج کے آس پاس
رکھے گئے ہیں دائرے کانٹوں کی باڑ کے
مٹی میں مل گئی ہے تمنا ملاپ کی
کچھ اور گر پڑے ہیں کنارے دراڑ کے
بے مہر موسموں کو نہیں جانتا ابھی
خوش ہے جو سائباں سے تعلق بگاڑ کے
دو چار دن لکھی تھی جدائی کی سرگزشت
منصور ڈھیر لگ گئے گھر میں کباڑ کے
منصور آفاق

کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 527
چیزوں سے گرد جھاڑتے، لان کی باڑ کاٹتے
کیسے نکلتے زخم سے، کیسے پہاڑ کاٹتے
پچھلی گلی کی نیند سے آتے طبیب خواب کے
ہجر کی فصد کھولتے، درد کی ناڑ کاٹتے
چلتیں گھڑی کی سوئیاں ، اپنے بدلتے روز و شب
دن کا ملال ٹوٹتا، شب کا بگاڑ کاٹتے
قیدی نظام زر کے ہیں دست بریدہ لوگ ہم
دانتوں سے کیسے لوہے کے بھاری کواڑ کاٹتے
قوسِ قزح بچھا کے ہم کنجِ صبا میں بیٹھ کر
دیدئہ صادقین سے تھور کا جھاڑ کاٹتے
یاد کے راٹ وائلر، ہوتے اگر نہ آس پاس
بھیڑے دشتِ درد کے جسم کو پھاڑ کاٹتے
حسنِ طلب کے شہر میں گنتے بدن کے لوتھڑے
تیغِ سکوتِ مرگ سے من کا کراڑ کاٹتے
بیج نئے وصال کے بوتے کہ ہم سیہ نصیب
کشتِ خرابِ عمر سے پچھلا کباڑ کاٹتے
لاتے کہیں سے ہم کوئی ابرِ حیات کھنچ کر
شاخِ خزاں تراشتے، دکھ کا اجاڑ کاٹتے
آتی تری ہوا اگر اپنی گلی کے موڑ تک
چیت کے صحنِ سبز میں عمر کا ہاڑ کاٹتے؟
اچھے دنوں کو سوچتے دونوں کہیں پہ بیٹھ کر
ہاتھوں کو تھام تھام کے لمبی دیہاڑ کاٹتے
منصور آفاق