ٹیگ کے محفوظات: پکھیرو

مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 149
میرا اعجاز نہیں رنگ کے جادو کی طرح
مجھ کو محسوس کرودوستو خوشبو کی طرح
ذکر آیا جو کہیں بزمِ سخن میں میرا
چشمِ جاناں سے نکل آیا میں آنسو کی طرح
اچھے موسم کی دعا مانگی تو موجود تھا میں
خشک آنکھوں میں کہیں رنج کے پہلو کی طرح
دل نہ تھا دامنِ گل پوش میں آخر میں بھی
اڑ گیا پیڑ سے اک روز پکھیرو کی طرح
اس کی دہلیزسے طالب کو دعا بھی نہ ملی
سر پٹختا ہی رہاموجِ لبِ جو کی طرح
میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح
پھر ہرے ہو گئے اس دل میں تری یاد کے زخم
پھر چلی سرد ہوا میگھ کے دارو کی طرح
قتل کرتا ہے تو آداب بجا لاتا ہے
یار ظالم نہیں چنگیز و ہلاکو کی طرح
پھر سنائی دی انا الحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے آوازِ صبا ہو کی طرح
کشمکش ایک حریفانہ سی اُس میں بھی ہے
کشمکش مجھ میں بھی تفریقِ من و تُو کی طرح
شہر میں ہوتا تو پھر پوچھتے عاشق کا مزاج
دشت میں قیس چہکتا پھرے آہو کی طرح
اس کی آسودہ نفاست پہ ہے قربان فرانس
کیسی کمخواب سی نازک سی ہے اردو کی طرح
یہ شہادت کا عمل ہے کہ قلم کے وارث
مر کے بھی مرتے نہیں وارث و باہو کی طرح
وقت، سچائی ،خدا ساتھ تینوں میرے
میں ہوں منصور مشیت کے ترازو کی طرح
منصور آفاق

ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 72
سین ستو میں پڑ گیا ہو گا
ملک اردو میں پڑ گیا ہو گا
گر پڑا ہے افق کے شعلوں میں
دل پکھیرو میں پڑ گیا ہو گا
بے خیالی میں چھو گئے تھے لب
نیل بازو میں پڑ گیا ہو گا
اس طرف جھک گئی ہے سب دنیا
کچھ ترازو میں پڑ گیا ہو گا
ایک گجرے کے ٹوٹ جانے سے
داغ خوشبو میں پڑ گیا ہو گا
ایسا لگتا ہے عمر کا دریا
ایک آنسو میں پڑ گیا ہو گا
کتنی مشکل سے روکی ہے گالی
چھالا تالو میں پڑ گیا ہو گا
ہجر کی رات شور تھا کوئی
درد پہلو میں پڑ گیا ہو گا
شام سے جا گرا تھا کچھ باہر
نور جگنو میں پڑ گیا ہو گا
ہاتھ چھلکا نہیں یونہی منصور
چاند دارو میں پڑ گیا ہو گا
منصور آفاق