ٹیگ کے محفوظات: پکارا

کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے

دریائے محبّت میں کشتی تھی تند تھا دھارا کیا کرتے
کوشش تَو بہت کی چل نہ سکا کچھ زور ہمارا کیا کرتے
طوفانِ بَلا تھا زوروں پر موجَوں میں تلاطم بڑھتا تھا
اُور ٹوٹتا جاتا تھا اپنا ایک ایک سہارا کیا کرتے
ساحل کی تمنّا کیا کرتے موجَوں پہ سفینہ چھوڑ دیا
کشتی تھی شکستہ طوفاں میں معدوم کنارا کیا کرتے
پابندِ قَفَس ہم گلشن میں اُور شاخ پہ تھا دستِ گل چیں
خود ٹوٹتے دیکھا تھا اپنی قسمت کا ستارا کیا کرتے
سنبھلا نہ مریضِ الفت جب، کام آ نہ سکی جب کوئی دَوا
پھر بہرِ شرابِ دید آخر اُن ہی کو پُکارا کیا کرتے
برباد رہے، بدنام ہُوئے، دنیا سے شکستہ دل نکلے
اَبنائے زمانہ کو ضامنؔ اَب اَور گوارا کیا کرتے
ضامن جعفری

اور اِدھر عشق کہ یہ بات سَمَجھتا ہی نہیں

حُسن کو جراتِ اِظہارِ تمنّا ہی نہیں
اور اِدھر عشق کہ یہ بات سَمَجھتا ہی نہیں
اُس سے کہنا کہ ذَرا غَور سے دیکھے مُجھ کو
مُجھ کو وہ دُکھ تَو نہیں جِس کا مداوا ہی نہیں
تُم بھی اِظہارِ محبّت کو ہَوَس جانوگے
میں نے حَیرَت ہے اِس انداز سے سوچا ہی نہیں
گُفتُگو کرنے کو اَب اُس سے زباں کون سی ہو
میرا لہجہ مِرے اَلفاظ سَمَجھتا ہی نہیں
مُنتَظِر سَب تھے کہ احسان کریں گے مُجھ پَر
اہلِ ساحِل کو مَگَر میں نے پُکارا ہی نہیں
ناگواری کا ذرا سا بھی جو خَدشہ ہوتا
حالِ دِل آپ سے واللہ میں کہتا ہی نہیں
آنکھ رَکھتا ہُوں ، نَظَر رَکھتا ہُوں ، لیکن ضامنؔ
حاصِلِ حُسنِ نَظَر کوئی تماشا ہی نہیں
ضامن جعفری

ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں

آغاز میں نہ کوئی سہارا ہے بعد میں
ہم دِل زَدوں نے دل ہی کو مارا ہے بعد میں
ہر دَور نے ہمیَں نظر انداز بھی کِیا
ہر دَور نے ہمیِں کو پُکارا ہے بعد میں
طوفاں سے موج موج نہ کیا کیا لڑے ہیں ہم
ہر بار سوچتے تھے کنارا ہے بعد میں
اے انجمن مزاج تری خلوتوں کے فیض
تنہائیوں نے ہم کو جو مارا ہے بعد میں
احسانِ غیر لے کے یہ ہم جانتے ہیں دوست
کس طرح وقت ہم نے گذارا ہے بعد میں
دیکھا ہے اُس نے بھر کے نظر جب کبھی ہمیں
صدقہ ہر اَک نظر کا اُتارا ہے بعد میں
وہ لاکھ ملتفت ہَوں پَر اَے دِل یہ سوچ لے
انجامِ التفات گوارا ہے بعد میں ؟
اِس عشقِ سادہ لوح پَہ ضامنؔ خدا کی مار
پہلے اُنھیں خدا کو پُکارا ہے بعد میں
ضامن جعفری

جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے

وہ ہو رہے گا بالآخر جو ہونے والا ہے
جو ہو رہا ہے کچھ اس پر بھی تم نے سوچا ہے
افُق کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہے لالی سی
یہ آسمان کہاں ساری رات جاگا ہے
سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے
صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے
گزر نسیمِ سحر اِس چمن سے آہستہ
کہ پتا پتا بہاروں کے دل کا ٹکڑا ہے
بھٹکتے پھرتے ہیں ہم جس کی دُھن میں مدت سے
جو سوچیے تو وہ منزل بھی ایک رَستا ہے
مرے سفر میں کئی منزلیں پڑیں لیکن
تری گلی میں عجب طرح دل دھڑکتا ہے
وہ قافلہ تو کبھی کا گزر چکا باصرِؔ
کھڑے ہو راہ میں اب انتظار کس کا ہے
باصر کاظمی

غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 76
کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں
غنچے اپنی آوازوں میں بجلی کو پکارا کرتے ہیں
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی اللہ تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں
بے وجہ نہ جانے کیوں ضد ہے، انکو شبِ فرقت والوں سے
وہ رات بڑھا دینے کے لئے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں
پونچھو نہ عرق رخساروں سے رنگینیِ حسن کو بڑھنے دو
سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں
کچھ حسن و عشق میں فرق نہیں، ہے بھی تو فقط رسوائی کا
تم ہو کہ گوارا کر نہ سکے ہم ہیں کہ گوارا کرتے ہیں
تاروں کی بہاروں میں بھی قمر تم افسردہ سے رہتے ہو
پھولوں کو دیکھ کانٹوں میں ہنس ہنس کے گذارا کرتے ہیں
قمر جلالوی

جز حریفان ستم کس کو پکارا جائے

جون ایلیا ۔ قطعہ نمبر 28
یہ تو بڑھتی ہی چلی جاتی ہے معیاد ستم
جز حریفان ستم کس کو پکارا جائے
وقت نے ایک ہی نکتہ تو کیا ہے تعلیم
حاکم وقت کو مسند سے اتارا جائے
قطعہ
جون ایلیا

ہو گۓ سب ستم و جَور گوارا ہم کو

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 141
وضعِ نیرنگئ آفاق نے مارا ہم کو
ہو گۓ سب ستم و جَور گوارا ہم کو
دشتِ وحشت میں نہ پایا کسی صورت سے سراغ
گردِ جولانِ جنوں تک نے پکارا ہم کو
عجز ہی اصل میں تھا حاملِ صد رنگِ عروج
ذوقِ پستـئ مصیبت نے ابھارا ہم کو
ضعف مشغول ہے بیکار بہ سعئ بیجا
کرچکا جوشِ جنوں اب تو اشارہ ہم کو
صورِ محشر کی صدا میں ہے افسونِ امّید
خواہشِ زیست ہوئ آج دوبارا ہم کو
تختۂ گور سفینے کے مماثل ہے اسدؔ
بحرِ غم کا نظر آتا ہے کنارا ہم کو
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھر صبر بن اور کیا ہے چارا

دیوان سوم غزل 1092
ہے عشق میں صبر ناگوارا
پھر صبر بن اور کیا ہے چارا
ان بالوں سے مشک مت خجل ہو
عنبر تو عرق عرق ہے سارا
یوں بات کرے ہے میرے خوں سے
گویا نہیں ان نے مجھ کو مارا
دیکھو ہو تو دور بھاگتے ہو
کچھ پاس نہیں تمھیں ہمارا
تھا کس کو دماغ باغ اس بن
بلبل نے بہت مجھے پکارا
رخسار کے پاس وہ در گوش
ہے پہلوے ماہ میں ستارا
ہوتے ہیں فرشتے صید آکر
آہوے حرم ہیں یاں چکارا
پھولی مجھے دیکھ کر گلوں میں
بلبل کا ہے باغ میں اجارا
جب جی سے گذر گئے ہم اے میر
اس کوچے میں تب ہوا گذارا
میر تقی میر

بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 39
اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا؟
رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
تم تھے کہ اک ستار بجاتا ستارا تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
دنیا کے اس بھنورسے جب ابھرے دکھوں کے بھید
اک اک اتھاہ بھید خود اپنا کنارا تھا
پھر لوٹ کر نہ آیا، زمانے گزر گئے
وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا
مجید امجد

آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 164
جب بھی صلیب شام پہ وارا گیا ہوں میں
آخر کسی افق سے اُبھارا گیا ہوں میں
چاروں طرف گھٹی ہوئی چیخوں کا شور ہے
بول اے ہوا، کدھر سے پکارا گیا ہوں میں
ٹوٹے ہوئے دلوں کی مناجات ہوں مگر
بہری سماعتوں پہ اُتارا گیا ہوں میں
عرفان صدیقی

دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 53
جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا
دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا
آگرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر
اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا
ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیر تک
پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا
جا رہا ہے یونہی بس یونہی منزلیں پشت پر باندھ کر
اک سفر زاد اپنے ہی نقشِ قدم پر اتارا ہوا
زندگی اک جُوا خانہ ہے جس کی فٹ پاتھ پر اپنا دل
اک پرانا جواری مسلسل کئی دن کا ہارا ہوا
تم جسے چاند کا دیس کہتے ہو منصور آفاق وہ
ایک لمحہ ہے کتنے مصیبت زدوں کا پکارا ہوا
منصور آفاق

کوئی بھی نہ دے سکا سہارا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 1
جب گھیر کے بے کسی نے مارا
کوئی بھی نہ دے سکا سہارا
ساحل سے نہ کیجئے اشارا
کچھ اور بھی دور اب خدا را
خاموش ہیں اس طرح وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
احساس ملا ہے سب کو لیکن
چمکا ہے کوئی کوئی ستارا
ہوتی ہے قدم قدم پہ لغزش
ملتا ہے کہیں کہیں سہارا
کھاتے گئے ہم فریب جتنے
بڑھتا گیا حوصلہ ہمارا
کس طرح کٹے گی رات باقیؔ
دن تو کسی طور سے گزارا
اب کیا ہو کہ لب پہ آ گیا ہے
ہر چند یہ راز تھا تمہارا
اس طرح خموش ہیں وہ جیسے
میں نے کسی اور کو پکارا
حالات کی نذر ہو نہ جائے
باقیؔ ہے جو ضبط غم کا یارا
باقی صدیقی