ٹیگ کے محفوظات: پڑے

حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 71
دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
حیرت ہے مجھے ، آج کدھر بُھول پڑے وہ
بُھولا نہیں دل ، ہجر کے لمحات کڑے وہ
راتیں تو بڑی تھیں ہی، مگر دن بھی بڑے وہ!
کیوں جان پہ بن آئی ہے ، بِگڑا ہے اگر وہ
اُس کی تو یہ عادت کے ہواؤں سے لڑے وہ
الفاظ تھے اُس کے کہ بہاروں کے پیامات
خوشبو سی برسنے لگی، یوں پُھول جھڑے وہ
ہر شخص مجھے ، تجھ سے جُدا کرنے کا خواہاں
سُن پائے اگر ایک تو دس جا کے حروف جڑے وہ
بچے کی طرح چاند کو چُھونے کی تمنا
دِل کی کوئی شہ دے دے تو کیا کیا نہ اڑے وہ
طوفاں ہے تو کیا غم،مجھے آواز تو دیجے
کیا بُھول گئے آپ مرے کچے گھڑے وہ
پروین شاکر

کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 142
سینہ دہک رہا ہو تو کیا چُپ رہے کوئی
کیوں چیخ چیخ کر نہ گلا چھیل لے کوئی
ثابت ہُوا سکونِ دل و جان نہیں کہیں
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی
ترکِ تعلقات تو کوئی مسئلہ نہیں
یہ تو وہ راستہ ہے کہ چل پڑے کوئی
دیوار جانتا تھا جسے میں، وہ دھول تھی
اب مجھ کو اعتماد کی دعوت نہ دے کوئی
میں خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب
میرے خلاف زہر اُگلتا پھرے کوئی
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی اَنا کا مریض ہوں
آخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زباں دراز کا منہ نوچ لے کوئی
جون ایلیا

روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے

دیوان پنجم غزل 1745
گردش دنوں کی کم نہ ہوئی کچھ کڑے ہوئے
روزے رکھے غریبوں نے تو دن بڑے ہوئے
نرمی سے کوے یار میں جاوے تو جا نسیم
ایسا نہ ہو کہ اکھڑیں کہیں دل گڑے ہوئے
آہن دلوں نے مارا ہے جی غم میں ان کے ہم
پھرتے ہیں نعل سینوں پر اپنے جڑے ہوئے
آئے ہو بعد صلح کبھو ناز سے تو یاں
منھ پھیر ادھر سے بیٹھے ہو جیسے لڑے ہوئے
بیمار امیدوار سے بستر پہ اپنے ہم
دروازے ہی کی اور تکیں ہیں پڑے ہوئے
بار اس کی بزم میں نہیں ناچار در پہ ہم
رہتے ہیں جیسے صورت دیوار اڑے ہوئے
ہم زیر تیغ بیٹھے تھے پر وقت قتل میر
وے ٹک ہمارے پاس نہ آکر کھڑے ہوئے
میر تقی میر

یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو

دیوان سوم غزل 1231
زلفوں کو میں چھوا سو غصے ہوئے کھڑے ہو
یہ بات ایسی کیا ہے جس پر الجھ پڑے ہو
منھ پھیر پھیر لو ہو ہر بات میں ادھر سے
یاں کس ستم زدہ سے آزردہ ہو لڑے ہو
نرمی مخالفوں سے سختی موافقوں سے
واں موم سے بنے ہو یاں لوہے سے کڑے ہو
مل جائو مغبچوں سے تو داڑھی ہو تبرک
ہر چند شیخ صاحب تم بوڑھے ہو بڑے ہو
ہوتے ہیں خاک رہ بھی لیکن نہ میر ایسے
رستے میں آدھے دھڑ تک مٹی میں تم گڑے ہو
میر تقی میر

ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے

دیوان اول غزل 527
جب تک کڑی اٹھائی گئی ہم کڑے رہے
ایک ایک سخت بات پہ برسوں اڑے رہے
اب کیا کریں نہ صبر ہے دل کو نہ جی میں تاب
کل اس گلی میں آٹھ پہر غش پڑے رہے
وہ گل کو خوب کہتی تھی میں اس کے رو کے تیں
بلبل سے آج باغ میں جھگڑے بڑے رہے
فرہاد و قیس ساتھ کے سب کب کے چل بسے
دیکھیں نباہ کیونکے ہو اب ہم چھڑے رہے
کس کے تئیں نصیب گل فاتحہ ہوئے
ہم سے ہزاروں اس کی گلی میں گڑے رہے
برسوں تلک نہ آنکھ ملی ہم سے یار کی
پھر گوکہ ہم بصورت ظاہر اڑے رہے
یعنی کہ اپنے عشق کے حیران کار میر
دیوار کے سے نقش در اوپر کھڑے رہے
میر تقی میر

پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے

توقیر عباس ۔ غزل نمبر 6
اک وقت تو ایسا تھا کہ دن رات کڑے تھے
پانی کا ہمیں خوف تھا مٹی کے گھڑے تھے
ھم نیند کے عالم میں کوئی موڑ مڑے تھے
دیکھا تو ابد گیر زمانے میں کھڑے تھے
معلوم ہے جس موڑ پہ بچھڑے تھے اسی جا
کچھ ہاتھ ہلاتے ہوئے اشجار کھڑے تھے
ہر موڑ پہ ہوتا تھا یہاں قتل وفا کا
ہر موڑ پہ ٹوٹے ہوئے آئینے پڑے تھے
ڈر تھا کہ پکارا تھا تمھیں ذر کی چمک نے
میدان سے تم لوگ کہاں بھاگ پڑے تھے
اسطورۂِ بغداد کو شب خواب میں دیکھا
وہ حسن تھا شہزادے قطاروں میں کھڑے تھے
تم نے بھی بہت اشک بہائے تھے بچھڑ کر
پیڑوں سے بھی اس رات بہت پات جھڑے تھے
اک قافلہ بھٹکا تھا کسی خواب کے اندر
اک شہر کے رستے میں بہت موڑ پڑے تھے
توقیر عباس

پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 586
گئی رتوں کے جو ہمسفر تھے چراغ لے کر کھڑے ہوئے تھے
پلٹ کے ہم جو گئے توگلیوں میں چاند تارے پڑے ہوئے تھے
اداس کتنا وہی مکاں تھاخود آپ گزروں کی داستاں تھا
بڑے بڑوں کی کہانیاں ہم جہاں پہ سن کر بڑے ہوئے تھے
جہاں جہاں سے گزر رہا تھا خزاں کی باچھیں کھلی ہوئی تھی
مرے نظر کے شجر برہنہ تھے مردہ پتے جھڑے ہوئے تھے
یہ کیسے ممکن تھا ساتھ چلتے ،یہ کیسے ممکن رات ڈھلتی
انہیں چراغوں سے بیر ساتھامجھے اندھیرے لڑے ہوئے تھے
جو عمر میں نے بسر نہیں کی، سنائی دیتی تھی ہر گلی سے
کئی فسانے بنے ہوئے تھے ہزار قصے گھڑے ہوئے تھے
وہیں پہ راتوں پچھلے پہروں خدا سے ہوتی تھی گفتگو بھی
وہ ایک کمرہ کہ جس کی چھت پرتنے شجر کے چڑھے ہوئے تھے
منصور آفاق

پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 472
اسے بدلتے ہوئے دیکھتے رہے ہم بھی
پھر اس کے بعد کسی دن بدل گئے ہم بھی
اکیلے رہنے کی عادت نہ تھی سو عرصے تک
بغیر اس کے پریشاں بہت رہے ہم بھی
سمیٹ رکھے تھے بارش کے اشک پتوں نے
کچھ ایسا پارک کا موسم تھا رو پڑے ہم بھی
لپیٹ رکھی ہے پت چھڑ کی شال برسوں سے
کبھی بہارمیں ہوتے ہرے بھرے ہم بھی
قریب ہوتے گئے ایک خالی رستے پر
ملول وہ بھی بہت تھی اداس تھے ہم بھی
اسے بھی نیند سے شاید کوئی عداوت تھی
پرانے جاگنے والے تھے رات کے ہم بھی
وہ آتے جاتے ہمیں دیکھنے لگی منصور
پھر اس کے بارے میں کچھ سوچنے لگے ہم بھی
منصور آفاق