ٹیگ کے محفوظات: پڑتا

بارش میں سورج نکلا تھا

روتے روتے کون ہنسا تھا
بارش میں سورج نکلا تھا
چلتے ہوئے آندھی آئی تھی
رستے میں بادل برسا تھا
ہم جب قصبے میں اُترے تھے
سورج کب کا ڈوب چکا تھا
کبھی کبھی بجلی ہنستی تھی
کہیں کہیں چھینٹا پڑتا تھا
تیرے ساتھ ترے ہمراہی
میرے ساتھ مرا رستہ تھا
رنج تو ہے لیکن یہ خوشی ہے
اب کے سفر ترے ساتھ کیا تھا
ناصر کاظمی

تارا تارا جاگ رہا تھا

پچھلے پہر کا سناٹا تھا
تارا تارا جاگ رہا تھا
پتھر کی دیوار سے لگ کر
آئینہ تجھے دیکھ رہا تھا
بالوں میں تھی رات کی رانی
ماتھے پر دن کا راجا تھا
اک رُخسار پہ زلف گری تھی
اک رُخسار پہ چاند کھلا تھا
ٹھوڑی کے جگمگ شیشے میں
ہونٹوں کا سایا پڑتا تھا
چندر کرن سی انگلی انگلی
ناخن ناخن ہیرا سا تھا
اِک پاؤں میں پھول سی جوتی
اِک پاؤں سارا ننگا تھا
تیرے آگے شمع دھری تھی
شمع کے آگے اک سایا تھا
تیرے سائے کی لہروں کو
میرا سایا کاٹ رہا تھا
کالے پتھر کی سیڑھی پر
نرگس کا اک پھول کھلا تھا
ناصر کاظمی

بھیس جدائی نے بدلا ہے

تو ہے یا تیرا سایا ہے
بھیس جدائی نے بدلا ہے
دل کی حویلی پر مدت سے
خاموشی کا قفل پڑا ہے
چیخ رہے ہیں خالی کمرے
شام سے کتنی تیز ہوا ہے
دروازے سر پھوڑ رہے ہیں
کون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے
تنہائی کو کیسے چھوڑوں
برسوں میں اِک یار ملا ہے
رات اندھیری ناؤ نہ ساتھی
رستے میں دریا پڑتا ہے
ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر
آج کسی نے یاد کیا ہے
ناصر کاظمی