ٹیگ کے محفوظات: پڑا

چِراغِ شب طمانچے کھا رہا ہے

ہوا نے سانحہ روکا ہوا ہے
چِراغِ شب طمانچے کھا رہا ہے
جسے میں یاد کر کے رو رہا ہوں
اُسے تیرا خدا بھی جانتا ہے
محبت انتقاماً مر گئی کیوں؟
دعاے مغفرت کی اِلتجا ہے
کوئی ظلِّ الٰہی کو بتائے
عدو، ملکہ کا دیوانہ ہوا ہے
نمازیں پڑھنے والوں کا رویّہ
محلّے کی مساجد میں پڑا ہے
فلکؔ زادوں کی نیندیں اُڑ رہی ہیں
مرے ہاتھوں میں سورج آ گیا ہے
افتخار فلک

سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں

میں خود پسندی میں مبتلا ہوں، بہت برا ہوں
سکوتِ شب کو کھٹک رہا ہوں، بہت برا ہوں
مرے تعاقب میں نامرادی کا جِن لگا ہے
ہزار سالوں سے گھر پڑا ہوں، بہت برا ہوں
کئی حسینوں نے معذرت کے خطوط بھیجے
مگر میں پھر بھی لگا ہوا ہوں، بہت برا ہوں
نمک حرامی کروں گا دنیا کو چھوڑ دوں گا
تری محبت پر تھوکتا ہوں، بہت برا ہوں
تمام حوریں مری محبت سے باز آئیں
میں جنّتی ہوں مگر برا ہوں، بہت برا ہوں
مرے حواری، مری محبت کو عام کریو
میں ربِ غربت پہ مر مٹا ہوں، بہت برا ہوں
فلک نے رستہ دکھا دیا تو چلے چلیں گے
اسی بہانے تو لاپتہ ہوں، بہت برا ہوں
افتخار فلک

رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 40
ہر جسم پہ گرد کی ردا ہے
رُت اپنے نگر کی اور کیا ہے
وُہ دوستی ہو کہ دُشمنی ہو
اِک کرب ہے دُوسری بلا ہے
دیتا ہے افق افق دکھائی
اک شخص کہ چاند سا ڈھلا ہے
کیا درس دِلا رہا ہے دیکھو!
پانی پہ جو بُلبُلہ اُٹھا ہے
بدلی نئی رُت نے اور کروٹ
پِھر شاخ پہ تازہ چہچہا ہے
پہچان کب اس کی جانے ہو گی
ماجِد کہ جو کُنج میں پڑا ہے
ماجد صدیقی

بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 21
گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
بدن ، پیہم اُدھڑتا جا رہا ہے
نگاہِ نا رسا تک پر کھُلا ہے
ہمارا درد ، پیوندِ قبا ہے
پہن لے دام ، لقمے کی ہوس میں
پرندہ عاقبت کب دیکھتا ہے
اثر ناؤ پہ جتلانے کو اپنا
سمندر ، ہم پہ موجیں تانتا ہے
بھنویں جس کی ، کمانوں سی تنی ہیں
قرابت دار وہ ، دربار کا ہے
کسی کے ذوق کی تسکین ٹھہرا
ہرن کا سر ، کہیں آ کر سجا ہے
دیا جھٹکا ذرا سا زلزلے نے
مکاں لیکن ابھی تک ، ڈولتا ہے
لگے سن کر سخن چاہت کا ماجد
کہیں تنّور میں ، چھینٹا پڑا ہے
ماجد صدیقی

یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 25
سر اُٹھانے کی رہ میں ہمارے لئے ہر کہیں ہے کڑے سے کڑا چودھری
یہ بڑا چودھری، وہ بڑا چودھری، اُس سے آگے بھی ہے اِک بڑا چودھری
ریوڑوں پر جھپٹتے ہوئے گُرگ سا آنگنوں گھونسلوں میں گُھسے سانپ سا
جھونپڑے جس جگہ بھی دکھائی دیئے، اُن میں دیکھا اکڑتا، کھڑا چودھری
سبزۂ زیرِ سنگِ گراں نے ذرا سر اُٹھایا جہاں اُس کا جی جل اٹھا
صورتِ حال ایسی جہاں بھی ملی، اُس سے ہے مخمصوں میں پڑا چودھری
نام سے اِک اسی کے تھی منسوب جو، لہلہاتی فضا میں، پتنگ اوج کی
ڈور ہاتھوں سے اُس کی نکلتے ہوئے دیکھ کر ہے زمیں میں گڑا چودھری
خوں میں اُترا نشہ چودھراہٹ کا وہ، دیکھ سکتا تھا کیسے بھلا ٹُوٹتے
لے کے پلٹا ہے وہ، انتقام اونٹ سا، ایسی ہٹ پر جہاں بھی اڑا چودھری
زیردستوں کو رن میں دھکیلا کِیا، آن سے، جان سے اُن کی کھیلا کیا
پر جو ماجدؔ ہوئے اُس سے روکش ذرا، اُن سے آخر تلک ہے لڑا چودھری
ماجد صدیقی

کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 46
راہوں میں کب جال بچھا تھا یاد نہیں ہے
کس دن کنجِ قفس دیکھا تھا یاد نہیں ہے
آناً فاناً ہی اِک حشر نظر میں اُٹھا
کاشانہ کس آن جلا تھا یاد نہیں ہے
چپّو چّپو کب گرداب بنے تھے پہلے
طوفاں نے کب گھیر لیا تھا یاد نہیں ہے
یاد ہے آنکھوں کے آگے اِک دُھند کا منظر
کس پل مجھ سے وُہ بچھڑا تھا یاد نہیں ہے
اپنوں ہی میں شاید کُچھ بیگانے بھی تھے
کس جانب سے تیر چلا تھا یاد نہیں ہے
طولِ شبِ ہجراں میں دل کے بانجھ اُفق پر
آس کا چندا کب ڈوبا تھا یاد نہیں ہے
تلخ ہوئی کب اُس کے لہجے کی شیرینی
سانسوں میں کب زہر گھُلا تھا یاد نہیں ہے
تنُد ہوا کو تیغوں جیسا تنتے ویکھا
پیڑ سے رشتہ کب ٹوٹا تھا یاد نہیں ہے
اُس سے اپنا ناتا جُڑتے تو دیکھا تھا
یہ دھاگا کیونکر اُلجھا تھا یاد نہیں ہے
جس پر اُس چنچل کے حکم کی چھاپ لگی تھی
مَیں نے وہ پھل کیوں چکّھا تھا یاد نہیں ہے
گھر گھر فریادی بانہوں کی فصل اُگی تھی
شہر کا موسم کیوں ایسا تھا یاد نہیں ہے
سجتی دیکھ کے سرمے سی شب آنکھوں آنکھوں
میں جانے کیوں چیخ پڑا تھا یاد نہیں ہے
نیل گگن کے نیچے ننھی آشاؤں کا
خیمہ کیسے خاک ہوا تھا یاد نہیں ہے
جگنو جگنو روشنیوں پر لُوٹ مچاتے
اُس کا ماتھا کب چمکا تھا یاد نہیں ہے
طیش میں آ کر جب وہ برسا تو آگے سے
ماجدؔ نے کیا اُس سے کہا تھا یاد نہیں ہے
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
تبر بہ دست بھی ہے جس کا آسرا ہے مجھے
ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے
رہِ سفر کا مرے رُخ ہی موڑ دے نہ کہیں
یہ دستِ غیب سے پتّھر جو آ پڑا ہے مجھے
جو دے تو میری گواہی وہ شاخِ سبز ہی دے
پنہ میں جس کی یہ تیرِ قضا لگا ہے مجھے
عجب عذاب ہے یہ تہ رسی نگاہوں کی
چٹک کلی کی بھی اب خاک کی صدا ہے مجھے
میں اُس مقام پہ ماجدؔ پہنچ گیا ہوں جہاں
یہ خامشی بھی تری حرفِ مدّعا ہے مجھے
ماجد صدیقی

جس کا کھِلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 9
ہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِ صبا
جس کا کھِلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا
پھول کھِلے تو مَیں خود چھپ کر بیٹھ رہا ویرانوں میں
بِیت گیا جب موسمِ گل تو اُجڑے بن میں کُود پڑا
مَیں مجرم ہوں مَیں نے زہر سمویا اپنی سانسوں میں
اے جیون اے عادلِ دوراں،للہ مجھ پر رحم نہ کھا
اے جینے کے رستے مجھ پر اور بھی کچھ ہو بند ابھی
مَیں کہ نہیں ہوں اندھا بھی تُو میری آنکھیں کھول ذرا
ٹُنڈ شجر اور شاخیں، اُجڑی آنکھیں جیسے بیوہ کی
کس موسم کا ماتھا ماجدؔ مَیں نے بڑھ کر چوم لیا
ماجد صدیقی

جانے یہ کون آ رہا مجھ میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 114
ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں
جانے یہ کون آ رہا مجھ میں
جون مجھ کو جلا وطن کر کے
وہ مرے بن بھلا رہا مجھ میں
مجھ سے اس کو رہی تلاشِ امید
سو بہت دن چھپا رہا مجھ میں
تھا قیامت، سکوت کا آشوب
حشر سا اک بپا رہا مجھ میں
پسِ پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی
ایک پردہ کھنچا رہا مجھ میں
مجھ میں آ کر گرا تھا اک زخمی
جانے کب تک پڑا رہا مجھ میں
اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا

داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 245
شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے
دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار
آئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے
تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد ذوق
آئینہ بہ اند ازِ گل آغوش کشا ہے
قمری کفِ خا کستر و بلبل قفسِ رنگ
اے نالہ! نشانِ جگرِ سو ختہ کیا ہے؟
خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کو
معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے
مجبوری و دعوائے گرفتارئ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ
تیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے
اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھی
سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یا رب اگرِان کردہ گناہوں کی سزا ہے
بیگانگئِ خلق سے بیدل نہ ہو غالب
کوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا

دیوان سوم غزل 1100
کل رات رو کے صبح تلک میں رہا گرا
خونبار میری آنکھوں سے کیا جانوں کیا گرا
اب شہر خوش عمارت دل کا ہے کیا خیال
ناگاہ آ کے عشق نے مارا جلا گرا
کیا طے ہو راہ عشق کی عاشق غریب ہے
مشکل گذر طریق ہے یاں رہگرا گرا
لازم پڑی ہے کسل دلی کو فتادگی
بیمار عشق رہتا ہے اکثر پڑا گرا
ٹھہرے نہ اس کے عشق کا سرگشتہ و ضعیف
ٹھوکر کہیں لگی کہ رہا سرپھرا گرا
دے مارنے کو تکیہ سے سر ٹک اٹھا تو کیا
بستر سے کب اٹھے ہے غم عشق کا گرا
پھرتا تھا میر غم زدہ یک عمر سے خراب
اب شکر ہے کہ بارے کسی در پہ جا گرا
میر تقی میر

میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 493
عشق میں مبتلا ہوں ویسے ہی
میں کسی سے ملا ہوں ویسے ہی
آج میرا بہت برا دن تھا
یار سے لڑ پڑا ہوں ویسے ہی
اس لیے آنکھ میں تھکاوٹ ہے
ہر طرف دیکھتا ہوں ویسے ہی
بارشِ سنگ ہوتی رہتی ہے
آسماں لیپتا ہوں ویسے ہی
مجھ کو لا حاصلی میں رہنا ہے
میں تجھے سوچتا ہوں ویسے ہی
ایک رہرو سے پوچھتے کیا ہو
اک ذرا رک گیا ہوں ویسے ہی
پھول یوں ہی یہ پاس ہیں میرے
راستے میں کھڑا ہوں ویسے ہی
تُو بہت خوبرو سہی لیکن
میں تجھے مل رہا ہوں ویسے ہی
وہ کبھی پوچھنے نہیں آیا
آسماں سے جڑا ہوں ویسے ہی
مجھ کو جانا نہیں کہیں منصور
تار پر چل رہا ہوں ویسے ہی
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 145
کسی نے کچھ کہا ہے کیا، کہاں یہ چل دیا سورج
ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج
اسے معلوم تھی شاید مری راتوں کی برفابی
مری آنکھوں کے بالکل سامنے دن بھر رہا سورج
چپک جاتا ہے خاموشی سے میرے ساتھ بستر میں
یہ نم دیدہ دسمبر کی اداسی سے بھرا سورج
برہنہ پانیوں پر شام کی کرنیں ٹپکتی تھیں
مگر پھر یوں ہوا نیلا سمندر ہو گیا سورج
مرے دریا کے پانی کو ہوا ہونے نہیں دیتا
کہیں برفیلے کہساروں کو پگھلاتا ہوا سورج
یہ کافی دیر سے کھڑکی کھلی ہے میرے کمرے کی
ابھی نکلا نہیں ہے اِس گلی میں صبح کا سورج
ابھی کچھ دیر رہنا چاہتا ہوں میں اجالوں میں
بلاتا ہے مجھے اپنی طرف پھر ڈوبتا سورج
مجھے دل کی گلی میں بھی تپش محسوس ہوتی ہے
خود اپنے ہجر میں اتنا زیادہ جل بجھا سورج
اُدھر پوری طرح اترا نہیں وہ روشنی کا تھال
نکلتا آ رہا ہے یہ کدھر سے دوسرا سورج
رکھا ہے ایک ہی چہرہ بدن کے بام پر میں نے
کوئی مہتاب کہتا ہے کسی کا تبصرہ سورج
نگاہوں کو شعاعوں کی ضرورت تھی بہت لیکن
کہاں تک میری گلیوں میں مسلسل جاگتا سورج
جہاں اس وقت روشن ہے تبسم تیرے چہرے کا
انہی راتوں میں برسوں تک یہ آوارہ پھرا سورج
اسے اچھے نہیں لگتے سلگتے رتجگے شاید
اکیلا چھوڑ جاتا ہے ہمیشہ بے وفا سورج
اجالے کا کفن بُننا کوئی آساں نہیں ہوتا
نظر آتا ہے شب کے پیرہن سے جا بجا سورج
ابھرنا ہی نہیں میں نے نکلنا ہی نہیں میں نے
اتر کر عرش کے نیچے یہی ہے سوچتا سورج
افق پر اک ذرا آندھی چلی تھی شام کی منصور
کہیں ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی صورت گر پڑا سورج
منصور آفاق

وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 107
میں زندگی ہوں وہ جانے لگا تو اس نے کہا
وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا
مجھے زمین سے رکھنے ہیں اب مراسم بس
جب آسماں نے فسردہ کیا تو اس نے کہا
میں تتلیوں کے تعاقب میں جانے والا ہوں
کسی نے ماتھے پہ بوسہ دیا تو اس نے کہا
اداس رہنے کی عادت ہے مجھ کو ویسے ہی
گلی میں اس کی کوئی مرگیا تو اس نے کہا
مجھے بھی شام کی تنہائی اچھی لگتی ہے
مری اداسی کا قصہ سنا تو اس نے کہا
خیال رکھنا تجھے دل کا عارضہ بھی ہے
جب اس کے سامنے میں رو پڑا تو اس نے کہا
مجھے تو رات کی نیت خراب لگتی ہے
چراغ ہاتھ سے میرے گرا تو اس نے کہا
کوئی فرشتوں کی مجھ سے تھی دشمنی منصور
پڑھا نصیب کا لکھا ہوا تو اس نے کہا
منصور آفاق

ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 29
وا کردہ چشم دل صفتِ نقش پا ہوں میں
ہر رہ گزر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
مطلب جو اپنے اپنے کہے عاشقوں نے سب
وہ بُت بگڑ کے بول اُٹھا ، کیا خدا ہوں میں
اے انقلابِ دہر، مٹاتا ہے کیوں مجھے
نقشے ہزاروں مٹ گئے ہیں تب بنا ہوں میں
محنت یہ کی کہ فکر کا ناخن بھی گھِس گیا
عقدہ یہ آج تک نہ کھُلا مجھ پہ کیا ہوں میں
رسوا ہوئے جو آپ تو میرا قصور کیا؟
جو کچھ کیا وہ دل نے کیا، بے خطا ہوں میں
مقتل ہے میری جاں کو وہ جلوہ گاہِ ناز
دل سے ادا یہ کہتی ہے تیری قضا ہوں میں
مانندِ سبزہ اُس چمنِ دہر میں امیر
بیگانہ وار ایک کنارے پڑا ہوں میں
امیر مینائی

شعلہ صرصر ہے کہ صبا معلوم نہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 140
گل کے پردے میں ہے کیا معلوم نہیں
شعلہ صرصر ہے کہ صبا معلوم نہیں
کس کا ہاتھ ہے کس مہرے پہ کیا جانیں
کون اور کیسی چال چلا معلوم نہیں
ہم نے خون میں لت پت گلشن دیکھا ہے
کس جانب سے شور اٹھا معلوم نہیں
ہم ہیں اور اندھیری رات کا ہنگامہ
کس کا کس پر وار پڑا معلوم نہیں
جانے کیا مستی میں اس نے بات کہی
نشے میں کیا ہم نے سنا معلوم نہیں
لحظہ لحظہ دوری بڑھتی جاتی ہے
کل کا انساں کیا ہو گا معلوم نہیں
ہر چہرے کے پیچھے کتنے چہرے ہیں
کون ہمیں کس وقت ملا معلوم نہیں
قدموں کی آہٹ پر کان رہے اپنے
کون آیا اور کون گیا معلوم نہیں
ہوش آیا تو تاریکی میں تھے باقیؔ
کتنی دیر چراغ جلا معلوم نہیں
باقی صدیقی

دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 116
وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں
آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں
سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں
کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں
اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں
دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں
باقی صدیقی

اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا
کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا
اب تو ہر بات پہ ہوتاہے گماں
واقعہ کوئی سنا ہے اپنا
ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے
دشت تک سایہ گیا ہے اپنا
خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے
خود ہی در کھول دیا ہے اپنا
دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا
چمن دہر میں کیا ہے اپنا
کوئی آواز، کوئی ہنگامہ
قافلہ رکنے لگا ہے اپنا
اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے
دل میں جو چور چھپا ہے اپنا
کون تھا مدِ مقابل باقیؔ
خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا
باقی صدیقی