ٹیگ کے محفوظات: پچھتائیں

آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 29
توبہ کیجئے اب فریبِ دوستی کھائیں گے کیا
آج تک پچھتا رہے ہیں اور پچھتائیں گے کیا
خود سمجھے ذبح ہونے والے سمجھائیں گے کیا
بات پہنچے کی کہاں تک آپ کہلائیں گے کیا
بزمِ کثرت میں یہ کیوں ہوتا ہے ان کا انتظار
پردۂ وحدت سے باہر ہم نکل آئیں گے کیا
کل بہار آئے گی یہ سن کر قفس بدلو نہ تم
رات بھر میں قیدیوں کے پر نکل آئیں گے کیا
اے دلِ مضطر انھیں باتوں سے چھوٹا تھا چمن
اب ترے نالے قفس سے بھی نکلوائیں گے کیا
اے قفس والو رہائی کی تمنا ہے فضول
فصلِ گل آنے سے پہلے پر نہ کٹ جائیں گے کیا
شامِ غم جل جل کے مثلِ شمع ہو جاؤں گا ختم
صبح کو احباب آئیں گے تو تو دفنائیں گے کیا
جانتا ہوں پھونک دے گا تیرے گھر کو باغباں
آشیاں کے پاس والے پھول رہ جائیں گے کیا
ان کی محفل میں چلا آیا ہے دشمن خیر ہو
مثلِ آدم ہم بھی جنت سے نکل جائیں گے کیا
ناخدا موجوں میں کشتی ہے تو ہم کو نہ دیکھ
جن کو طوفانوں نے پالا ہے وہ گھبرائیں گے کیا
تو نے طوفاں دیکھتے ہی کیوں نگاہیں پھیر لیں
ناخدا یہ اہل کشتی ڈوب ہی جائیں گے کیا
کیوں یہ بیرونِ چمن جلتے ہوئے تنکے گئے
میرے گھر کی دنیا بھر میں پھیلائیں گے کیا
کوئی تو مونوس رہے گا اے قمر شامِ فراق
شمع گل ہو گی تو یہ تارے بھی چھپ جائیں گے کیا
قمر جلالوی

پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا

الطاف حسین حالی ۔ غزل نمبر 9
دل میں باقی ہیں وہی حرصِ گناہ
پھر کئے سے اپنے ہم پچھتائیں کیا
آؤ اس کو لیں ہمیں جا کر منا
اس کی بے پروائیوں پر جائیں کیا
جانتا دنیا کو ہے اک کھیل تو
کھیل قدرت کے تجھے دکھلائیں کیا
مان لیجئے شیخ جو دعویٰ کرے
اک بزرگ دیں کو ہم جھٹلائیں کیا
ہو چکے حالیؔ غزلخوانی کے دن
راگئی بے وقت کی اب گائیں کیا
الطاف حسین حالی