ٹیگ کے محفوظات: پنکھڑی

شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 631
آگ میں برگ وسمن کی جھڑی لگ سکتی ہے
شاخ پر اب بھی کوئی پنکھڑی لگ سکتی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے آنے کی خوشی میں اسکے
بام پہ قمقموں کی اک لڑی لگ سکتی ہے
اس کے وعدہ پہ مجھے پورا یقیں ہے لیکن
لوٹ آنے میں گھڑی دو گھڑی لگ سکتی ہے
رک بھی سکتی ہے یہ چلتی ہوئی اپنی گاڑی
میخ ٹائر میں کہیں بھی پڑی لگ سکتی ہے
جب کوئی ساتھ نہ دینے کا ارداہ کر لے
ایک نالی بھی ندی سے بڑی لگ سکتی ہے
دامِ ہمرنگ زمیں غیر بچھا سکتے ہیں
کوچۂ یار میں دھوکا دھڑی لگ سکتی ہے
اِس محبت کے نتائج سے ڈر آتا ہے مجھے
اِس شگوفے پہ کوئی پھلجھڑی لگ سکتی ہے
میں میانوالی سے آسکتاہوں ہر روز یہاں
خوبصورت یہ مجھے روکھڑی لگ سکتی ہے
جرم یک طرفہ محبت ہے ازل سے منصور
اِس تعلق پہ تجھے ہتھکڑی لگ سکتی ہے
منصور آفاق

لیکن نہ میرے ہاتھ کوئی پنکھڑی لگے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 584
باغِ جہاں میں لالہ و گل کی جھڑی لگے
لیکن نہ میرے ہاتھ کوئی پنکھڑی لگے
ہوتی مکین سے ہے مکانوں کی اہمیت
اُس کا نیا محل بھی مجھے جھوپڑی لگے
جو خواب میں دکھائی دے پچھلے سمے مجھے
اس کے بریدہ دھڑ پہ کوئی کھوپڑی لگے
عیار ہی نہیں ہے وہ دلدار نازنیں
کچھ شکل سے بھی رنگ بھری لومڑی لگے
میری گلی میں ہوکوئی تازہ کہکشاں
دوچار قمقموں کی اِ دھر بھی لڑی لگے
ہوتے ہیں بس غریب گرفتار آئے دن
منصور اہلِ زر کو کبھی ہتھکڑی لگے
منصور آفاق

شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 481
روشنی سائے میں کھڑی ہے ابھی
شہر میں رات کی جھڑی ہے ابھی
دیکھنا ہے اسے مگر اپنی
آنکھ دیوار میں گڑی ہے ابھی
آسماں بھی مرا مخالف ہے
ایک مشکل بہت بڑی ہے ابھی
ایک بجھتے ہوئے تعلق میں
شام کی آخری گھڑی ہے ابھی
ہم سے مایوس آسماں کیا ہو
موتیوں سے زمیں جڑی ہے ابھی
ایک ٹوٹے ہوئے ستارے کی
میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی ہے ابھی
موسمِ گل ہے میرے گلشن میں
شاخ پر ایک پنکھڑی ہے ابھی
وہ کھلی ہے گلاب کی کونپل
میری قسمت کہاں سڑی ہے ابھی
سایہء زلف کی تمازت ہے
رات کی دوپہر کڑی ہے ابھی
اس میں بچپن سے رہ رہا ہوں میں
آنکھ جس خواب سے لڑی ہے ابھی
میں کھڑا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں
ایک دیمک زدہ چھڑی ہے ابھی
آگ دہکا نصیب میں منصور
برف خاصی گری پڑی ہے ابھی
منصور آفاق

دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 439
یاد کے فلور پرچائے ہے پڑی ہوئی
دل کے قہوہ خانے میں بحث بھی بڑی ہوئی
پھانسیوں پہ جھولتی اک خبرہے موت کی
اپنی اپنی طے شدہ سوچ میں گڑی ہوئی
بدمزاج وقت ہے کچھ ملال خیز سا
اختتامِ سال سے شام ہے لڑی ہوئی
آتے جاتے دیکھ کر درد کچھ مرے ہوئے
اک الست مست کی ذات میں جھڑی ہوئی
بولتے تھے عادتاً کم بھرے ہوئے دماغ
دانش و شعور کی شوخ پنکھڑی ہوئی
آتی جاتی گاڑیاں موڑ کاٹنے لگیں
چلتے چلتے وہ گلی روڈ پر کھڑی ہوئی
چلنے والا تار پرمسخروں میں کھو گیا
جب صراطِ وقت پر آخری گھڑی ہوئی
آدمی کے گوشت کی ریشہ رشہ داستاں
صدرِ امن گاہ کے دانت میں اڑی ہوئی
منصور آفاق