ٹیگ کے محفوظات: پنپنا

عمر بھرپھڑپھڑاتے بدن کے قفس میں تڑپنا ملا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 37
ایسی بے رحم خواہش ملی ایسا سفاک سپنا ملا
عمر بھرپھڑپھڑاتے بدن کے قفس میں تڑپنا ملا
وہ چراغوں سے کیسے تعلق رکھیں کیسے ہم سے ملیں
وہ جنہیں دستِ تقدیر سے تیرگی میں پنپنا ملا
کس کی آغوش کے ہیں الاؤ کہانی میں پھیلے ہوئے
برف جیسی شبوں کوکہاں سے بھلا دن کا تپنا ملا
وہ دوبارہ لے آیا ہمیں پُر سکوں پستیوں کی طرف
اک پہاڑی سفر میں عجب خیراندیش اپنا ملا
ان بزرگوں کے نقشِ کفِ پا پہ آنکھیں رکھوں چوموں انہیں
جن بزرگوں سے ورثے میں اسمِ محمدﷺ کو جپنا ملا
منصور آفاق