ٹیگ کے محفوظات: پلید

یعنی روشن مزید ہوتے ہیں

آگ سے مُستفید ہوتے ہیں
یعنی روشن مزید ہوتے ہیں
سب روایت سے دُھل کے آتے ہیں
شعر جتنے جدید ہوتے ہیں
کیا یہ کم ہے کہ عشق کرنے پر
منھ پہ تھپڑ رسید ہوتے ہیں
یار! غازی نہیں ہوا کرتے
عشق میں سب شہید ہوتے ہیں
آپ کو دیکھ کر جو ہکلائیں
آپ کے زٙر خرید ہوتے ہیں
شعر کہنے میں احتیاط میاں!
لوگ انور سدید ہوتے ہیں
ہم تڑپتے ہیں اور وہ ہنس ہنس کر
محوِ گُفت و شُنید ہوتے ہیں
دیں بچاتے ہیں بیچ دیتے ہیں
مولوی بھی یٙزید ہوتے ہیں
یہ جو فتوا لگا ہے کافر کا
ایسے فتوے مُفید ہوتے ہیں
کچھ تو ہوتے ہیں پکّے پکّے مرد
اور کچھ رن مُرید ہوتے ہیں
وقت بھرتا ہے دھیرے دھیرے انھیں
زخم جتنے شدید ہوتے ہیں
ایسی سوچوں سے دور رہتے ہیں
ذہن جن سے پلید ہوتے ہیں
افتخار فلک

وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 462
قربانی کر قبول، اے مولا شہید کی
وہ جان دے کے اپنی کسی نے ہے عید کی
اب تو معاف امتِ وسطی کا جرم کر
کر دے جہاں میں ختم حکومت یزید کی
روہی کی ایک صبح کا درشن سا ہو گیا
میں سن رہا تھا رات کو کافی فرید کی
آتی ہوئی رتوں کا کسی کو نہیں خیال
کرتے ہیں گفتگو سبھی ماضی بعید کی
لعنت ہزار ایسی حکومت پہ بار بار
جمہوریت کی اس نے ہے مٹی پلید کیٍ
لے کر ہوا اڑے گی کسی روز تو اسے
میں نے تمام عمر جو خوشبو کشید کی
میں پڑھ رہا ہوں پچھلے زمانے کی سرگزشت
میں نے مگرکتاب غزل کی خرید کی
منصور بے چراغ مکانوں کی سمت دیکھ
وہ سو گئی ہے آخری بستی امید کی
منصور آفاق