ٹیگ کے محفوظات: پلایا

گھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے

نقابِ رُخ اٹھایا جا رہا ہے
گھٹا میں چاند آیا جا رہا ہے
زمانے کی نگاہوں میں سمو کر
مجھے دل سے بُھلایا جا رہا ہے
کہاں کا جام، جب یاں ذوقِ مستی
نگاہوں سے پلایا جا رہا ہے
ابھی اَرمان کچھ باقی ہیں دل میں
مجھے پھر آزمایا جا رہا ہے
پلا کر پھر شرابِ حسن و جلوہ
مجھے بے خود بنایا جا رہا ہے
سلامت آپ کا جورِ مسلسل
مرے دل کو دُکھایا جا رہا ہے
شکیبؔ، اب وہ تصوّر میں نہ آئیں
کلیجا منھ کو آیا جا رہا ہے
شکیب جلالی

مرے قد کو گھٹایا جا رہا ہے

مجھے شیشہ دِکھایا جا رہا ہے
مرے قد کو گھٹایا جا رہا ہے
مرا ویران مے خانہ گِرا کر
مجھے مسجد میں لایا جا رہا ہے
میں باغی ہو گیا ہوں اس لیے بھی
مجھے پارا پِلایا جا رہا ہے
نہ جانے کس خوشی میں شہر کے سب
ملنگوں کو نچایا جا رہا ہے
بتا اے جوتشی! کس کس حسیں کو
مرے پیچھے لگایا جا رہا ہے
یہ کیسا فائدہ ہے جس کی خاطر
ہمیں خود سے لڑایا جا رہا ہے
چراغاں کا بہانہ کر کے یارو!
مرے گھر کو جلایا جا رہا ہے
افتخار فلک