ٹیگ کے محفوظات: پس

دل میری جان تیرے بس کا نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 132
کون سے شوق کِس ہوس کا نہیں
دل میری جان تیرے بس کا نہیں
راہ تم کارواں کی لو کہ مجھے
شوق کچھ نغمہء جرس کا نہیں
ہاں میرا وہ معاملہ ہے کہ اب
کام یارانِ نکتہ رَس کا نہیں
ہم کہاں سے چلے ہیں اور کہاں
کوئی اندازہ پیش و پس کا نہیں
ہو گئی اس گِلے میں عمر تمام
پاس شعلے کو خاروخس کا نہیں
مُجھ کو خود سے جُدا نہ ہونے دو
بات یہ ہے میں اپنے بس کا نہیں
کیا لڑائی بَھلا کہ ہم میں سے
کوئی بھی سینکڑوں برس کا نہیں
جون ایلیا

بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 82
ہر خراشِ نفس ، لکھے جاؤں
بس لکھے جاؤں ، بس لکھے جاؤں
ہجر کی تیرگی میں روک کے سانس
روشنی کے برس لکھے جاؤں
اُن بسی بستیوں کا سارا لکھا
دُھول کے پیش و پس لکھے جاؤں
مجھ ہوس ناک سے ہے شرط کہ میں
بے حسی کی ہوس لکھے جاؤں
ہے جہاں تک خیال کی پرواز
میں وہاں تک قفس لکھے جاؤں
ہیں خس و خارِ دید ، رنگ کے رنگ
رنگ پر خارو خس لکھے جاؤں
جون ایلیا

یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 319
سپردگی میں بھی انداز دسترس کا ہے
یہ کاروبارِ محبت اسی کے بس کا ہے
بھلی لگے گی نہ جانے کدھر لہو کی لکیر
کہ سارا کھیل ہی منظر میں پیش و پس کا ہے
یہاں کسی کا وفادار کیوں رہے کوئی
کہ جو وفا کا صلہ ہے وہی ہوس کا ہے
میں جانتا ہوں کہ تو ایک شعلہ ہے‘ لیکن
بدن میں ڈھیر بہت دن سے خار و خس کا ہے
عرفان صدیقی