ٹیگ کے محفوظات: پسینے

بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں

عمارتوں میں نہاں دفینے کو ڈھونڈتا ہوں
بلندیوں کے امین زینے کو ڈھونڈتا ہوں
وہ جس کی خاطر ہمارے آبا نے کی تھی ہجرت
میں اپنے شہروں میں اُس مدینے کو ڈھونڈتا ہوں
جو لائے گھر میں مرے گہر ہائے رزقِ طیب
ہمیشہ محنت کے اُس پسینے کو ڈھونڈتا ہوں
دُکھے نہ دشمن کا دل بھی میرے سخن سے باصِرؔ
میں بات کرنے کے اُس قرینے کو ڈھونڈتا ہوں
باصر کاظمی

پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یہ انتظار ہی عنواں ہے اَب تو جینے کا
پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا
بدک کے ثقلِ سماعت سے اہلِ مکّہ کی
جو اہلِ حق ہے مسافر ہے اَب مدینے کا
یقیں اُنہیں بھی خُدا پر ہے بہرِ رزق جنہیں
ہے آسرا کسی پتّھر، کسی نگینے کا
بہ دَورِ نو کسی تنخواہ دار کے گھر کا
حیات، ہفتۂ آخر لگے مہینے کا
ہَوا نے دی سرِ ساحل یہی خبر آ کر
کھُلا نہیں تھا ابھی بادباں سفینے کا
تُو خاک زاد ہے اور جان لے کہ اے ماجدؔ
گُہر نہیں کوئی قطرہ ترے پسینے کا
ماجد صدیقی

دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو

دیوان پنجم غزل 1711
بات کہوں کیا چپکے چپکے دیکھو ہو آئینے کو
دیکھتے ہو تو دیکھو ہمارے جلتے توے سے سینے کو
کیا جانو تم قدر ہماری مہر و وفا کی لڑکے ہو
لوہو اپنا دیں ہیں تمھارے گرتے دیکھ پسینے کو
پھیر ایام نحس کا مجھ کو بہت کڈھب آتا ہے نظر
تم بھی غنیمت جانو میاں دس دن کے میرے جینے کو
وہ جو غیرت مہ ملتا ہے غیر سے ہم ہیں غیرت کش
سال ہمارے جی کا ہو گا ظاہر کوئی مہینے کو
لخت دل آنکھوں سے گرا سو ٹکڑا لعل کا تھا گویا
نصب کروں گا میر جگر پر خوش رنگ ایسے نگینے کو
میر تقی میر

چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں

دیوان چہارم غزل 1460
داغ فراق سے کیا پوچھو ہو آگ لگائی سینے میں
چھاتی سے وہ مہ نہ لگا ٹک آکر اس بھی مہینے میں
چاک ہوا دل ٹکڑے جگر ہے لوہو روئے آنکھوں سے
عشق نے کیا کیا ظلم دکھائے دس دن کے اس جینے میں
گوندھ کے گویا پتی گل کی وہ ترکیب بنائی ہے
رنگ بدن کا تب دیکھو جب چولی بھیگے پسینے میں
اس صورت کا ناز نہ تھا کچھ دب چلتا تھا ہم سے بھی
جب تک دیکھا ان نے نہ تھا منھ خوب اپنا آئینے میں
لوگوں میں اسلام کے ہو نہ شہرت اس رسوائی کی
شیخ کو پھیرا گدھے چڑھاکر مکے اور مدینے میں
دل نہ ٹٹولیں کاشکے اس کا سردی مہر تو ظاہر ہے
پاویں اس کو گرم مبادا یار ہمارے کینے میں
میر نے کیا کیا ضبط کیا ہے شوق میں اشک خونیں کو
کہیے جو تقصیر ہوئی ہو اپنا لوہو پینے میں
میر تقی میر

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق