ٹیگ کے محفوظات: پسند

کیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 15
کیا فائدہ نصیحتِ نا سود مند کا
کیا خوب پند گو بھی ہے محتاج پند کا
جب میں نہیں پسند تو پھر اور آ چکے
عاشق ہوں اس کی خاطرِ مشکل پسند کا
اے بادِ صبح تا بہ کجا اہتزازِ گل
گوشہ الٹ دے یار کے منہ سے پرند کا
اُس ماہ وش کو غیرِ سیہ رو سے کام کیا
ہے فیض اپنے اخترِ بختِ نژند کا
اس کوچے میں ہے عزتِ خسرو گدا سے کم
کیوں ناز مستمند سہے ارجمند کا
نالہ تو نارسا نہیں کیوں کر گلہ کروں
میں شکوہ سنج ہوں ترے کاخِ بلند کا
دیوان کو ہمارے، بتوں کی نگاہ میں
اے شیفتہ وہ رتبہ ہے جو بید و ژند کا
مصطفٰی خان شیفتہ

پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے

دیوان دوم غزل 970
اسیر زلف کرے قیدی کمند کرے
پسند اس کی ہے وہ جس طرح پسند کرے
ہمیشہ چشم ہے نمناک ہاتھ دل پر ہے
خدا کسو کو نہ ہم سا بھی دردمند کرے
بڑوں بڑوں کو جھکاتے ہی سر بنے اس دم
پکڑ کے تیغ وہ اپنی اگر بلند کرے
بیان دل کے بھی جلنے کو کریے مجلس میں
اچھلنے کودنے کو ترک اگر سپند کرے
نہ مجھ کو راہ سے لے جائے مکر دنیا کا
ہزار رنگ یہ فرتوت گو چھچھند کرے
سواے اس کے بڑی داڑھی میں ہے کیا اے شیخ
کہ جو کوئی تجھے دیکھے سو ریش خند کرے
دکھاوے آنکھ کبھو زلف کھولے منھ پہ کبھو
کبھو خرام سے رستے کے رستے بند کرے
اگرچہ سادہ ہے لیکن ربودن دل کو
ہزار پیچ کرے لاکھ لاکھ فند کرے
سخن یہی ہے جو کہتے ہیں شعر میر ہے سحر
زبان خلق کو کس طور کوئی بند کرے
میر تقی میر

چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 565
کوئی نرم نرم سی آگ رکھ مرے بند بند کے سامنے
چلے فلم کوئی وصال کی دلِ ہجر مند کے سامنے
یہ عمل ومل کے کمال چپ، یہ ہنروری کے جمال چپ
یہ ہزار گن سے بھرے ہیں کیا، ترے بھاگ وند کے سامنے
کھلی کھڑکیوں کے فلیٹ سے ذرا جھانک شام کو روڈ پر
ترے انتظار کی منزلیں ہیں مری کمند کے سامنے
کئی ڈاٹ کام نصیب تھے جسے زینہ زنیہ معاش کے
وہ منارہ ریت کا دیوتا تھا اجل پسند کے سامنے
ابھی اور پھینک ہزار بم، مرے زخم زخم پہاڑ پر
کوئی حیثیت نہیں موت کی، کسی سر بلند کے سامنے
منصور آفاق