ٹیگ کے محفوظات: پستیاں

نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک

زمانے میں نہیں باقی کوئی نام و نشاں اب تک
نہ جانے مٹ چکی ہیں کیسی کیسی ہستیاں اب تک
متاع و مال کیا، عزت بچا لینا بھی مشکل ہے
مسلمانوں کا قدرت لے رہی ہے امتحاں اب تک
ستم کوشی پہ نازاں ہیں یہ کُفر و شِرک کے بندے
الٰہی کیسے قائم ہیں زمین و آسماں اب تک
جُھلس دینے پہ بھی مُسلم کو، دل ٹھنڈا نہیں ہوتا
جلائی جا چکی ہیں بستیوں کی بستیاں اب تک
دلا کر یادِ رفعت عہدِ ماضی کی، مسلماں کو
تعجب کیا جو طعنہ دے رہی ہیں پستیاں اب تک
شکیبؔ زار کچھ ایسی اُلجھ کر رہ گئی ہستی
نہ سُلجھیں سعیِ پیہم سے بھی اپنی گُتّھیاں اب تک
شکیب جلالی

مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 107
کوئی سمجھے تجھے نا مہرباں کیوں
مگر تجھ سے ہے دنیا بدگماں کیوں
کوئی تو بات ہے اظہار غم میں
وگرنہ لڑکھڑاتی ہے زباں کیوں
ابھرتا ہے یہیں سے ہر تلاطم
بلندی سے خفا ہیں پستیاں کیوں
جو اپنی رہگزر سے آشنا ہو
وہ دیکھے نقش پائے رہرواں کیوں
اداسی منزلوں کی کہہ رہی ہے
ادھر سے کوئی گزرے کارواں کیوں
مسافر کوئی شاید لٹ گیا ہے
چراغ راہ دے اٹھا دھواں کیوں
جہاں تیری نطر ہو کار فرما
وہاں باقیؔ رہے میرا نشاں کیوں
باقی صدیقی