ٹیگ کے محفوظات: پری

چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے
چور عہدِ سامری کے جل پری تک آ گئے
واعظانِ خوش ہوس کی جِھڑکیاں سُنتے ہوئے
لاشعوری طور پر ہم سرخوشی تک آ گئے
ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم
ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے
واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر
کچھ پرندے ہاتھ باندھے سبزگی تک آ گئے
بھائی بہنوں کی محبت کا نشہ مت پوچھیے
بےتکلّف ہو گئے تو گُدگُدی تک آ گئے
چاکِ تُہمت پر گُھمایا جا رہا تھا عشق کو
جب ہمارے اشک خوابِ خودکُشی تک آ گئے
گالیاں بکنے لگے ، غُصّے ہوئے ، لڑنے لگے
رقص کرتے کرتے ہم بھی خودسری تک آ گئے
اے حسیں لڑکی! تمھارے حُسن کے لذّت پرست
کافری سے سر بچا کر شاعری تک آ گئے
افتخار فلک

اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر

دِل پریشان ہے چل کوئی بات کر!
اے مرے دِل رُبا! عشق کی بات کر!
آج مجھ میں سما! میری بانہوں میں آ!
میں اکیلا ہوں نیلم پری! بات کر!
بات کرتے ہوئے آج اُس نے کہا
چھوڑ رنجش پُرانی نئی بات کر!
میں چلا جاؤں گا یہ نگر چھوڑ کر
مختصر ہی سہی اجنبی! بات کر!
آخری بار میری طرف دیکھ لے
آخری بار مجھ سے مِری بات کر!
یوں نہ باتیں بنا دُشمنِ جان و دل
تیرے دِل میں ہے جو ، بس وہی بات کر!
میں براے سخن! آگیا ہوں یہاں
سُن مِری ان سُنی! ان کہی بات کر!
افتخار فلک

مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
بات بظاہر جو بھی کھری دکھلائی دے
مکر کی اُس میں صنّاعی دکھلائی دے
ماند کرے پل بھر میں گردِ ریا اُس کو
باغ میں کھِلتی جو بھی کلی دکھلائی دے
عُمر کی گاڑی جس کو پیچھے چھوڑ آئی
اُس جیسی اَب کون پری دکھلائی دے
دن کو بھی اَب یُوں ہے جیسے آنکھوں میں
سُرمے جیسی رات سجی دکھلائی دے
کینچلیوں سی برگ و شجر سے اُتری جو
آنے والی رُت بھی وُہی دکھلائی دے
آنکھ کا عالم پُوچھ نہ اُس کے بچھڑنے پر
کاسۂ گُل میں اوس بھری دکھلائی دے
تُو اُس مارِسیہ سے دُور ہی رہ
نیّت جس کی تجھ کو بُری دکھلائی دے
ماجد صدیقی

کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 108
مجھے باغباں سے گلہ یہ ہے کہ چمن سے بے خبری رہی
کہ ہے نخلِ گل کاتو ذکر کیا کوئی شاخ تک نہ ہری رہی
مرا حال دیکھ کے ساقیا کوئی بادہ خوار نہ پی سکا
ترا جام خالی نہ ہو سکے مری چشمِ تر نہ بھر رہی
میں قفس کو توڑ کے کیا کروں مجھ رات دن یہ خیال ہے
یہ بہار بھی یوں ہی جائے گی جو یہی شکستہ پری رہی
مجھے علم میں تیرے جمال کا نہ خبر ہے ترے جلال کی
یہ کلیم جانے کہ طور پر تری کیسی جلوہ گری رہی
میں ازل سے آیا تو کیا ملا جو میں جاؤں گا تو ملے گا کیا
مری جب بھی دربدری رہی مری اب بھی دربدری رہی
یہی سوچتا ہوں شبِ الم کہ نہ آئے وہ تو ہوا ہے کیا
وہاں جا سکی نہ مری فغاں کہ فغاں کی بے اثری رہی
شبِ وعدہ جو نہ آسکے تو قمر کہوں گا چرخ سے
ترے تارے بھی گئے رائیگاں تری چاندنی بھی دھری رہی
قمر جلالوی

پری

کشمیری گیٹ دہلی کے ایک فلیٹ میں انور کی ملاقات پرویز سے ہوئی۔ وہ قطعاً متاثر نہ ہوا۔ پرویز نہایت ہی بے جان چیز تھی۔ انور نے جب اس کی طرف دیکھا اور اس کو آداب عرض کہا تو اس نے سوچا

’’یہ کیا ہے عورت ہے یا مولی‘‘

پرویز اتنی سفید تھی کہ اس کی سفیدی بے جان سی ہو گئی تھی جس طرح مولی ٹھنڈی ہوتی ہے اسی طرح اس کا سفید رنگ بھی ٹھنڈا تھا۔ کمر میں ہلکا سا خم تھا جیسا کہ اکثر مولیوں میں ہوتا ہے۔ انور نے جب اس کو دیکھا تو اس نے سبز دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ اس کو پرویز ہوبہو مولی نظر آئی جس کے ساتھ سبز پتے لگے ہوں۔ انور سے ہاتھ ملا کر پرویز اپنے ننھے سے کتے کو گود میں لے کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے سرخی لگے ہونٹوں پر جو اس کے سفید ٹھنڈے چہرے پر ایک دہکتا ہوا انگارہ سا لگتے تھے۔ ضعیف سی مسکراہٹ پیدا ہوئی کتے کے بالوں میں اپنی لمبی لمبی انگلیوں سے کنگھی کرتے ہوئے اس نے دیوار کے ساتھ لٹکتی ہوئی انور کے دوست جمیل کی تصویر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ ‘‘

انور کو اس کے ساتھ مل کر قطعاً خوشی نہیں ہوئی تھی۔ رنج بھی نہیں ہوا۔ اگر وہ سوچتا تو یقینی طور پر اپنے صحیح رد عمل کو بیان نہ کرسکا۔ دراصل پرویز سے مل کر وہ فیصلہ نہیں کرسکا تھا کہ وہ ایک لڑکی سے ملا ہے یا اسکی ملاقات کسی لڑکے سے ہوئی ہے۔ یا سردیوں میں کرکٹ کے میچ دیکھتے ہوئے اس نے ایک مولی خرید لی ہے۔ انور نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھیں خوبصورت تھیں۔ بس ایک صرف یہی چیز تھی۔ جس کے متعلق تعریفی الفاظ میں کچھ کہا جاسکتا تھا۔ ان آنکھوں کے علاوہ پرویز کے جسم کے ہرحصے پر نکتہ چینی ہوسکتی تھی۔ باہیں بہت پتلی تھیں۔ جو چھوٹی آستینوں والی قمیض میں سے بہت ہی یخ آلود انداز میں باہر کو نکلی ہوئی تھیں۔ اگر اس کے سر پر سبز ڈوپٹہ نہ ہوتا تو انور نے یقیناً اس کو فرجڈیر سمجھا ہوتا جس کا رنگ عام طور پر اکتا دینے والا سفید ہوتا ہے۔ اس کے ہونٹوں پر جیتے جیتے لہو جیسی سرخی بہت گھل رہی تھی۔ برف کے ساتھ آگ کا کیا جوڑ؟۔ اس کی چھوٹی آستینوں والی قمیض سفید کمبرک کی تھی۔ شلوار سفید لٹھے کی تھی۔ سینڈل بھی سفید تھے۔ اس تمام سفیدی پر اس کا سبز ڈوپٹہ اتنا انقلاب انگیز نہیں تھا۔ مگر اس کے سرخی لگے ہونٹ ایک عجیب سا ہنگامہ خیز تضاد بن کر اسکے چہرے کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے۔ صحن میں جب وہ چند قدم چل کر جمیل کی طرف اپنے ننھے سے کتے کو دیکھتی ہوئی بڑھی تھی۔ تو انور نے محسوس کیا تھا کہ یہ عورت جو کہ آرہی ہے عورت نہیں ننکاری ہے۔ اس سے ہاتھ ملاتے وقت اسے ایسا لگا تھا جیسے اس کا ہا تھ کسی لاش نے پکڑ لیا ہے۔ مگر جب اس نے باتیں شروع کیں تو وہ ٹھنڈی گرنت جو اس کے ہاتھ کے ساتھ چھٹی ہوئی تھی کچھ گرم ہونے لگی۔ وہ آوارہ خیال تھی۔ اس کی باتیں سب کی سب بے جوڑ تھیں۔ موسم کا ذکر کرتے کرتے وہ اپنے درزی کی طرف لڑھک گئی۔ درزی کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ اس کو اپنے کتے کی چھینکوں کا خیال آگیا۔ کتے نے چھینکا تو اس نے اپنے خاوند کے متعلق یہ کہنا شروع کردیا۔

’’وہ بالکل میراخیال نہیں رکھتے۔ دیکھیے ابھی تک دفترسے نہیں آئے۔ ‘‘

انور کے لیے پرویز اور اس کا خاوند دونوں بالکل نئے تھے۔ وہ پرویز کو جانتا تھا نہ اسکے خاوند کو۔ گفتگو کے دوران میں صرف اس کو اس قدر معلوم ہوا کہ پرویز کا خاوند جمیل کا پڑوسی ہے اور ایکسپورٹ امپورٹ کا کام کرتا ہے البتہ اس نے یہ ضرور محسوس کیا کہ پرویز گفتگو کے آغاز سے گفتگو کے اختتام تک اس کو ایسی نظروں سے دیکھتی تھی جن میں جنسی بلاوا تھا۔ انور کو حیرت تھی کہ ایک ٹھنڈی مولی میں یہ بلاوا کیسے ہو سکتا ہے۔ وہ اٹھ کر جانے لگ تو اس نے گود سے اپنے ننھے کتے کو اتارا اور اس سے کہا

’’چلو ٹینی چلیں‘‘

پھر مسز جمیل سے جیگروول کے بارے میں کچھ پوچھ کر اپنے سرخ ہونٹوں پر چھدری سی مسکراہٹ پیدا کرکے انور کی طرف ہاتھ بڑھا کر اس نے کہا۔

’’میرے ہزبنڈ سے مل کر آپ کو بہت خوشی ہو گی۔ ‘‘

ایک بار پھر انور نے فرجڈیٹر میں اپنا ہاتھ دھویا اور سوچا

’’مجھے اس کے ہزبنڈ سے مل کر کیا خوشی ہو گی۔ جب کہ یہ خود اس سے ناخوش ہے۔ اس نے کہا تھا کہ وہ میرا بالکل خیال نہیں رکھتے۔ ‘‘

دیر تک وہ جمیل اور اس کی بیوی سے باتیں کرتا رہا۔ کہ شاید ان میں سے کوئی پرویز کے متعلق بات کرے گا اور اس کو اس عورت کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوں گی جس کو اس نے ٹھنڈی مولی سمجھا تھا۔ مگر کوئی ایسی بات نہ ہوئی۔ جو پرویز کی شخصیت پر روشنی ڈالتی۔ جیگرودل کا ذکر آیا تو مسز جمیل نے صرف اتنا کہا۔

’’صرف کا ٹیسٹ رنگوں کے بارے میں بہت اچھا ہے۔ ‘‘

’’پرویز۔ پری‘‘

انور نے سوچا

’’کتنی غلط تخفیف ہے یہ خستہ سی ریڑھ کی ہڈی والی عورت جس کا رنگ اکتا دینے والی حد تک سفید ہے۔ اس کو پری کہا جائے کیا یہ کوہ قاف کی توہین نہیں؟‘‘

جب پرویز کے متعلق اور کوئی بات نہ ہوئی تو انور نے جمیل سے رخصت چاہی

’’اچھا بھائی میں چلتا ہوں‘‘

پھروہ مسز جمیل سے مخاطب ہوا۔

’’بھابھی آپ کی پری بڑی دلچسپ چیز ہے۔ ‘‘

مسز جمیل مسکرائی۔

’’کیوں‘‘

انور نے یونہی کہہ دیا تھا۔ مسز جمیل نے کیوں کہا تواس کو کوئی جواب نہ سوجھا۔ تھوڑے سے توقف کے بعد وہ مسکرایا۔

’’کیا آپ کے نزدیک وہ دلچسپ نہیں؟ کون ہیں یہ محترمہ؟‘‘

مسز جمیل نے کوئی جواب نہ دیا۔ جمیل نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے نظریں جھکا لیں۔ جمیل مسکرا کر اٹھا اور انور کے کاندھے کو دبا کر اس نے گٹک کر کہا۔ چلو تمہیں بتاتا ہوں کون ہیں یہ محترمہ۔ بڑی و اجبِ تعظیم ہستی ہیں‘‘

’’آپ کو تو بس کوئی موقعہ ملنا چاہیے‘‘

مسز جمیل کے لہجے میں جھنجھلاہٹ تھی۔ جمیل ہنسا۔

’’کیا میں غلط کہتا ہوں کہ پری واجبِ تعظیم ہستی نہیں‘‘

’’میں نہیں جانتی‘‘

یہ کہہ کر مسز جمیل اٹھی اور اندر کمرے میں چلی گئی۔ جمیل نے پھر انور کا کندھا دبایا اور اس سے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’بیٹھ جاؤ۔ تمہاری بھابھی نے ہمیں پری کے متعلق باتیں کرنے کا موقعہ دے دیا ہے۔ ‘‘

انور بیٹھ گیا۔ جمیل نے سگریٹ سلگایا اور اس سے پوچھا۔

’’تمہیں پری میں کیا دلچسپی نظر آئی؟‘‘

انور نے کچھ دیر اپنے دماغ کو کریدا

’’دلچسپی؟۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا میرا خیال ہے اس کا غیر دلچسپ ہونا ہی شاید اس دلچسپی کا باعث ہے۔ ‘‘

جمییل نے چٹکی بجا کر سگریٹ کی راکھ جھاڑی۔

’’لفظوں کا اُلٹ پھیر نہیں چلے گا۔ صاف صاف بتاؤ تمہیں اس میں کیا دلچسپی نظر ائی؟‘‘

انور کو یہ جرح پسند نہ آئی

’’مجھے جو کچھ کہنا تھا۔ میں نے کہہ دیا ہے۔ ‘‘

جمیل ہنسا، پھر ایک دم سنجیدہ کر اس نے سامنے کمرے کی طرف دیکھا اور دبی زبان میں کہا۔

’’بڑی خطرناک عورت ہے انور‘‘

انور نے حیرت سے پوچھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’مطلب یہ کہ محترمہ دو آدمیوں کا خون کرا چکی ہے۔ ‘‘

انور کی آنکھوں کے سامنے معاً پرویز کا سفید رنگ آگیا۔ مسکرا کر کہنے لگا۔

’’اسکے باوجود لہو کی ایک چھینٹ بھی نہیں اس میں‘‘

لیکن فوراً ہی اس کو معاملے کی سنگینی کا خیال آیا تو اس نے سنجیدہ ہو کر جمیل سے پوچھا

’’کیا کہا تم نے؟۔ دو آدمیوں کا خون؟‘‘

انور نے چٹکی بجا کر سگریٹ کی راکھ جھاڑی

’’جی ہاں۔ ایک کیپٹن تھا۔ دوسرا سربہاؤالدین کالڑ کا‘‘

’’کون سربہاؤالدین؟‘‘

’’اماں وہی۔ جو ایگریکلچرل ڈیپارٹمنٹ میں خدا معلوم کیا تھے‘‘

انور کو کچھ پتہ نہ چلا۔ بہاؤالدین کو چھوڑ کر اس نے جمیل سے پوچھا۔

’’کیسے خون ہوا ان دونوں کا؟‘‘

’’جیسے ہوا کرتا ہے۔ کالج میں کیپٹن صاحب سے پری کا یارا نہ تھا۔ شادی کرکے جب وہ بمبئی گئی تو وہاں سر بہاؤالدین کے لڑکے سے راہ و رسم پیدا ہو گئی۔ اتفاق سے ٹرنینگ کے سلسلے میں کپتان صاحب وہاں پہنچے۔ پرانے تعلقات قائم کرنا چاہے تو سربہاؤالدین کے لڑکے آڑے آئے۔ ایک پارٹی میں دونوں کی چخ ہوئی۔ دوسرے روز کپتان صاحب نے پستول داغ دیا۔ رقیب وہیں ڈھیر ہو گئے پری کو بہت افسوس ہوا۔ سربہاؤالدین کے لڑکے کی موت کے غم میں اس نے کئی دن سوگ میں کاٹے۔ جب کپتان صاحب کو پھانسی ہوئی تو لوگ کہتے ہیں۔ اس کی آنکھوں نے ہزار ہا اصلی آنسو بہائے۔ اس کے بعد ایک نوجوان پارسی اس کے دامِ محبت میں گرفتار ہو گیا۔ وصل کی رات جب اُسے پتہ چلا کہ اس کی محبوبہ شادی شدہ ہے تو اس نے اپنے باپ کی ڈسپنسری سے زہر لے کر رکھا لیا‘‘

انور نے کہا

’’یہ تین خون ہوئے‘‘

جمیل مسکرایا۔

’’نوجوان پارسی خوش قسمت تھا اس کے باپ نے اسے موت کے منہ سے بچا لیا۔ ‘‘

’’بڑی عجیب وغریب عورت ہے‘‘

یہ کہہ کر انور سوچنے لگا کہ پرویز جس میں کشش نام کو بھی نہیں کیسے ان ہنگاموں کا باعث ہوئی۔ کپتان نے اس میں کیا دیکھا۔ سر بہاؤالدین کے لڑکے کو اس میں کیا چیز نظر آئی؟۔ اور اس نوجوان پارٹی نے اس ڈھیلی ڈھالی عورت میں کیا دلکشی دیکھی؟ انور نے پرویز کو تصور میں ننگا کرکے دیکھا۔ ڈھیلی ڈھالی ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ جس پر سفید سفید گوشت منڈھا ہوا تھا۔ خون کے بغیر کوہلے دبلے پتلے لڑکے کے کولہوں جیسے تھے۔ ریڑھ کی ہڈی میں کوئی دم نہیں تھا۔ ایسا معلوم تھا کہ اگر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کسی نے دبایا تو وہ دونیم ہو جائے گی۔ بال کٹے ہوئے تھے جو ہائیڈروجن پراکسائڈ کے استعمال سے اپنا قدرتی رنگ کھو چکے تھے۔ کیا تھا اس کے سراپا میں؟۔ ایک فقط اس کی آنکھیں کچھ غنیمت تھیں۔ انور نے سوچا۔ صرف آنکھیں کون چاٹتا پھرتاہے۔ کوئی بات ہونی چاہیے۔ لیکن حیرت ہے کہ اس ٹھنڈی مولی نے اتنے بڑے ہنگامے پیدا کیے۔ مجھ سے تو جب اس نے ہاتھ ملایا تھا۔ تو میں نے خیال کیا تھا کہ مجھے بدبودارڈکاریں آنی شروع ہو جائیں گی۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ لیکن کچھ نہ کچھ ہے ضرور اس پری میں‘‘

جمیل نے اسے بتایا کہ راولپنڈی میں پرویز کے کالج کے رومانس مشہور ہیں۔ اس زمانے میں اس کے بیک وقت تین تین چار چار لڑکوں سے رومان چلتے تھے۔ چھ لڑکے اسی کے باعث کالج بدر ہوئے۔ ایک کو بیمار ہوکر سینے ٹوریم میں داخل ہونا پڑا۔ انور کی حیرت بڑھ گئی۔ اس نے جمیل سے پوچھا۔ کون ہے اس کا خاوند؟۔ اورخود کس کی لڑکی ہے؟‘‘

جمیل نے جواب دیا۔

’’بہت بڑے باپ کی۔ کسی زمانے میں احمد آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، آجکل ریٹائرڈ ہیں۔ خاوند اس کا ہندو ہے۔ ‘‘

’’ہندو؟‘‘

’’نہیں، اب عیسائی ہو چکا ہے؟‘‘

’’کیا کرتا ہے؟‘‘

’’میرا خیال ہے شروع میں اس کا ذکر آیا تھا۔ کہ ایکسپورٹ امپورٹ کا کام کرتا ہے۔ ‘‘

انور کو یاد آگیا۔

’’ہاں، ہاں کچھ ایسی بات ہوئی تھی۔ شاید بھابی جان نے بتایا تھا؟‘‘

جمیل اور انور تھوڑی دیر خاموش رہے۔ جمیل نے سگریٹ سلگایا اور ادھر ادھر دیکھ کر اسکی بیوی نہ سن رہی ہو۔ انور کا کاندھا دبا کر سرگوشی میں کہا۔

’’تم پری سے ضرور ملو۔ دیکھنا کیا ہوتا ہے؟‘‘

انور نے خود سے پوچھا مگر جمیل سے کہا

’’کیا ہو گا؟‘‘

جمیل کے ہونٹوں میں ایک شریر سی مسکراہٹ پیدا ہوئی۔

’’وہی ہو گا جومنظورِ خدا ہو گا‘‘

پھر اس نے آواز دبا کر کہا۔

’’کل شام چائے وہیں پئیں گے۔ اس کا خاوند رات کو آتا ہے۔ ‘‘

پروگرام طے ہو گیا۔ پرویز کے متعلق اتنی باتیں سن کر اسکے دماغ میں کھدبد سی ہورہی ہے۔ وہ بار بار سوچتا تھا۔ ملاقات پر کیا ہو گا۔ کوئی غیر معمولی چیز وقوع پذیر ہو گی۔ ہو سکتا ہے جمیل نے مذاق کیا ہو۔ ہو سکتا ہے جمیل نے جو کچھ بھی اسکے بارے میں کہا سرتاپا غلط ہو۔ لیکن پھر اسے خیال آتا۔ جمیل کو خواہ مخواہ جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔ ‘‘

دوسرے روز شام کو جمیل اور وہ دونوں پری کے ہاں آگئے وہ غسل خانے میں نہا رہی تھی۔ نوکر نے ان کو بڑے کمرے میں بٹھا دیا۔ انورووگ کی ورق گردانی کرنے لگا۔ دفعتہً جمیل اٹھا۔

’’میں سگریٹ بھول آیا۔ ابھی آتا ہوں‘‘

یہ کہہ کروہ چلا گیا۔ انور

’’ووگ‘‘

میں چھپی ہوئی ایک تصویر دیکھ رہا تھا کہ اسے کمرے میں کسی اور کی موجودگی کا احساس ہوا۔ نظریں اٹھا کر اس نے دیکھا تو پرویز تھی۔ انور سٹ پٹا گیا۔ اس نے سفید پاجامہ پہنا ہوا تھا جو جا بجا گیلا تھا۔ ململ کا کرتہ اس کے پانی سے تر بدن کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ مسکرا کر اس نے انور سے کہا۔

’’آپ بڑے انہماک سے تصویریں دیکھ رہے تھے۔ ‘‘

پرچہ چھوڑ کر انور اٹھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر پرویز اسکے پاس آگئی۔ پرچہ اٹھا کر اس نے ایک ہاتھ سے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو ایک طرف کیا۔ اور مسکرا کر کہا

’’مجھے معلوم ہے کہ آپ آئے ہیں تو میں ایسے ہی چلی آئی‘‘

یہ کہہ کر اس نے اپنے ململ کے گیلے کرتے کودیکھا۔ جس میں دو کالے دھبے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ پھر اس نے انور کا ہاتھ پکڑا

’’چلیے اندر چلیں۔ ‘‘

انور منمنایا

’’جمیل۔ جمیل بھی ساتھ تھا میرے۔ سگریٹ بھول آیا تھا۔ لینے گیا ہے۔ ‘‘

پرویز نے انور کو کھینچا۔

’’وہ آجائے گا۔ چلیے۔ ‘‘

انور کو جانا ہی پڑا۔ جس کمرے میں وہ داخل ہوئے اس میں کوئی کرسی نہیں تھی۔ دو اسپرنگوں والے ساگوانی پلنگ تھے۔ ایک ڈریسنگ ٹیبل تھی۔ اسکے ساتھ ایک اسٹول پڑا تھا۔ پری اس اسٹول پر بیٹھ گئی اور ایک پلنگ کی طرف اشارہ کرکے انور سے کہا۔

’’بیٹھیے‘‘

انور ہچکچاتے ہوئے بیٹھ گیا۔ اس نے چاہا کہ جمیل آجائے کیونکہ اسے بے حد الجھن ہورہی تھی۔ پرویز کے گیلے کرتے کے ساتھ چمٹے ہوئے دو کالے دھبے اس کو دواندھی آنکھیں لگتے تھے جو اس کے سینے کو گھور گھور کر دیکھ رہی ہیں۔ انور نے اٹھ کر جانا چاہا

’’میرا خیال ہے میں جمیل کو بلا لاؤں‘‘

مگر وہ اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ گئی۔ ڈرسنگ ٹیبل پر رکھے ہوئے فریم کی طرف اشارہ کرکے اس نے انور سے کہا۔

’’یہ میرے ہذبنڈ ہیں۔ بہت ظالم آدمی ہے جمیل صاحب۔ ‘‘

انور منمنایا۔

’’آپ مذاق کرتی ہیں۔ ‘‘

’’جی نہیں۔ میرے اور اس کے مزاج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اصل میں شادی سے پہلے مجھے دیکھ لینا چاہیے تھا کہ وہ سمجھتا ہے کہ نہیں۔ جس چیز کا مجھے شوق ہو اُسے بالکل پسند نہیں ہوتی۔ آپ بتائیے یہ کہتی ہوئی وہ اوٹ لگا کر پلنگ پر اوندھی لیٹ گئی۔

’’اس طرح لیٹنے میں کیا ہرج ہے۔ ‘‘

انور ایک کونے میں سرک گیا۔ اسے کوئی جواب نہ سوجھا۔ اس نے صرف اتنا سوچا

’’اس کا درمیانی حصہ کتنا غیر نسوانی ہے۔ ‘‘

پرویز اوندھی لیٹی رہی

’’آپ نے جواب نہیں دیا مجھے۔ بتائیے اس طرح لیٹنے میں کیا حرج ہے؟‘‘

انور کا حلق سوکھنے لگا۔

’’کوئی حرج نہیں۔ ‘‘

’’لیکن اس کو ناپسند ہے۔ خدا معلوم کیوں‘‘

یہ کہہ کر پرویز نے گردن ٹیڑھی کرکے انور کی طرف دیکھا۔

’’آدمی اس طرح لیٹتے تو معلوم ہوا ہے تیر رہا ہے۔ میں لیٹوں تو اوپربڑا تکیہ رکھ لیا کرتی ہوں۔ ذرا اٹھائیے نا وہ تکیہ اور میرے اوپر رکھ دیجیے۔ ‘‘

انور کا حلق بالکل خشک ہو گیا۔ اسکی سمجھ میں نہیں آتا کیا کرے۔ اٹھنے لگا تو پرویز نے اپنی پتلی ٹانگ سے اس کو روکا

’’بیٹھ جائیے نا‘‘

’’جی میں جمیل۔ ‘‘

وہ مسکرائی

’’جمیل بے وقوف ہے ایک دن مجھ سے باتیں کررہا تھا۔ میں نے اس سے کہا

’’اپنے خاوند کے سوا میرا اور کسی سے وہ تعلق نہیں رہا جو ایک مرد اور عورت میں ہوتا ہے۔ تو وہ ہنسنے لگا۔ مجھے تو ویسے بھی اس کا تعلق سے نفرت ہے‘‘

۔ ذرا تکیہ اٹھا کر رکھ دیجیے نا میرے اوپر!‘‘

انور اسی بہانے اٹھا۔ تکیہ دوسرے کونے میں پڑا تھا۔ اُسے اٹھایا اور پرویز کے درمیانی حصہ پر جوکہ بہت ہی غیر نسوانی تھا رکھ دیا۔ پرویز مسکرائی

’’شکریہ۔ بیٹھیے اب باتیں کریں۔ ‘‘

’’جی نہیں۔ آپ تکیے سے باتیں کریں۔ میں چلا۔ ‘‘

یہ کہہ کر انور پسینہ پونچھتا باہر نکل گیا۔ 7جون1950ء

سعادت حسن منٹو

صاحب ہی نے ہمارے یہ بندہ پروری کی

دیوان چہارم غزل 1500
جنگل میں چشم کس سے بستی کی رہبری کی
صاحب ہی نے ہمارے یہ بندہ پروری کی
شب سن کے شور میرا کچھ کی نہ بے دماغی
اس کی گلی کے سگ نے کیا آدمی گری کی
کرتے نہیں ہیں دل خوں اس رنگ سے کسو کا
ہم دل شدوں کی ان نے کیا خوب دلبری کی
اللہ رے کیا نمک ہے آدم کے حسن میں بھی
اچھی لگی نہ ہم کو خوش صورتی پری کی
ہے اپنی مہرورزی جانکاہ و دل گدازاں
اس رنج میں نہیں ہے امید بہتری کی
رفتار ناز کا ہے پامال ایک عالم
اس خودنما نے کیسی خودرائی خودسری کی
اے کاش اب نہ چھوڑے صیاد قیدیوں کو
جی ہی سے مارتی ہے آزادی بے پری کی
اس رشک مہ سے ہر شب ہے غیر سے لڑائی
بخت سیہ نے بارے ان روزوں یاوری کی
کھٹ پچریاں ہی کی ہیں صراف کے نے ہم سے
پیسے دے بیروئی کی پھر لے گئے کھری کی
گذرے بسان صرصر عالم سے بے تامل
افسوس میر تم نے کیا سیر سرسری کی
میر تقی میر

ہر دم نئی ہے میری گریباں دری ہنوز

دیوان چہارم غزل 1395
دیوانگی کی ہے وہی زور آوری ہنوز
ہر دم نئی ہے میری گریباں دری ہنوز
سر سے گیا ہے سایۂ لطف اس کا دیر سے
آنکھوں ہی میں پھرے ہے مری وہ پری ہنوز
شوخی سے زارگریہ کی خوں چشم میں نہیں
ویسی ہی ہے مژہ کی بعینہ تری ہنوز
کب سے نگاہ گاڑے ہے یاں روز آفتاب
ہم دیکھے ہیں جہاں کے تئیں سرسری ہنوز
مبہوت ہو گیا ہے جہاں اک نظر کیے
جاتی نہیں ان آنکھوں سے جادوگری ہنوز
ابر کرم نے سعی بہت کی پہ کیا حصول
ہوتی نہیں ہماری زراعت ہری ہنوز
مدت سے میر بے دل و دیں دلبروں میں ہے
کرتا نہیں ہے اس کی کوئی دلبری ہنوز
میر تقی میر

مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے

دیوان دوم غزل 979
کیا خور ہو طرف یار کے روشن گہری سے
مانا ہے حضور اس کے چراغ سحری سے
سبزان چمن ہوویں برابر ترے کیوں کر
لگتا ہے ترے سائے کو بھی ننگ پری سے
ہشیار کہ ہے راہ محبت کی خطرناک
مارے گئے ہیں لوگ بہت بے خبری سے
ایک آن میں رعنائیاں تیری تو ہیں سو سو
کب عہدہ برآئی ہوئی اس عشوہ گری سے
زنجیر تو پائوں میں لگی رہنے ہمارے
کیا اور ہو رسوا کوئی آشفتہ سری سے
جب لب ترے یاد آتے ہیں آنکھوں سے ہماری
تب ٹکڑے نکلتے ہیں عقیق جگری سے
عشق آنکھوں کے نیچے کیے کیا میر چھپے ہے
پیدا ہے محبت تری مژگاں کی تری سے
میر تقی میر

اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے

دیوان دوم غزل 978
تابوت مرا دیر اٹھا اس کی گلی سے
اثبات ہوا جرم محبت کا اسی سے
تم چھیڑتے ہو بزم میں مجھ کو تو ہنسی سے
پر مجھ پہ جو ہو جائے ہے پوچھو مرے جی سے
آتش بہ جگر اس در نایاب سے سب ہیں
دریا بھی نظر آئے اسی خشک لبی سے
گر ٹھہرے ملک آگے انھوں کے تو عجب ہے
پھرتے ہیں پڑے دلی کے لونڈے جو پری سے
نکلا جو کوئی واں سے تو پھر مر ہی کے نکلا
اس کوچے سے جاتے ہوئے دیکھا کسے جی سے
ہمسائے مجھے رات کو رویا ہی کرے ہیں
سوتے نہیں بے چارے مری نالہ کشی سے
تم نے تو ادھر دیکھنے کی کھائی ہے سوگند
اب ہم بھی لڑا بیٹھتے ہیں آنکھ کسی سے
چھاتی کہیں پھٹ جائے کہ ٹک دل بھی ہوا کھائے
اب دم تو لگے رکنے ہماری خفگی سے
اس شوخ کا تمکین سے آنا ہے قیامت
اکتانے لگے ہم نفساں تم تو ابھی سے
نالاں مجھے دیکھے ہیں بتاں تس پہ ہیں خاموش
فریاد ہے اس قوم کی فریاد رسی سے
تالو سے زباں رات کو مطلق نہیں لگتی
عالم ہے سیہ خانہ مری نوحہ گری سے
بے رحم وہ تجھ پاس لگا بیٹھنے جب دیر
ہم میر سے دل اپنے اٹھائے تھے تبھی سے
میر تقی میر

اک سارے تن بدن میں مرے پھک رہی ہے آگ

دیوان دوم غزل 847
کیا عشق خانہ سوز کے دل میں چھپی ہے آگ
اک سارے تن بدن میں مرے پھک رہی ہے آگ
گلشن بھرا ہے لالہ و گل سے اگرچہ سب
پر اس بغیر اپنے تو بھائیں لگی ہے آگ
پائوں میں پڑ گئے ہیں پھپھولے مرے تمام
ہر گام راہ عشق میں گویا دبی ہے آگ
جل جل کے سب عمارت دل خاک ہو گئی
کیسے نگر کو آہ محبت نے دی ہے آگ
اب گرم و سرد دہر سے یکساں نہیں ہے حال
پانی ہے دل ہمارا کبھی تو کبھی ہے آگ
کیونکر نہ طبع آتشیں اس کی ہمیں جلائے
ہم مشت خس کا حکم رکھیں وہ پری ہے آگ
کب لگ سکے ہے عشق جہاں سوز کو ہوس
ماہی کی زیست آب سمندر کا جی ہے آگ
روز ازل سے آتے ہیں ہوتے جگر کباب
کیا آج کل سے عشق کی یارو جلی ہے آگ
انگارے سے نہ گرتے تھے آگے جگر کے لخت
جب تب ہماری گود میں اب تو بھری ہے آگ
یارب ہمیشہ جلتی ہی رہتی ہیں چھاتیاں
یہ کیسی عاشقوں کے دلوں میں رکھی ہے آگ
افسردگی سوختہ جاناں ہے قہر میر
دامن کو ٹک ہلا کہ دلوں کی بجھی ہے آگ
میر تقی میر

اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی

دیوان اول غزل 471
کس حسن سے کہوں میں اس کی خوش اختری کی
اس ماہرو کے آگے کیا تاب مشتری کی
رکھنا نہ تھا قدم یاں جوں باد بے تامل
سیر اس جہاں کی رہرو پر تونے سرسری کی
شبہا بحال سگ میں اک عمر صرف کی ہے
مت پوچھ ان نے مجھ سے جو آدمی گری کی
پاے گل اس چمن میں چھوڑا گیا نہ ہم سے
سر پر ہمارے اب کے منت ہے بے پری کی
پیشہ تو ایک ہی تھا اس کا ہمارا لیکن
مجنوں کے طالعوں نے شہرت میں یاوری کی
گریے سے داغ سینہ تازہ ہوئے ہیں سارے
یہ کشت خشک تونے اے چشم پھر ہری کی
یہ دور تو موافق ہوتا نہیں مگر اب
رکھیے بناے تازہ اس چرخ چنبری کی
خوباں تمھاری خوبی تاچند نقل کریے
ہم رنجہ خاطروں کی کیا خوب دلبری کی
ہم سے جو میر اڑ کر افلاک چرخ میں ہیں
ان خاک میں ملوں کی کاہے کو ہمسری کی
میر تقی میر

کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

دیوان اول غزل 11
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا
شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا
چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا
ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بے داد گری کا
اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینے کو لپکا ہے پریشاں نظری کا
صد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گذرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا
اس رنگ سے جھمکے ہے پلک پر کہ کہے تو
ٹکڑا ہے مرا اشک عقیق جگری کا
کل سیر کیا ہم نے سمندر کو بھی جاکر
تھا دست نگر پنجۂ مژگاں کی تری کا
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہ شیشہ گری کا
ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسا ہے چراغ سحری کا
میر تقی میر

مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 614
تری تعمیر کی بنیاد اپنی بے گھری پر ہے
مگر اب احتجاج جاں فصیلِ آخری پر ہے
جسے حاصل کیا ہے تُو نے اپنی بیچ کر لاشیں
مرا تھو ایسی صدرِ مملکت کی نوکری پر ہے
فقط میری طرف سے ہی نہیں یہ پھولوں کا تحفہ
خدا کی لعنتِ پیہم بھی تیری قیصری پر ہے
جلوس اپنا ابھی نکلے گا کالی کالی قبروں سے
نظر اپنی بھی زر آباد کی خوش منظری پر ہے
قسم مجھ کو بدلتے موسموں کے سرخ رنگوں کی
ترا انجام اب لوگوں کی آشفتہ سری پر ہے
نظامِ زر !مجھے سونے کے برتن دے نہ تحفے میں
مرا ایمان تو خالی شکم کی بوزری پر ہے
زیادہ حیثیت رکھتی ہے پانی پت کی جنگوں سے
وہ اک تصویر بابر کی جو تزکِ بابری پر ہے
فرشتے منتظر ہیں بس سجا کر جنتیں اپنی
مرا اگلا پڑاؤ اب مریخ و مشتری پر ہے
وہ جو موج سبک سر ناچتی ہے میری سانسوں میں
سمندر کا تماشا بھی اسی بس جل پری پر ہے
اسے صرفِ نظر کرنے کی عادت ہی سہی لیکن
توقع، بزم میں اپنی مسلسل حاضری پر ہے
یقینا موڑ آئیں گے مرے کردار میں لیکن
ابھی تو دل کا افسانہ نگاہِ سرسری پر ہے
عجب تھیٹر لگا ہے عرسِ حوا پر کہ آدم کی
توجہ صرف اعضائے بدن کی شاعری پر ہے
وفا کے برف پروردہ زمانے یاد ہیں لیکن
یقیں منصور جذبوں کی دہکتی جنوری پر ہے
منصور آفاق

رو پڑے میری کافری اور میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 317
آسماں کی برابری اور میں
رو پڑے میری کافری اور میں
چار سو ہیں دعا کے گلدستے
بیچ میں آخری جری اور میں
لفظ کی بے بسی کی بستی میں
چشم و لب کی سخن وری اور میں
اپنی اپنی تلاش میں گم ہیں
عمر بھر کی مسافری اور میں
مر گئے اختتام سے پہلے
اک کہانی تھی متھ بھری اور میں
کچھ نہیں بانٹتے تناسب سے
میرا احساس برتری اور میں
ایک فیری کے خالی عرشے پر
رقص کرتی تھی جل پری اور میں
فہمِ منصور سے تو بالا ہے
یہ تری بندہ پروری اور میں
منصور آفاق

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 49
جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے
میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے
تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہے
مجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے
یہاں تو میری جان پر بن رہی ہے
تمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے
جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤ
وہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے
یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیا
وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے
جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولے
تمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے
امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوں
نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے
امیر مینائی