ٹیگ کے محفوظات: پرہیز

کہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیز

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 1
ہند کی وہ زمیں ہے عشرت خیز
کہ نہ زاہد کریں جہاں پرہیز
وجد کرتے ہیں پی کے مے صوفی
مست سوتے ہیں صبح تک شب خیز
رند کیا یاں تو شاہد و مے سے
پارسا کو نہیں گزیر و گریز
سخت مشکل ہے ایسی عشرت میں
خطرِ حشر و بیمِ رستا خیز
ہے غریبوں کو جراتِ فرہاد
ہے فقیروں کو عشرتِ پرویز
عیش نے یاں بٹھا دیا ناقہ
غم نے کی یاں سے رخش کو مہمیز
کوئی یاں غم کو جانتا بھی نہیں
جز غمِ عشق سو ہے عیش آمیز
بادِ صر صر یہاں نسیمِ چمن
نارِ عنصر سے آتشِ گل تیز
بوستاں کی طرح یہاں صحرا
دل کشا، دل پذیر، دل آویز
کوئی پامالِ جورِ چرخ نہیں
کتنی ہے یہ زمین راحت خیز
اثرِ زہرہ اس میں یاں پایا
وہ جو مریخ ہے بڑا خوں ریز
شیفتہ تھام لو عنانِ قلم
یہ زمیں گرچہ ہے ہوس انگیز
مصطفٰی خان شیفتہ

یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 266
کیوں نہ ہو چشمِ بُتاں محوِ تغافل ، کیوں نہ ہو؟
یعنی اس بیمار کو نظارے سے پرہیز ہے
مرتے مرتے ، دیکھنے کی آرزُو رہ جائے گی
وائے ناکامی ! کہ اُس کافر کا خنجر تیز ہے
عارضِ گُل دیکھ ، رُوئے یار یاد آیا ، اسدؔ!
جوششِ فصلِ بہاری اشتیاق انگیز ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب