ٹیگ کے محفوظات: پرو

پھر اُس کے بعد کہیں جا کے سو گئی وہ شام

اندھیرے پہلے تو گلشن میں بو گئی وہ شام
پھر اُس کے بعد کہیں جا کے سو گئی وہ شام
وہ اس کے ہونٹ، وہ رخسار اور وہ چہرہ
نظر سے محو ہوئے اور کھو گئی وہ شام
وہ جس میں سُرخیِ رُو، تیری سُرخیِ رُو تھی
نجانے کون گلستان کو گئی وہ شام
طلوع روز ہی ہوتا تھا، پھر نہیں لوٹا
نجانے کیوں مرا سورج ڈبو گئی وہ شام
انہیں گزار کے کچھ ساعتوں کے دھاگے سے
فلک پہ کیسے ستارے پرو گئی وہ شام
ہر ایک پل ہے مجھے یاد ہمرہی کا تری
حسابِ عمر سے پھر کیسے کھو گئی وہ شام
کشید کر کے شفق میری آنکھوں سے کل شب
بہ سقفِ یاد کہیں ثبت ہو گئی وہ شام
گئے، گئے، جو سمے لوٹ کب سکے یاوؔر
’’گئی وہ شام‘‘ یہ کہتے رہو!! ’’گئی وہ شام‘‘
یاور ماجد

مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں

اب صحنِ چمن میں کچھ بھی نہیں ہر چیز کو رو کر آیا ہُوں
مت ذکرِ بہاراں مجھ سے کرو میں باغ سے ہو کر آیا ہُوں
شُہرہ تھا بہت صنّاعی کا چرچا تھا بہت گُل کاری کا
دیکھا تَو لہو کے چھینٹے تھے اشکوں سے جو دھو کر آیا ہُوں
اُمّید کو زیرِ خاک کِیا دامانِ تمنّا چاک کِیا
میں خُونِ جگر قطرہ قطرہ لَڑیوں میں پرو کر آیا ہُوں
رہبر جو مِلے رہزن نکلے منزل جو چُنی منزل ہی نہ تھی
اُور زادِ سفر کا بھی یہ ہُوا جو تھا بھی وہ کھو کر آیا ہُوں
جس شخص کو بھی دیکھا ضامنؔ وہ غرقِ شکوہِ ماضی تھا
ہر ایک کِرَن مستقبل کی ماضی میں ڈبو کر آیا ہُوں
ضامن جعفری

بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر

دیوان پنجم غزل 1617
اک آدھ دن نکل مت اے ابر ادھر سے ہوکر
بیٹھا ہوں میں ابھی ٹک سارا جہاں ڈبو کر
اب کل نہیں ہے تجھ کو بے قتل غم کشوں کے
کہتے تو تھے کہ ظالم خوں ریزی سے نہ خو کر
کہتے ہیں راہ پائی زاہد نے اس گلی کی
روتا کہیں نہ آوے ایمان و دیں کو کھو کر
ہے نظم کا سلیقہ ہرچند سب کو لیکن
جب جانیں کوئی لاوے یوں موتی سے پرو کر
کیا خوب زندگی کی دنیا میں شیخ جی نے
تعبیر کرتے ہیں سب اب ان کو مردہ شو کر
گو تیرے ہونٹ ظالم آب حیات ہوں اب
کیا ہم کو جی کی بیٹھے ہم جی سے ہاتھ دھو کر
کس کس ادا سے فتنے کرتے ہیں قصد ادھر کا
جب بے دماغ سے تم اٹھ بیٹھتے ہو سو کر
ٹکڑے جگر کے میرے مت چشم کم سے دیکھو
کاڑھے ہیں یہ جواہر دریا کو میں بلو کر
احوال میرجی کا مطلق گیا نہ سمجھا
کچھ زیر لب کہا بھی سو دیر دیر رو کر
میر تقی میر

میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 289
میں عشق میں ہوں خاموش رہو میں عشق میں ہوں
میں عشق میں ہوں آشفتہ سرو میں عشق میں ہوں
اے شعلۂ گل کے سرخ لبوں کی شوخ شفق
چپ چاپ رہو آوازنہ دو میں عشق میں ہوں
اے صحن چمن کے پچھلے پہر کی تیز ہوا
مت پھولوں کے اب ہار پُرو میں عشق میں ہوں
آوازنہ دے اب کوئی مجھے چپ رنگ رہیں
اے قوسِ قزح کے نرم پرو میں عشق میں ہوں
ہے تیز بہت یہ آگ لہو کی پہلے بھی
اے جلوۂ گل بیباک نہ ہو میں عشق میں ہوں
ہے نام لکھا معشوقِ ازل کا ماتھے پر
اے ظلم و ستم کے شہر پڑھو میں عشق میں ہوں
اب حالتِ دل کو اور چھپانا ٹھیک نہیں
منصور اسے یہ کہہ کر رو میں عشق میں ہوں
منصور آفاق