ٹیگ کے محفوظات: پرور

بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 24
آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا
بو سے لینے کے لئے کعبے میں پتھر رکھ دیا
ہم نے ان کے سامنے اول تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا
زندگی میں پاس سے دم بھر نہ ہوتے تھے جدا
قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیونکر رکھ دیا
دیکھئے اب ٹھوکریں کھاتی ہے کس کس کی نگاہ
روزن دیوار میں ظالم نے پتھر رکھ دیا
زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈیں اسے
تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا
داغ کی شامت جو آئی اضطراب شوق میں
حال دل کمبخت نے سب ان کے منہ پر رکھ دیا
داغ دہلوی

جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو

دیوان دوم غزل 921
رکھیے گردن کو تری تیغ ستم پر ہو سو ہو
جی میں ہم نے یہ کیا ہے اب مقرر ہو سو ہو
قطرہ قطرہ اشک باری تو کجا پیش سحاب
ایک دن تو ٹوٹ پڑ اے دیدئہ تر ہو سو ہو
بند میں ناز و نعم ہی کے رہے کیونکر فقیر
یہ فضولی ہے فقیری میں میسر ہو سو ہو
آ کے کوچے سے ترے جاتا ہوں کب جوں ابرشب
تیر باراں ہو کہ برسے تیغ یک سر ہو سو ہو
صاحبی کیسی جو تم کو بھی کوئی تم سا ملا
پھر تو خواری بے وقاری بندہ پرور ہو سو ہو
کب تلک فریاد کرتے یوں پھریں اب قصد ہے
داد لیجے اپنی اس ظالم سے اڑ کر ہو سو ہو
بال تیرے سر کے آگے تو جیوں کے ہیں وبال
سر منڈاکر ہم بھی ہوتے ہیں قلندر ہو سو ہو
سختیاں دیکھیں تو ہم سے چند کھنچواتا ہے عشق
دل کو ہم نے بھی کیا ہے اب تو پتھر ہو سو ہو
کہتے ہیں ٹھہرا ہے تیرا اور غیروں کا بگاڑ
ہیں شریک اے میر ہم بھی تیرے بہتر ہو سو ہو
میر تقی میر

کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت

دیوان دوم غزل 786
دیکھیے کب ہو وصال اب تو لگے ہے ڈر بہت
کوفت گذرے ہے فراق یار میں جی پر بہت
دل کی ویسی ہے خرابی کثرت اندوہ سے
جیسے رہ پڑتا ہے دشمن کا کہیں لشکر بہت
ہم نشیں جا بیٹھ محنت کش کوئی دل چاہیے
عشق تیرا کام ہے تو ہے بغل پرور بہت
بس نہیں مجھ ناتواں کا ہائے جو کچھ کرسکوں
مدعی پُرچَک سے اس کی پڑ گیا ہے ور بہت
سخت کر جی کیونکے یک باری کریں ہم ترک شہر
ان گلی کوچوں میں ہم نے کھائے ہیں پتھر بہت
دیکھ روے زرد پر بھی میرے آنسو کی ڈھلک
اے کہ تونے دیکھی ہے غلطانی گوہر بہت
ہم نفس کیا مجھ کو تو رویا کرے ہے روز و شب
رہ گئے ہیں مجھ سے کوے یار میں مرکر بہت
کم مجھی سے بولنا کم آنکھ مجھ پر کھولنا
اب عنایت یار کی رہتی ہے کچھ ایدھر بہت
کیا سبب ہے اب مکاں پر جو کوئی پاتا نہیں
میر صاحب آگے تو رہتے تھے اپنے گھر بہت
میر تقی میر

طرف ہوا نہ کبھو ابر دیدئہ تر کا

دیوان دوم غزل 753
ٹپکتی پلکوں سے رومال جس گھڑی سرکا
طرف ہوا نہ کبھو ابر دیدئہ تر کا
کبھو تو دیر میں ہوں میں کبھو ہوں کعبے میں
کہاں کہاں لیے پھرتا ہے شوق اس در کا
غم فراق سے پھر سوکھ کر ہوا کانٹا
بچھا جو پھول اٹھا کوئی اس کے بستر کا
اسیر جرگے میں ہوجائوں میں تو ہوجائوں
وگرنہ قصد ہو کس کو شکار لاغر کا
ہمیں کہ جلنے سے خوگر ہیں آگ میں ہے عیش
محیط میں تو تلف ہوتا ہے سمندر کا
قریب خط کا نکلنا ہوا سو خط موقوف
غبار دور ہو کس طور میرے دلبر کا
بتا کے کعبے کا رستہ اسے بھلائوں راہ
نشاں جو پوچھے کوئی مجھ سے یار کے گھر کا
کسو سے مل چلے ٹک وہ تو ہے بہت ورنہ
سلوک کاہے کو شیوہ ہے اس ستمگر کا
شکستہ بالی و لب بستگی پر اب کی نہ جا
چمن میں شور مرا اب تلک بھی ہے پر کا
تلاش دل نہیں کام آتی اس زنخ میں گئے
کہ چاہ میں تو ہے مرنا برا شناور کا
پھرے ہے خاک ملے منھ پہ یا نمد پہنے
یہ آئینہ ہے نظر کردہ کس قلندر کا
نہ ترک عشق جو کرتا تو میر کیا کرتا
جفا کشی نہیں ہے کام ناز پرور کا
میر تقی میر

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

دیوان اول غزل 107
دل جو زیرغبار اکثر تھا
کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن
رات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہان سے گذرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم
یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلوم
دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ
کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا
جب تلک عہد دیدئہ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آباد
ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلہ غافل
رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گذرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبال
اک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
میر تقی میر

زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 216
صبحِ انساں کے منظر پہ لاکھوں سلام
زندگی کے پیمبر پہ لاکھوں سلام
جس میں رہتی تھی عرشِ کرم کی بہشت
کچی اینٹوں کے اُس گھر پہ لاکھوں سلام
جس پہ آرام کرتے تھے شاہِ عرب
اُس کھجوروں کے بستر پہ لاکھوں سلام
جس سے پیتے تھے پانی شہء دوسرا
اس گھڑے کے لبِ تر پہ لاکھوں سلام
جس نے کیڑوں مکوڑوں کا رکھا خیال
اُس حسیں پائے اطہر پہ لاکھوں سلام
جس کے گھر مال و زر کا چلن ہی نہ تھا
ایسے نادار پرور پہ لاکھوں سلام
جس قناعت نے بدلا نظامِ معاش
اس شکم پوش پتھر پہ لاکھوں سلام
اک ذرا سی بھی جنش نہیں پاؤں میں
استقامت کے پیکر پہ لاکھوں سلام
زر ضرورت سے زائد تمہارا نہیں
کہنے والے کرم ور پہ لاکھوں سلام
جس کے مذہب میں ہے مالِ ساکت حرام
اُس رسولِ ابوزر پہ لاکھوں سلام
جس نے اسراف و تبذیر تک ختم کی
اُس غریبوں کے سرور پہ لاکھوں سلام
منصور آفاق