ٹیگ کے محفوظات: پروانہ

گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ

نینا عادل ۔ غزل نمبر 3
زندگی چھلکتا اک آرزو کا پیمانہ
گھونٹ گھونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ
پوچھتا نہیں ہرگز حالِ دل کسی صورت
آئینے میں رہتا ہے کوئی ہم سے بیگانہ
رات کی ہتھیلی پر رینگتے ہیں اندیشے
رقص لو پہ کرتا ہے جس طرح سے پروانہ
خال خال بھاتا ہے کوئی پوجنے والا
شاذ شاذ کھلتا ہے رشکِ دل یہ بت خانہ
پیاس جھیل جاتی ہے دور تک سرابوں کو
دشت اوڑھ لیتے ہیں خامشی سے ویرانہ
نینا عادل

اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 21
ہوا شب کو عبث مئے کے لئے جانا تو کیا ہو گا
اندھیرے میں نظر نہ آیا میخانہ تو کیا ہو گا
چمن والو قفس کی قید بے میعاد ہوتی ہے
تمھیں آؤ تو آ جانا میرا آنا تو کیا ہو گا
گرا ہے جام خود ساقی سے اس پر حشر برپا ہے
مرے ہاتھوں سے چھوتے گا پیمانہ تو کیا ہو گا
جگہ تبدیل کرنے کو تو کر لوں ساقی میں
وہاں بھی آ سکا مجھ تک نہ پیمانہ تو کیا ہو گا
بہارِ گل بنے بیٹھے ہو تم غیروں کی محفل میں
کوئی ایسے میں ہو جائے دیوانہ تو کیا ہو گا
سرِ محشر مجھے دیکھا تو وہ دل میں یہ سوچیں گے
جو پہچانا تو کیا ہو گا نہ پہچانا تو کیا ہو گا
حفاظت کے لئے اجڑی ہوئی محفل میں بیٹھے ہیں
اڑا دی گر کسی نے خاکِ پروانہ تو کیا ہو گا
زباں تو بند کرواتے ہو تم اللہ کے آگے
کہا ہم نے اگر آنکھوں سے افسانہ تو کیا ہو گا
قمر اس اجنبی محفل میں تم جاتے تو ہو لیکن
وہاں تم کو کسی نے بھی نہ پہچانا تو کیا ہو گا
قمر جلالوی

برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 134
غم نہیں ہوتا ہے آزادوں کو بیش از یک نفس
برق سے کرتے ہیں روشن، شمعِ ماتم خانہ ہم
محفلیں برہم کرے ہے گنجفہ بازِ خیال
ہیں ورق گردانــئ نیرنگِ یک بت خانہ ہم
باوجودِ یک جہاں ہنگامہ پیرا ہی نہیں
ہیں "چراغانِ شبستانِ دلِ پروانہ” ہم
ضعف سے ہے، نے قناعت سے یہ ترکِ جستجو
ہیں "وبالِ تکیہ گاہِ ہِمّتِ مردانہ” ہم
دائم الحبس اس میں ہیں لاکھوں تمنّائیں اسدؔ
جانتے ہیں سینۂ پُر خوں کو زنداں خانہ ہم
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو

دیوان پنجم غزل 1704
دل کھلتا ہے واں صحبت رندانہ جہاں ہو
میں خوش ہوں اسی شہر سے میخانہ جہاں ہو
ان بکھرے ہوئے بالوں سے خاطر ہے پریشاں
وے جمع ہوئے پر ہیں بلا شانہ جہاں ہو
رہنے سے مرے پاس کے بدنام ہوئے تم
اب جاکے رہو واں کہیں رسوا نہ جہاں ہو
کچھ حال کہیں اپنا نہیں بے خودی تجھ کو
غش آتا ہے لوگوں کو یہ افسانہ جہاں ہو
کیوں جلتا ہے ہر جمع میں مانند دیے کے
اس بزم میں جا شمع سا پروانہ جہاں ہو
ان اجڑی ہوئی بستیوں میں دل نہیں لگتا
ہے جی میں وہیں جا بسیں ویرانہ جہاں ہو
وحشت ہے خردمندوں کی صحبت سے مجھے میر
اب جا رہوں گا واں کوئی دیوانہ جہاں ہو
میر تقی میر

جیدھر ہو وہ مہ نکلا اس راہ نہ ہم کو جانا تھا

دیوان پنجم غزل 1566
عشق کیے پچھتائے ہم تو دل نہ کسو سے لگانا تھا
جیدھر ہو وہ مہ نکلا اس راہ نہ ہم کو جانا تھا
غیریت کی اس کی شکایت یار عبث اب کرتے ہیں
طور اس شوخ ستم پیشہ کا طفلی سے بیگانہ تھا
بزم عیش کی شب کا یاں دن ہوتے ہی یہ رنگ ہوا
شمع کی جاگہ دود تنک تھا خاکستر پروانہ تھا
دخل مروت عشق میں تھا تو دروازے سے تھوڑی دور
ہمرہ نعش عاشق کے اس ظالم کو بھی آنا تھا
طرفہ خیال کیا کرتا تھا عشق و جنوں میں روز و شب
روتے روتے ہنسنے لگا یہ میر عجب دیوانہ تھا
میر تقی میر

بس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا

دیوان اول غزل 75
ناکسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
بس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پرپیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کی
دیدئہ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا
گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیم
مدتیں گذریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا
دور تجھ سے میر نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخ
کل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا
میر تقی میر

دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 275
ہاں اے دلِ دیوانہ حریفانہ اٹھا لے
دُنیا نے جو پھینکا ہے وہ دستانہ اٹھا لے
خاک اڑتی ہے سینے میں بہت رقص نہ فرما
صحرا سے مری جان پری خانہ اٹھا لے
تم کیا شررِ عشق لیے پھرتے ہو صاحب
اس سے تو زیادہ پرِ پروانہ اٹھا لے
یار اتنے سے گھر کے لیے یہ خانہ بدوشی
سر پر ہی اٹھانا ہے تو دُنیا نہ اٹھا لے
پھر بار فقیروں کا اٹھانا مرے داتا
پہلے تو یہ کشکولِ فقیرانہ اٹھا لے
جو رنج میں اس دل پہ اٹھایا ہوں اسے چھوڑ
تو صرف مرا نعرۂ مستانہ اٹھا لے
آسان ہو جینے سے اگر جی کا اٹھانا
ہر شخص ترا عشوۂ ترکانہ اٹھا لے
لو صبح ہوئی موجِ سحر خیز ادھر آئے
اور آکے چراغِ شبِ افسانہ اٹھا لے
ہم لفظ سے مضمون اٹھا لاتے ہیں جیسے
مٹی سے کوئی گوہرِ یک دانہ اٹھا لے
عرفان صدیقی