ٹیگ کے محفوظات: پرندہ

مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 165
پھر کسی نام کا مہتاب نہ نکلا مجھ میں
مدتیں ہو گئیں ڈوبا تھا وہ چہرہ مجھ میں
روز و شب جسم کی دیوار سے ٹکراتا ہے
قید کر رکھا ہے کس نے یہ پرندہ مجھ میں
ایک مدت سے مری بیعت جاں مانگتی تھی!
آج خاموش ہے کیا دیکھ کے دنیا مجھ میں
ویسے میرے خس و خاشاک میں کیا رکھا ہے
آگ دکھلاؤ تو نکلے گا تماشا مجھ میں
ریت اُڑتی ہے بہت ساحل احساس کے پاس
سوکھتا جاتا ہے شاید کوئی دریا مجھ میں
اب میں خود سے بھی مخاطب نہیں ہونے پاتا
جب سے چپ ہو گیا وہ بولنے والا مجھ میں
عرفان صدیقی

سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 57
سرحدیں اچھی کہ سرحد پہ نہ رکنا اچھا
سوچئے آدمی اچھا کہ پرندہ اچھا
آج تک ہیں اسی کوچے میں نگاہیں آباد
صورتیں اچھی، چراغ اچھے، دریچہ اچھا
ایک چلو سے بھرے گھر کا بھلا کیا ہو گا
ہم کو بھی نہر سے پیاسا پلٹ آنا اچھا
پھول چہروں سے بھی پیارے تو نہیں ہیں جنگل
شام ہوجائے تو بستی ہی کا رستہ اچھا
رات بھر رہتا ہے زخموں سے چراغاں دل میں
رفتگاں، تم نے لگا رکھا ہے میلہ اچھا
جا کے ہم دیکھ چکے، بند ہے دروازہ شہر
ایک رات اور یہ رُکنے کا بہانہ اچھا
عرفان صدیقی

فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 88
زمیں پلٹی تو الٹا گر پڑا تھا
فلک پر اس کا ملبہ گر پڑا تھا
میں بھر لایا ہوں مشکیزہ دکھوں سے
کنویں کی تہہ میں صحرا گر پڑا تھا
سُکھانا چاہتا تھا خواب لیکن
ٹشو پیپر پہ آنسو گر پڑا تھا
مری رفتار کی وحشت سے ڈر کر
کسی کھائی میں رستہ گر پڑا تھا
کھلی تھی اک ذرا بس چونچ اس کی
کہیں چاول کا دانہ گر پڑا تھا
مرے کردار کی آنکھیں کھلی تھیں
اور اس کے بعد پردہ گر پڑا تھا
مری سچائی میں دہشت بڑی تھی
کہیں چہرے سے چہرہ گر پڑا تھا
بس اک موجِ سبک سر کی نمو سے
ندی میں پھر کنارہ گر پڑا تھا
مرے چاروں طرف بس کرچیاں تھیں
نظر سے اک کھلونا گر پڑا تھا
اٹھا کر ہی گیا تھا اپنی چیزیں
بس اس کے بعد کمرہ گر پڑا تھا
نظر منصور گولی بن گئی تھی
ہوا میں ہی پرندہ گر پڑا تھا
منصور آفاق