ٹیگ کے محفوظات: پرست

ہو وہ شکستِ خواب یا خوابِ شکست ہو

ہر طور ہر لحاظ سے ہی مرگِ ہست ہو
ہو وہ شکستِ خواب یا خوابِ شکست ہو
لاؤ گگن سے چاندنی جیسی کوئی شراب
پی کر جسے یہ راندۂ ظلمات مست ہو
کرتے ہو ہر پہر ہی شب و روز کا طواف
تم وقت کے پجاری ہو، لمحہ پرست ہو
آؤ ناں پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو
بارش کی کوئی شب ہو مہینہ اگست ہو
خالی اگر ہے جیب تو افسوس کچھ نہیں
اک سانحہ ہے دِل بھی اگر تنگ دست ہو
یاؔور کہیں یہ اَن کِھلے گل مجھ سے بار بار
قوسِ قزح کے آنے کا کچھ بندوبست ہو
یاور ماجد

اعلان کر دیا گیا میری شکست کا

امکان دیکھنے کو رکا تھا میں جست کا
اعلان کر دیا گیا میری شکست کا
سائے سے اپنے قد کا لگاتا ہے تُو حساب
اندازہ ہو گیا ہے ترے ذہنِ پست کا
تجھ کو بدن کی حد سے نکلنا کہاں نصیب
سمجھے گا کیسے روح کو آلودہ ہست کا
تُو ہے۔ کہ کل کی بات کا رکھتا نہیں ہے پاس
میں ہوں کہ پاسدار ہوں عہدِ الست کا
جس سے گروہِ بادہ فروشاں حسد کرے
طاری ہے مجھ پہ نشّہ اُسی چشمِ مست کا
جا شہرِ کم نگاہ میں شہرت سمیٹ لے
یہ کام ہے بھی تجھ سے ہی موقع پرست کا
شاہِ جنوں کا تخت بچھا ہے بہ اہتمام
پہلو میں انتظام ہے میری نشست کا
وسعت ملی ہے ضبط کو میرے بقدرِ درد
بولو کوئی جواب ہے اس بندوبست کا؟
عرفان تیری لاج بھی اللہ کے سپرد
ستّار ہے وہی تو ہر اک تنگ دست کا
عرفان ستار

محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو

ترمیمِ عہد نامہِ روزِ اَلَست ہو
محشر سے قبل کوئی نیا بندوبست ہو
پہلے وہ عصرِ حاضر و ماضی کرے بَہَم
ایسے کہ ہست بود نہ ہو، بود ہست ہو
ہر احتیاط حُسن پہ لازم قرار پائے
فطرت ہو عشق کی کہ وہ موقع پَرَست ہو
جب ہو اَنائے حُسن کے حُسنِ اَنا کی بات
ہو فتحِ عشق گرچہ بظاہر شکَست ہو
لگتا ہے جیسے سُن کے "اَلَستُ بِرَبّکُم”
ضاؔمن ہنوز وردِ "بَلیٰ” میں ہو، مست ہو
ضامن جعفری

اعلان کردیا گیا میری شکست کا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 6
امکان دیکھنے کو رکا تھا میں جست کا
اعلان کردیا گیا میری شکست کا
سائے سے اپنے قد کا لگاتا ہے تُو حساب
اندازہ ہو گیا ہے ترے ذہنِ پست کا
تجھ کو بدن کی حد سے نکلنا کہاں نصیب
سمجھے گا کیسے روح کو آلودہ ہست کا
تُو ہے۔ کہ کل کی بات کا رکھتا نہیں ہے پاس
میں ہوں کہ پاسدار ہوں عہدِ الست کا
جس سے گروہِ بادہ فروشاں حسد کرے
طاری ہے مجھ پہ نشّہ اُسی چشمِ مست کا
جا شہرِ کم نگاہ میں شہرت سمیٹ لے
یہ کام ہے بھی تجھ سے ہی موقع پرست کا
شاہِ جنوں کا تخت بچھا ہے بہ اہتمام
پہلو میں انتظام ہے میری نشست کا
وسعت ملی ہے ضبط کو میرے بقدرِ درد
بولو کوئی جواب ہے اس بندوبست کا؟
عرفان تیری لاج بھی اللہ کے سپرد
ستّار ہے وہی تو ہر اک تنگ دست کا
عرفان ستار

پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 33
وُہ جامِ فتح ہو کہ وُہ جامِ شکست ہو
پی کر بقدرِ حوصلہ مے خوار مست ہو
پھر کیوں نہ آدمی ہو ثمر ایسے باغ کا
اسبابِ خیر و شر کا جہاں بندوبست ہو
خبروں میں بل پڑے ہوئے شیشے کا وصف ہے
شاید کہ تم بلند ہو شاید کہ پست ہو
ہر ہاں نہیں میں اور نہیں ہاں میں رونما
جیسے یہ ہست بود ہو اور بود ہست ہو
مشکل نہیں ہے وارنا احساں پہ عدل کا
فطرت میں آدمی نہ اگر تنگ دست ہو
اتنا ہوا کہ سنگ کو تجرید مل گئی
تم مان لو کہ اصل میں تم بت پرست ہو
آفتاب اقبال شمیم