ٹیگ کے محفوظات: پرستار

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے‘ پسِ دیوار گرے

آ کے پتّھر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اس پیڑ کے پھل تھے‘ پسِ دیوار گرے
ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کُھلے پانی کی
آنکھ جھپکی بھی نہیں ‘ ہاتھ سے پتوار گرے
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سایہِ دیوار پہ دیوار گرے
تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط
یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے
کیا ہَوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی
کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے
دیکھ کر اپنے دروبام‘ لرز جاتا ہوں
میرے ہم سائے میں جب بھی کوئی دیوار گرے
وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے
کس گھڑی سر پہ یہ لٹکی ہوئی تلوار گرے
ہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹان
ہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے‘ ناچار گرے
کیا کہوں دیدہِ تر‘ یہ تو مرا چہرہ ہے
سنگ کٹ جاتے ہیں ‘ بارش کی جہاں دھار گرے
ہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلدل کے سوا
ہائے کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گرے
وہ تجلّی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے تیر
آئنے ٹوٹ گئے‘ آئنہ بردار گرے
دیکھتے کیوں ہو شکیبؔ! اتنی بلندی کی طرف
نہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گرے
شکیب جلالی

تُجھ سے ملے تو ابرِ گہر بار ہو گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
سب سرحدوں سے شوق کی ہم پار ہو گئے
تُجھ سے ملے تو ابرِ گہر بار ہو گئے
ہر جنبشِ بدن کے تقاضے تھے مختلف
جذبے تمام مائلِ اظہار ہو گئے
زندہ رہے جو تُجھ سے بچھڑ کر بھی مُدّتوں
ہم لوگ کس قدر تھے جگردار ہو گئے
اپنے بدن کے لمس کی تبلیغ دیکھنا
ہم سحرِ آذری کے پرستار ہو گئے
دو وقت، دو بدن تھے، کہ جانیں تھیں دو بہم
رستے تمام مطلعِٔ انوار ہو گئے
ماجد ہے کس کا فیضِ قرابت کہ اِن دنوں
پودے سبھی سخن کے ثمردار ہو گئے
ماجد صدیقی