ٹیگ کے محفوظات: پربت

بے کس ہوئے بے بس ہوئے بے کل ہوئے بے گت ہوئے

دیوان چہارم غزل 1493
بے دل ہوئے بے دیں ہوئے بے وقر ہم ات گت ہوئے
بے کس ہوئے بے بس ہوئے بے کل ہوئے بے گت ہوئے
ہم عشق میں کیا کیا ہوئے اب آخر آخر ہوچکے
بے مت ہوئے بے ست ہوئے بے خود ہوئے میت ہوئے
الفت جو کی کہتا ہے جی حالت نہیں عزت نہیں
ہم بابت ذلت ہوئے شائستۂ کلفت ہوئے
گر کوہ غم ایسا گراں ہم سے اٹھے پس دوستاں
سوکھے سے ہم دینت ہوئے تنکے سے ہم پربت ہوئے
کیا رویئے قیدی ہیں اب رویت بھی بن گل کچھ نہیں
بے پر ہوئے بے گھر ہوئے بے زر ہوئے بے پت ہوئے
آنکھیں بھر آئیں جی رندھا کہیے سو کیا چپکے سے تھے
جی چاہتا مطلق نہ تھا ناچار ہم رخصت ہوئے
یامست درگا ہوں میں شب کرتے تھے شاہد بازیاں
تسبیح لے کر ہاتھ میں یا میر اب حضرت ہوئے
میر تقی میر

صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 25
ہمیشہ سے کیا ہے رشک میں نے اپنی قسمت پر
صنوبر سا کھڑا ہوں شانِ تنہائی کے پربت پر
میں اپنی ذات میں آوارہ گردِ دو جہاں ٹھہرا
یہ نثر روز مرّہ بار ہے میری طبیعت پر
مجھے اپنا زیاں کرنے میں اک تسکین ملتی ہے
سمجھتا ہوں کہ اس سے قرض گھٹتا ہے محبت پر
ہر اک بازار اس کی کُنڈلی کا پیچ لگتا ہے
یہ مارِ زرد جو بیٹھا ہوا ہے دل کی دولت پر
آفتاب اقبال شمیم