ٹیگ کے محفوظات: پتنگ

اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا

دیوان سوم غزل 1058
کرتا جنوں جہاں میں بے نام و ننگ آیا
اک جمع لڑکوں کا بھی لے لے کے سنگ آیا
شب شمع کی بھی جھپکی مجلس میں لگ گئی تھی
سرگرم شوق مردن جس دم پتنگ آیا
فتنے فساد اٹھیں گے گھر گھر میں خون ہوں گے
گر شہر میں خراماں وہ خانہ جنگ آیا
ہر سر نہیں ہے شایاں شور قلندری کا
گو شیخ شہر باندھے زنجیر و زنگ آیا
چسپاں ہے اس بدن سے پیراہن حریری
اتنی بھی تنگ پوشی جی اب تو تنگ آیا
باتیں ہماری ساری بے ڈھنگیاں ہیں وے ہی
بوڑھے ہوئے پہ ہم کو اب تک نہ ڈھنگ آیا
بشرے کی اپنے رونق اے میر عارضی ہے
جب دل کو خوں کیا تو چہرے پہ رنگ آیا
میر تقی میر

پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ

دیوان دوم غزل 795
اگرچہ لعل بدخشاں میں رنگ ڈھنگ ہے شوخ
پہ تیرے دونوں لبوں کا بھی کیا ہی رنگ ہے شوخ
کبھو تو نیو چلاکر ستم کھنچیں کب تک
کماں کے طور سے تو سخت خانہ جنگ ہے شوخ
سکھائیں کن نے تجھے آہ ایسی اچپلیاں
کہ برق پر تری شوخی سے کام تنگ ہے شوخ
بغیر بادہ تو یوں گرم آ کے کب ملتا
نشہ ہے زور تجھے اس کی یہ ترنگ ہے شوخ
جگر میں کس کے ترے ہاتھ سے نہیں سوراخ
ملک تلک تو ترا زخمی خدنگ ہے شوخ
صنم فراق میں میں تیرے کچھ تو کر رہتا
پہ کیا کروں کہ مرا ہاتھ زیرسنگ ہے شوخ
خیال چاہ کے سررشتے کا تجھے کب ہے
ترے تو ہاتھ میں شام و سحر پتنگ ہے شوخ
ابھی تو آنے میں عرصہ ہے کچھ قیامت کے
قد بلند کو کھینچ اپنے کیا درنگ ہے شوخ
برآر میر سے کس طرح تیری صحبت ہو
تجھے تو نام سے اس خستہ جاں کے ننگ ہے شوخ
میر تقی میر

ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے

دیوان اول غزل 532
قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے
ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے
اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کی
جنھوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے
ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازار
ہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے
رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرق
کہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میر
ہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے
میر تقی میر

ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 114
ہوٹھاں دے وچکار تے اکو چُپ دا زنگ سی
ماجدُ بناں بیان دے، فکراں دا کیہ رنگ سی
اک اک پرت سی یاد دا، جویں دوپٹہ لہریا
ہیٹھ سرہانے مہکدی، اوہدی اک اک ونگ سی
وانگ سودائیاں شہر وچ، دل دا حال وِچاریا
کنّاں نال نہ ٹھاکیا، دَسیا تے لاہ لنگ سی
اکو جثہ آپنا، نئیں سی اگ چ، ساڑیا
سچی گل اے روح وی، ہن تے مینتھوں تنگ سی
چار چفیرے روشنی، نھیرے مینوں ولہٹیا
ستی سوں گئی سوچ وی، وہماں دا اوہ سنگ سی
اوہ وی ہے سی ماجداُ، وگدی وا بسنت دی
دل وی ادوں آپنا، جیئوں بِن ڈور پتنگ سی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)