ٹیگ کے محفوظات: پا

میرا مطلب ہے جھوٹا خدا بچ گیا

اک خُدا مر گیا دوسرا بچ گیا
میرا مطلب ہے جھوٹا خدا بچ گیا
سات رنگوں سے بنتا رہا یہ جہاں
رنگ آخر میں صرف اک ہرا بچ گیا
بچ بچاؤ میں کچھ بھی نہیں بچ سکا
کارواں لُٹ گیا رہ نُما بچ گیا
میں مصیبت میں تھا دوستو! دشمنو!
نام مُرشد کا جونہی لیا، بچ گیا
میری تدفین میں دیر مت کیجیو!
میرے پیچھے مرا نقشِ پا بچ گیا
معجزہ یہ نہیں جان بخشی ہوئی
سچ تو یہ ہے ترا آسرا بچ گیا
افتخار فلک

اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری

احمد فراز ۔ غزل نمبر 89
میں مر مٹا تو وہ سمجھا یہ انتہا تھی مری
اسے خبر ہی نہ تھی، خاک کیمیا تھی مری
میں چپ ہوا تو وہ سمجھا کہ بات ختم ہوئی
پھر اس کے بعد تو آواز جا بجا تھی مری
جو طعنہ زن تھا مری پوششِ دریدہ پر
اسی کے دوش پہ رکھی ہوئی قبا تھی مری
میں اس کو یاد کروں بھی تو یاد آتا نہیں
میں اس کو بھول گیا ہوں، یہی سزا تھی مری
شکست دے گیا اپنا غرور ہی اس کو
وگرنہ اس کے مقابل بساط کیا تھی مری
کہیں دماغ کہیں دل کہیں بدن ہی بدن
ہر اک سے دوستی یاری جدا جدا تھی مری
کوئی بھی کوئے محبت سے پھر نہیں گزرا
تو شہرِ عشق میں کیا آخری صدا تھی مری؟
جو اب گھمنڈ سے سر کو اٹھائے پھرتا ہے
اسی طرح کی تو مخلوق خاکِ پا تھی مری
ہر ایک شعر نہ تھا در خورِ قصیدۂ دوست
اور اس سے طبعِ رواں خوب آشنا تھی مری
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا حیرتوں سے فراز
یہ زندگی سے تعارف کی ابتدا تھی مری
احمد فراز

ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ

احمد فراز ۔ غزل نمبر 84
صنم تراش پر آدابِ کافرانہ سمجھ
ہر ایک سنگِ سرِ راہ کو خدا نہ سمجھ
میں تجھ کو مانگ رہا ہوں قبول کر کہ نہ کر
یہ بات تیری مری ہے اسے دعا نہ سمجھ
پلٹ کے آئے گا وہ بھی گئی رتوں کی طرح
جو تجھ سے روٹھ گیا ہے اسے جدا نہ سمجھ
رہِ وفا میں کوئی آخری مقام نہیں
شکستِ دل کو محبت کی انتہا نہ سمجھ
ہر ایک صاحبِ منزل کو با مراد نہ جان
ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ
فراز آج کی دنیا مرے وجود میں ہے
مرے سخن کو فقط میرا تذکرہ نہ سمجھ
احمد فراز

کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 80
ہاتھ اٹھائے ہیں مگر لب پہ دعا کوئی نہیں
کی عبادت بھی تو وہ، جس کی جزا کوئی نہیں
آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
وقت نے وہ خاک اڑائی ہے کہ دل کے دشت سے
قافلے گزرے ہیں پھر بھی نقشِ پا کوئی نہیں
خود کو یوں‌ محصور کر بیٹھا ہوں اپنی ذات میں
منزلیں چاروں طرف ہیں راستہ کوئی نہیں
کیسے رستوں سے چلے اور یہ کہاں پہنچے فراز
یا ہجومِ دوستاں تھا ساتھ ۔ یا کوئی نہیں
احمد فراز

جانے کیا دور ہے، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں

احمد فراز ۔ غزل نمبر 78
زخم کو پھول تو صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
جانے کیا دور ہے، کیا لوگ ہیں، کیا کہتے ہیں
کیا قیامت ہے کہ جن کے لئے رک رک کے چلے
اب وہی لوگ ہمیں آبلہ پا کہتے ہیں
کوئی بتلاؤ کہ اک عمر کا بِچھڑا محبوب
اتفاقا کہیں‌مل جائے تو کیا کہتے ہیں
یہ بھی اندازِ سخن ہے کہ جفا کو تیری
غمزہ و عشوہ و انداز و ادا کہتے ہیں
جب تلک دور ہے تو تیری پرستش کر لیں
ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں
کیا تعجب ہے کہ ہم اہل تمنا کو فراز
وہ جو محرومِ تمنا ہیں‌ برا کہتے ہیں
احمد فراز

آج کیا جانیے کیا یاد آیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 25
جو بھی دکھ یاد نہ تھا یاد آیا
آج کیا جانیے کیا یاد آیا
پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جیسے
پھر ترا عہد وفا یاد آیا
جس طرح دھند میں‌لپٹے ہوئے پھول
ایک اک نقش ترا یاد آیا
ایسی مجبوری کے عالم میں‌ کوئی
یاد آیا بھی تو کیا یاد آیا
اے رفیقو سر منزل جا کر
کیا کوئی آبلہ پا یاد آیا
یاد آیا تھا بچھڑنا تیرا
پھر نہیں‌ یاد کہ کیا یاد آیا
جب کوئی زخم بھرا داغ بنا
جب کوئی بھول گیا یاد آیا
یہ محبت بھی ہے کیا روگ فراز
جس کو بھولے وہ سدا یاد آیا
احمد فراز

جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 18
مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا
وہ اپنے زعم میں تھا، بے خبر رہا مجھ سے
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا
وہ برق رو تھا مگر رہ گیا کہاں جانے
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا
چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا
سفینہ اس کا، خدا اس کا، ناخدا اس کا
یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہمنوا اس کا
ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فراز
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا
احمد فراز

مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 97
عجب ہے رنگِ چمن، جا بجا اُداسی ہے
مہک اُداسی ہے، بادِ صبا اُداسی ہے
نہیں نہیں، یہ بھلا کس نے کہہ دیا تم سے؟
میں ٹھیک ٹھاک ہوں، ہاں بس ذرا اُداسی ہے
میں مبتلا کبھی ہوتا نہیں اُداسی میں
میں وہ ہوں جس میں کہ خود مبتلا اُداسی ہے
طبیب نے کوئی تفصیل تو بتائی نہیں
بہت جو پوچھا تو اتنا کہا، اُداسی ہے
گدازِ قلب خوشی سے بھلا کسی کو ملا؟
عظیم وصف ہی انسان کا اُداسی ہے
شدید درد کی رو ہے رواں رگِ جاں میں
بلا کا رنج ہے، بے انتہا اُداسی ہے
فراق میں بھی اُداسی بڑے کمال کی تھی
پسِ وصال تو اُس سے سِوا اُداسی ہے
تمہیں ملے جو خزانے، تمہیں مبارک ہوں
مری کمائی تو یہ بے بہا اُداسی ہے
چھپا رہی ہو مگر چھپ نہیں رہی مری جاں
جھلک رہی ہے جو زیرِ قبا اُداسی ہے
مجھے مسائلِ کون و مکاں سے کیا مطلب
مرا تو سب سے بڑا مسئلہ اُداسی ہے
فلک ہے سر پہ اُداسی کی طرح پھیلا ہُوا
زمیں نہیں ہے مرے زیرِ پا، اُداسی ہے
غزل کے بھیس میں آئی ہے آج محرمِ درد
سخن کی اوڑھے ہوئے ہے ردا، اُداسی ہے
عجیب طرح کی حالت ہے میری بے احوال
عجیب طرح کی بے ماجرا اُداسی ہے
وہ کیفِ ہجر میں اب غالباً شریک نہیں
کئی دنوں سے بہت بے مزا اُداسی ہے
وہ کہہ رہے تھے کہ شاعر غضب کا ہے عرفان
ہر ایک شعر میں کیا غم ہے، کیا اُداسی ہے
عرفان ستار

میں سر تا پا گماں ہوں آئنہ ہوتے ہوئے بھی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 63
وہ چہرہ پُر یقیں ہے گرد سا ہوتے ہوئے بھی
میں سر تا پا گماں ہوں آئنہ ہوتے ہوئے بھی
وہ اک روزن قفس کا جس میں کرنیں ناچتی تھیں
مری نظریں اُسی پر تھیں رِہا ہوتے ہوئے بھی
مرے قصے کی بے رونق فضا مجھ میں نہیں ہے
میں پُر احوال ہوں بے ماجرا ہوتے ہوئے بھی
شرف حاصل رہا ہے مجھ کو اُس کی ہمرہی کا
بہت مغرور ہوں میں خاکِ پا ہوتے ہوئے بھی
وہ چہرہ جگمگا اٹھا نشاطِ آرزو سے
وہ پلکیں اٹھ گئیں بارِ حیا ہوتے ہوئے بھی
مجھے تُو نے بدن سمجھا ہوا تھا ورنہ میں تو
تری آغوش میں اکثر نہ تھا ہوتے ہوئے بھی
چلا جاتا ہوں دل کی سمت بھی گاہے بہ گاہے
میں ان آسائشوں میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی
عجب وسعت ہے شہرِ عشق کی وسعت کہ مجھ کو
جنوں لگتا ہے کم بے انتہا ہوتے ہوئے بھی
اگر تیرے لیے دنیا بقا کا سلسلہ ہے
تو پھر تُو دیکھ لے مجھ کو فنا ہوتے ہوئے بھی
مسلسل قرب نے کیسا بدل ڈالا ہے تجھ کو
وہی لہجہ وہی ناز و ادا ہوتے ہوئے بھی
وہ غم جس سے کبھی میں اور تم یکجا ہوئے تھے
بس اُس جیسا ہی اک غم ہے جدا ہوتے ہوئے بھی
نہ جانے مستقل کیوں ایک ہی گردش میں گم ہوں
میں رمزِ عشق سے کم آشنا ہوتے ہوئے بھی
عرفان ستار

کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 50
خانۂ دل کی طرح ساری فضا ہے کہ نہیں
کس کو معلوم کہ باہر بھی ہوا ہے کہ نہیں
جشن برپا تو ہوا تھا دمِ رخصت لیکن
وہی ہنگامہ مرے بعد بپا ہے کہ نہیں
پوچھتا ہے یہ ہر اک خار سرِ دشتِ طلب
آنے والا بھی کوئی آبلہ پا ہے کہ نہیں
دیکھ تو جا کہ مسیحائے غمِ عشق اُسے
ہاتھ اب تک یونہی سینے پہ دھرا ہے کہ نہیں
دل کے تاریک در و بام سے اکثر ترا غم
پوچھتا ہے کہ کوئی میرے سوا ہے کہ نہیں
میں کہیں ہوں کہ نہیں ہوں، وہ کبھی تھا کہ نہ تھا
خود ہی کہہ دے یہ سخن بے سر و پا ہے کہ نہیں
فیصلہ لوٹ کے جانے کا ہے دشوار بہت
کس سے پوچھوں وہ مجھے بھول چکا ہے کہ نہیں
میں تو وارفتگیٔ شوق میں جاتا ہوں اُدھر
نہیں معلوم وہ آغوش بھی وا ہے کہ نہیں
جانے کیا رنگ چمن کا ہے دمِ صبحِ فراق
گُل کھلے ہیں کہ نہیں بادِ صبا ہے کہ نہیں
اے شبِ ہجر ذرا دیر کو بہلے تو یہ دل
دیکھ عرفانؔ کہیں نغمہ سرا ہے کہ نہیں
عرفان ستار

ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 41
کیا بتاوٗں کہ جو ہنگامہ بپا ہے مجھ میں
ان دنوں کوئی بہت سخت خفا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو کہیں اطراف میں پھیلی ہوئی ہے
صبح سے رقص کناں بادِ صبا ہے مجھ میں
تیری صورت میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں میں بھی
غالباً تُو بھی مجھے ڈھونڈ رہا ہے مجھ میں
ایک ہی سمت ہر اک خواب چلا جاتا ہے
یاد ہے، یا کوئی نقشِ کفِ پا ہے مجھ میں؟
میری بے راہ روی اس لیے سرشار سی ہے
میرے حق میں کوئی مصروفِ دعا ہے مجھ میں
اپنی سانسوں کی کثافت سے گماں ہوتا ہے
کوئی امکان ابھی خاک ہُوا ہے مجھ میں
اک چبھن ہے کہ جو بے چین کیے رہتی ہے
ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
یا تو میں خود ہی رہائی کے لیے ہوں بے تاب
یا گرفتار کوئی میرے سِوا ہے مجھ میں
آئینہ اِس کی گواہی نہیں دیتا، تو نہ دے
وہ یہ کہتا ہے کوئی خاص ادا ہے مجھ میں
ہو گئی دل سے تری یاد بھی رخصت شاید
آہ و زاری کا ابھی شور اٹھا ہے مجھ میں
مجھ میں آباد ہیں اک ساتھ عدم اور وجود
ہست سے برسرِ پیکار فنا ہے مجھ میں
مجلسِ شامِ غریباں ہے بپا چار پہر
مستقل بس یہی ماحولِعزا ہے مجھ میں
ہو گئی شق تو بالآخر یہ انا کی دیوار
اپنی جانب کوئی دروازہ کھلا ہے مجھ میں
خوں بہاتا ہُوا، زنجیر زنی کرتا ہُوا
کوئی پاگل ہے جو بے حال ہُوا ہے مجھ میں
اُس کی خوشبو سے معطر ہے مرا سارا وجود
تیرے چھونے سے جو اک پھول کِھلا ہے مجھ میں
تیرے جانے سے یہاں کچھ نہیں بدلا، مثلاً
تیرا بخشا ہوا ہر زخم ہرا ہے مجھ میں
کیسے مل جاتی ہے آوازِ اذاں سے ہر صبح
رات بھر گونجنے والی جو صدا ہے مجھ میں
کتنی صدیوں سے اُسے ڈھونڈ رہے ہو بے سُود
آوٗ اب میری طرف آوٗ، خدا ہے مجھ میں
مجھ میں جنّت بھی مِری، اور جہنّم بھی مِرا
جاری و ساری جزا اور سزا ہے مجھ میں
روشنی ایسے دھڑکتے تو نہ دیکھی تھی کبھی
یہ جو رہ رہ کے چمکتا ہے، یہ کیا ہے مجھ میں؟
عرفان ستار

ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 30
چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
ہَوا کے ساتھ مسافر کا نقشِ پا بھی گیا
میں پُھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہُوئی
وہ شخص آکے مرے شہر سے چلا بھی گیا
بہت عزیز سہی اُس کو میری دلداری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دُکھا بھی گیا
اب اُن دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تاک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا
سب آئے میری عیادت کو، وہ بھی آیا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا
یہ غربتیں مری آنکھوں میں کسی اُتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رُخصت ہیں ،رتجگا بھی گیا
پروین شاکر

تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 71
شکوہ جفا کا کیجے تو کہتے ہیں کیا کروں
تم سے وفا کروں کہ عدو سے وفا کروں
گلشن میں چل کے بندِ قبا تیرے وا کروں
جی چاہتا ہے جامۂ گل کو قبا کروں
آتا ہوں پیرِ دیر کی خدمت سے مست میں
ہاں زاہدو تمہارے لئے کیا دعا کروں
جوشِ فغاں وداع، کہ منظور ہے انہیں
دل نذرِ کاوشِ نگہِ سرما سا کروں
نفرین بے شمار ہے اس عمد و سہو پر
گر ایک میں صواب کروں سو خطا کروں
مطرب بدیع نغمہ و ساقی پری جمال
کیا شرحِ حالتِ دلِ درد آشنا کروں
تم دلربا ہو دل کو اگر لے گئے تو کیا
جب کاہ ہو کے میں اثرِ کہربا کروں
اے چارہ ساز لطف! کہ تو چارہ گر نہیں
بس اے طبیب رحم! کہ دل کی دوا کروں
پیتا ہوں میں مدام مئے نابِ معرفت
اصلِ شرور و امِ خبائث کو کیا کروں
یا اپنے جوشِ عشوۂ پیہم کو تھامئے
یا کہئے میں بھی نالۂ شورش فزا کروں
میں جل گیا وہ غیر کے گھر جو چلے گئے
شعلے سے استعارہء آوازِ پا کروں
ڈر ہے کہ ہو نہ شوقِ مزامیر شیفتہ
ورنہ کبھی سماعِ مجرد سنا کروں
مصطفٰی خان شیفتہ

دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 30
دل میں ہے غم و رنج و الم، حرص و ہوا بند
دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند
موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیری
ہر غم میں گرفتار ہوں ہر فکر میں پابند
اے حضرت دل !جائیے، میرا بھی خدا ہے
بے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند
دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو
بارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند
کہتے تھے ہم ۔ اے داغ وہ کوچہ ہے خطرناک
چھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
داغ دہلوی

اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 54
کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی
اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی
شاید ہی کوئی آ سکے اس موڑ سے آگے
اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی
وہ گل نہ رہے نکہتِ گل خاک ملے گی
یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی
اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے
کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی
خوددار ہوں کیوں آؤں درِ ابلِ کرم پر
کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی
اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو
پیڑوں سے جہاں چھن کے ضیا تک نہیں آتی
یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں
یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی
کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر
اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی
چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گل میں
مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی
یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا
ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی
بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂِ غم سے
اس سرد گپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی
شکیب جلالی

آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 176
کس سے اظہارِ مدعا کیجے
آپ ملتے نہیں ہے کیا کیجے
ہو نا پایا یہ فیصلہ اب تک
آپ کیا کیجیے تو کیا کیجے
آپ تھے جس کے چارہ گر وہ جواں
سخت بیمار ہے دعا کیجے
ایک ہی فن تو ہم نے سیکھا ہے
جن سے ملیے اسے خفا کیجے
ہے تقاضا مری طبیعت کا
ہر کسی کو چراغ پا کیجے
ہے تو بارے یہ عالمِ اسباب
بے سبب چیخنے لگا کیجے
آج ہم کیا گلا کریں اس سے؟
گلہ تنگیِ قبا کیجے
فطق حیوان پر گراں ہے ابھی
گفتگو کم سے کم کیا کیجے
حضرتِ زلفِ غالیہ افشاں
نام اپنا صبا صبا کیجے
زندگی کا عجب معاملہ ہے
ایک لمحے میں فیصلہ کیجے
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کی
آپ مجھ کو منا لیا کیجے
ملتے رہیے اسی تپاک کے ساتھ
بیوفائی کی انتہا کیجے
کوہکن کو ہے خودکشی خواہش
شاہ بانو سے التجا کیجے
مجھ سے کہتی تھیں وہ شراب آنکھیں
آپ وہ زہر مت پیا کیجے
رنگ ہر رنگ میں ہے دوا غالب
خون تھوکوں تو واہ وا کیجے
جون ایلیا

ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 155
شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی
ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی
سامعہء صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں برلبِ نیم وا بھی تھی
کیا مہ و سالِ ماجرا۔۔ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی
ایک سرودِ روشنی نیمہء شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی
دل تیرا پیشہء گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی
دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی
بال و پرِ خیال کو اب نہیں سمت وسُو نصیب
پہلے تھی ایک عجب فضا اور جو پُر فضا بھی تھی
خشک ہے چشمہء سارِ جاں زرد ہے سبزہ زارِدل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی
جون ایلیا

کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 126
بڑا احسان ہم فرما رہے ہیں
کہ اُن کے خط انہیں لوٹا رہے ہیں
نہیں ترکِ محبت پر وہ راضی
قیامت ہے کہ ہم سمجھا رہے ہیں
یقیں کا راستہ طے کرنے والے
بہت تیزی سے واپس آ رہے ہیں
یہ مت بُھولو کہ یہ لمحات ہم کو
بچھڑنے کے لیے ملوا رہے ہیں
تعجب ہے کہ عشق و عاشقی سے
ابھی کچھ لوگ دھوکا کھا رہے ہیں
تمہیں چاہیں گے جب چِھن جاؤ گی تو
ابھی ہم تم کو ارزاں پا رہے ہیں
کسی صورت انہیں نفرت ہو ہم سے
ہم اپنے عیب خود گِنوا رہے ہیں
وہ پاگل مست ہے اپنی وفا میں
مری آنکھوں میں آنسو آ رہے ہیں
دلیلوں سےاسے قائل کیا تھا
دلیلیں دے کے اب پچھتا رہے ہیں
تری بانہوں سے ہجرت کرنے والے
نئے ماحول میں گھبرا رہے ہیں
یہ جزبہ عشق ہے یا جزبہء رحم
ترے آنسو مجھے رُلوا رہے ہیں
عجب کچھ ربط ہے تم سے تم کو
ہم اپنا جان کر ٹھکرا رہے ہیں
وفا کی یادگاریں تک نہ ہوں گی
مری جاں بس کوئی دن جا رہے ہیں
جون ایلیا

جان ہم کو وہاں بلا بھیجو

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 65
اپنی منزل کا راستہ بھیجو
جان ہم کو وہاں بلا بھیجو
کیا ہمارا نہیں رہا ساون
زلف یاں بھی کوئی گھٹا بھیجو
نئی کلیاں جو اب کھلی ہیں وہاں
ان کی خوشبو کو اک ذرا بھیجو
ہم نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
درد بھیجو نہ تم دوا بھیجو
دھول اڑتی ہے جو اس آنگن میں
اس کو بھیجو ، صبا صبا بھیجو
اے فقیرو! گلی کے اس گل کی
تم ہمیں اپنی خاکِ پا بھیجو
شفقِ شام ہجر کے ہاتھوں
اپنی اتری ہوئی قبا بھیجو
کچھ تو رشتہ ہے تم سے کم بختو
کچھ نہیں، کوئی بد دعا بھیجو
جون ایلیا

تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 293
کہوں جو حال تو کہتے ہو "مدعا کہیے "
تمہیں کہو کہ جو تم یوں کہو تو کیا کہیے؟
نہ کہیو طعن سے پھر تم کہ "ہم ستمگر ہیں "
مجھے تو خو ہے کہ جو کچھ کہو "بجا” کہیے
وہ نیشتر سہی پر دل میں جب اتر جاوے
نگاہِ ناز کو پھر کیوں نہ آشنا کہیے
نہیں ذریعۂ راحت جراحتِ پیکاں
وہ زخمِ تیغ ہے جس کو کہ دلکشا کہیے
جو مدعی بنے اس کے نہ مدعی بنیے
جو نا سزا کہے اس کو نہ نا سزا کہیے
کہیں حقیقتِ جانکاہئِ مرض لکھیے
کہیں مصیبتِ نا سازئِ دوا کہیے
کبھی شکایتِ رنجِ گراں نشیں کیجے
کبھی حکایتِ صبرِ گریز پا کہیے
رہے نہ جان تو قاتل کو خونبہا دیجے
کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے
نہیں نگار کو الفت، نہ ہو، نگار تو ہے!
روانئِ روش و مستئِ ادا کہیے
نہیں بہار کو فرصت، نہ ہو بہار تو ہے!
طرواتِ چمن و خوبئِ ہوا کہیے
سفینہ جب کہ کنارے پہ آلگا غالب
خدا سے کیا ستم و جورِ ناخدا کہیے!
مرزا اسد اللہ خان غالب

میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 286
دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے
میں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے
ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہے
آبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے
غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرے
گر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے
شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیے
دل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے
دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہ
نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشق
پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاں
مثلِ نقشِ مدّعائے غیر بیٹھا جائے ہے
ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیا
رنگ کھُلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے
نقش کو اس کے مصوّر پر بھی کیا کیا ناز ہیں
کھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے
سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔ
پاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 269
شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے
یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے
پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھو
شکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چال
سست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہ
کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب
لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخن
شاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علم
تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے
تو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال
آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میں
یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

اُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 172
جوں شمع ہم اک سوختہ سامانِ وفا ہیں
اُور اس کے سواکچھ نہیں معلوم کہ کیا ہیں
اک سرحدِ معدوم میں ہستی ہے ہماری
سازِ دل بشکستہ کی بیکار صدا ہیں
جس رخ پہ ہوں ہم، سجدہ اسی رخ پہ ہے واجب
گو قبلہ نہیں ہیں مگر اک قبلہ نما ہیں
مت ہوجیو اے سیلِ فنا ان سے مقابل
جانبازِ الم نقش بہ دامانِ بقا ہیں
پائ ہے جگہ ناصیۂ بادِ صبا پر
خاکستر پروانۂ جانبازِ فنا ہیں
ہر حال میں ہیں مرضئ صیّاد کے تابع
ہم طائرِ پر سوختہ رشتہ بہ پا ہیں
اے وہم طرازانِ مجازی و حقیقی
عشّاق فریبِ حق و باطل سے جدا ہیں
ہم بے خودئ شوق میں کرلیتے ہیں سجدے
یہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصیہ سا ہیں
اب منتظرِ شوقِ قیامت نہیں غالب
دنیا کے ہر ذرّے میں سو حشر بپا ہیں
نوٹ از مولانا مہر: یہ غزل مولانا عبد الباری آسی کی کتاب سے منقول ہے لیکن اہلِ نظر مجموعۂ آسی میں میں شائع شدہ پورے غیر مطبوعہ کلام کا انتساب صحیح نہیں سمجھتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 160
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں
بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں
پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہے
اُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں
رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں
’غیر سے رات کیا بنی‘ یہ جو کہا تو دیکھیے
سامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یُوں
بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں
میں نے کہا کہ “ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی“
سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں ؟
مجھ سے کہا جو یار نے ’جاتے ہیں ہوش کس طرح‘
دیکھ کے میری بیخودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
آئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں
گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوال
موجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر@ ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
@ نسخۂ مہر میں ‘کہ’
مرزا اسد اللہ خان غالب

کیا مزا ہوتا ، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 153
زخم پر چھڑکیں کہاں طفلانِ بے پروا نمک
کیا مزا ہوتا ، اگر پتھر میں بھی ہوتا نمک
گردِ راہِ یار ہے سامانِ نازِ زخمِ دل
ورنہ ہوتا ہے جہاں میں کس قدر پیدا نمک
مجھ کو ارزانی رہے ، تجھ کو مبارک ہو جیو
نالۂ بُلبُل کا درد اور خندۂ گُل کا نمک
شورِ جولاں تھا کنارِ بحر پر کس کا کہ آج
گِردِ ساحل ہے بہ زخمِ موجۂ دریا نمک
داد دیتا ہے مرے زخمِ جگر کی ، واہ واہ !
یاد کرتا ہے مجھے ، دیکھے ہے وہ جس جا نمک
چھوڑ کر جانا تنِ مجروحِ عاشق حیف ہے
دل طلب کرتا ہے زخم اور مانگے ہیں اعضا نمک
غیر کی منت نہ کھینچوں گا پَے توفیرِ درد
زخم ، مثلِ خندۂ قاتل ہے سر تا پا نمک
یاد ہیں غالب ! تُجھے وہ دن کہ وجدِ ذوق میں
زخم سے گرتا ، تو میں پلکوں سے چُنتا تھا نمک
مرزا اسد اللہ خان غالب

دل کی پھر دل میں لیے چپکا چلا جاتا ہوں

دیوان ششم غزل 1845
اس سے گھبرا کے جو کچھ کہنے کو آجاتا ہوں
دل کی پھر دل میں لیے چپکا چلا جاتا ہوں
سعی دشمن کو نہیں دخل مری ایذا میں
رنج سے عشق کے میں آپھی کھپا جاتا ہوں
گرچہ کھویا سا گیا ہوں پہ تہ حرف و سخن
اس فریبندۂ عشاق کی پا جاتا ہوں
خشم کیوں بے مزگی کاہے کو بے لطفی کیا
بدبر اتنا بھی نہ ہو مجھ سے بھلا جاتا ہوں
استقامت سے ہوں جوں کوہ قوی دل لیکن
ضعف سے عشق کے ڈھہتا ہوں گرا جاتا ہوں
مجلس یار میں تو بار نہیں پاتا میں
در و دیوار کو احوال سنا جاتا ہوں
گاہ باشد کہ سمجھ جائے مجھے رفتۂ عشق
دور سے رنگ شکستہ کو دکھا جاتا ہوں
یک بیاباں ہے مری بیکسی و بیتابی
مثل آواز جرس سب سے جدا جاتا ہوں
تنگ آوے گا کہاں تک نہ مرا قلب سلیم
بگڑی صحبت کے تئیں روز بنا جاتا ہوں
گرمی عشق ہے ہلکی ابھی ہمدم دل میں
روز و شب شام و سحر میں تو جلا جاتا ہوں
میر تقی میر

دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر

دیوان ششم غزل 1826
میلان دلربا ہو کیونکر وفا کے اوپر
دیتا ہے جان عالم اس کی جفا کے اوپر
کشتہ ہوں اس حیا کا کٹوائے بہتوں کے سر
پر آنکھیں اس کی وونہیں تھیں پشت پا کے اوپر
مہندی لگا کے ہرگز گھر سے تو مت نکلیو
ہوتے ہیں خون تیرے رنگ حنا کے اوپر
ہوں کو بہ کو صبا سا پر کچھ نہیں ہے حاصل
شاید برات اپنی لکھی ہوا کے اوپر
بندوں سے کام تیرا اے میر کچھ نہ نکلا
موقوف مطلب اپنا اب رکھ خدا کے اوپر
میر تقی میر

اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے

دیوان پنجم غزل 1781
یارب کوئی دیوانہ بے ڈھنگ سا آجاوے
اغلال و سلاسل ٹک اپنی بھی ہلا جاوے
خاموش رہیں کب تک زندان جہاں میں ہم
ہنگامہ قیامت کا شورش سے اٹھا جاوے
کب عشق کی وادی ہے سر کھینچنے کی جاگہ
ہو سیل بھلا سا تو منھ موڑ چلا جاوے
عاشق میں ہے اور اس میں نسبت سگ و آہو کی
جوں جوں ہو رمیدہ وہ توں توں یہ لگا جاوے
افسوس کی جاگہ ہے یاں باز پسیں دم میں
ہو روبرو آئینہ وہ منھ کو چھپا جاوے
ان نو خطوں سے میری قسمت میں تو تھی خواری
کس طرح لکھا میرا کوئی آ کے مٹا جاوے
دیکھ اس کو ٹھہر رہنا ثابت قدموں سے ہو
اس راہ سے آوے تو ہم سے نہ رہا جاوے
کہیے جہاں کرتا ہو تاثیر سخن کچھ بھی
وہ بات نہیں سنتا کیا اس سے کہا جاوے
یہ رنگ رہے دیکھیں تاچند کہ وہ گھر سے
کھاتا ہوا پان آکر باتوں کو چبا جاوے
ہم دیر کے جنگل میں بھولے پھرے ہیں کب کے
کعبے کا ہمیں رستہ خضر آ کے بتا جاوے
ہاتھوں گئی خوباں کے کچھ شے نہیں پھر ملتی
کیونکر کوئی اب ان سے دل میرا دلا جاوے
یہ ذہن و ذکا اس کا تائید ادھر کی ہے
ٹک ہونٹ ہلے تو وہ تہ بات کی پا جاوے
یوں خط کی سیاہی ہے گرد اس رخ روشن کے
ہر چار طرف گاہے جوں بدر گھرا جاوے
کیا اس کی گلی میں ہے عاشق کسو کی رویت
آلودئہ خاک آوے لوہو میں نہا جاوے
ہے حوصلہ تیرا ہی جو تنگ نہیں آتا
کس سے یہ ستم ورنہ اے میر سہا جاوے
میر تقی میر

آجاویں جو یہ ہرجائی تو بھی نہ جاویں جا سے ہم

دیوان چہارم غزل 1441
عشق بتوں سے اب نہ کریں گے عہد کیا ہے خدا سے ہم
آجاویں جو یہ ہرجائی تو بھی نہ جاویں جا سے ہم
گریۂ خونیں ٹک بھی رہے تو خاک سی منھ پر اڑتی ہے
شام و سحر رہتے ہیں یعنی اپنے لہو کے پیاسے ہم
اس کی نہ پوچھو دوری میں ان نے پرسش حال ہماری نہ کی
ہم کو دیکھو مارے گئے ہیں آکر پاس وفا سے ہم
چپکے کیا انواع اذیت عشق میں کھینچی جاتی ہے
دل تو بھرا ہے اپنا تو بھی کچھ نہیں کہتے حیا سے ہم
کیا کیا عجز کریں ہیں لیکن پیش نہیں کچھ جاتا میر
سر رگڑے ہیں آنکھیں ملیں ہیں اس کے حنائی پا سے ہم
میر تقی میر

پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر

دیوان چہارم غزل 1392
اس رفتہ پاس اس کو لائے تھے لوگ جا کر
پر حیف میں نہ دیکھا بالیں سے سر اٹھا کر
سن سن کے درد دل کو بولا کہ جاتے ہیں ہم
تو اپنی یہ کہانی بیٹھا ہوا کہا کر
آگے زمیں کی تہ میں ہم سے بہت تھے تو بھی
سر پر زمین اٹھالی ہم بے تہوں نے آ کر
میرے ہی خوں میں ان نے تیغہ نہیں سلایا
سویا ہے اژدہا یہ بہتیرے مجھ سے کھا کر
دل ہاتھ آگیا تھا لطف قضا سے میرے
افسوس کھو چلا ہوں ایسے گہر کو پا کر
جو وجہ کوئی ہو تو کہنے میں بھی کچھ آوے
باتیں کرو ہو بگڑی منھ کو بنا بنا کر
اب تو پھرو ہو بے غم تب میر جانیں گے ہم
اچھے رہو گے جب تم دل کو کہیں لگا کر
میر تقی میر

سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا

دیوان چہارم غزل 1329
پھرے ہے وحشی سا گم گشتہ عشق کا تیرا
سبھوں سے پاتے ہیں بیگانہ آشنا تیرا
دریغ و درد تجھے کیوں ہے یاں تو جی ہی گئے
ہوا ہے ایک نگہ میں زیان کیا تیرا
جہاں بھرا ہے ترے شور حسن و خوبی سے
لبوں پہ لوگوں کے ہے ذکر جا بجا تیرا
نگاہ ایک ادھر ایک تیغ تیز کی اور
ہمارا خون ہی کرنا ہے مدعا تیرا
نظر کنھوں نے نہ کی حال میر پر افسوس
غریب شہروفا تھا وہ خاک پا تیرا
میر تقی میر

سرمایۂ توکل یاں نام ہے خدا کا

دیوان چہارم غزل 1312
کرتا ہوں اللہ اللہ درویش ہوں سدا کا
سرمایۂ توکل یاں نام ہے خدا کا
میں نے نکل جنوں سے مشق قلندری کی
زنجیرسر ہوا ہے تھا سلسلہ جو پا کا
یارب ہماری جانب یہ سنگ کیوں ہے عائد
جی ہی سے مارتے ہیں جو نام لے وفا کا
کیا فقر میں گذر ہو چشم طمع سیے بن
ہے راہ تنگ ایسی جیسے سوئی کا ناکا
ابر اور جوش گل ہے چل خانقہ سے صوفی
ہے لطف میکدے میں دہ چند اس ہوا کا
ہم وحشیوں سے مدت مانوس جو رہے ہیں
مجنوں کو شوخ لڑکے کہنے لگے ہیں کاکا
آلودہ خوں سے ناخن ہیں شیر کے سے ہر سو
جنگل میں چل بنے تو پھولا ہے زور ڈھاکا
یہ دو ہی صورتیں ہیں یا منعکس ہے عالم
یا عالم آئینہ ہے اس یار خودنما کا
کیا میں ہی جاں بہ لب ہوں بیماری دلی سے
مارا ہوا ہے عالم اس درد بے دوا کا
زلف سیاہ اس کی رہتی ہے چت چڑھی ہی
میں مبتلا ہوا ہوں اے وائے کس بلا کا
غیرت سے تنگ آئے غیروں سے لڑ مریں گے
آگے بھی میر سید کرتے گئے ہیں ساکا
میر تقی میر

دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو

دیوان سوم غزل 1232
زخموں پہ اپنے لون چھڑکتے رہا کرو
دل کو مزے سے بھی تو تنک آشنا کرو
کیا آنکھ بند کرکے مراقب ہوئے ہو تم
جاتے ہیں کیسے کیسے سمیں چشم وا کرو
موقوف ہرزہ گردی نہیں کچھ قلندری
زنجیر سر اتار کے زنجیر پا کرو
ہر چند اس متاع کی اب قدر کچھ نہیں
پر جس کسو کے ساتھ رہو تم وفا کرو
تدبیر کو مزاج محبت میں دخل کیا
جانکاہ اس مرض کی نہ کوئی دوا کرو
طفلی سے تم نے لطف و غضب مختلط کیے
ٹک مہر کو جدا کرو غصہ جدا کرو
بیٹھے ہو میر ہو کے درکعبہ پر فقیر
اس روسیہ کے باب میں بھی کچھ دعا کرو
میر تقی میر

جھلک سی مارتی ہے کچھ سیاہی داغ سودا میں

دیوان سوم غزل 1200
بہار آئی کھلے گل پھول شاید باغ و صحرا میں
جھلک سی مارتی ہے کچھ سیاہی داغ سودا میں
نفاق مردماں عاجز سے ہے زعم تکبر پر
کہوں کیا اتفاق ایسا بھی ہوجاتا ہے دنیا میں
نموداری ہماری بے کلی سے ایک چشمک ہے
ٹھہرنا برق سا اپنا ہے ہوچکنا اسی جا میں
سخن دس پانچ یاں ہیں جمع کس حسن لطافت سے
تفاوت ہے مرے مجموعہ و عقد ثریا میں
کنواں دیکھا نہ کوئی غار میں نے شوق کے مارے
بعینہ راہ اندھا سا چلا اس کی تمنا میں
بہت تھا شور وحشت سر میں میرے سوچ نے تیری
لکھی تصویر تو زنجیر پہلے کھینچ لی پا میں
جدائی کے تعب کھینچے نہیں ہیں میر راضی ہوں
جلاویں آگ میں یا مجھ کو پھینکیں قعر دریا میں
میر تقی میر

جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے

دیوان دوم غزل 1053
جل گیا دل مگر ایسے جوں بلا نکلے ہے
جیسے لوں چلتی مرے منھ سے ہوا نکلے ہے
لخت دل قطرئہ خوں ٹکڑے جگر ہو ہوکر
کیا کہوں میں کہ مری آنکھوں سے کیا نکلے ہے
میں جو ہر سو لگوں ہوں دیکھنے ہو کر مضطر
آنسو ہر میری نگہ ساتھ گتھا نکلے ہے
پارسائی دھری رہ جائے گی مسجد میں شیخ
جو وہ اس راہ کبھو مستی میں آ نکلے ہے
گوکہ پردہ کرے جوں ماہ شب ابر وہ شوخ
کب چھپا رہتا ہے ہرچند چھپا نکلے ہے
بھیڑیں ٹل جاتی ہیں آگے سے اس ابرو کے ہلے
سینکڑوں میں سے وہ تلوار چلا نکلے ہے
بنتی ہے سامنے اس کے کیے سجدہ ہی ولے
جی سمجھتا ہے جو اس بت میں ادا نکلے ہے
بد کہیں نالہ کشاں ہم ہیں کہ ہم سے ہر روز
شور و ہنگامے کا اک طور نیا نکلے ہے
اجر سے خالی نہیں عشق میں مارے جانا
دے ہے جو سر کوئی کچھ یاں سے بھی پا نکلے ہے
لگ چلی ہے مگر اس گیسوے عنبربو سے
ناز کرتی ہوئی اس راہ صبا نکلے ہے
کیا ہے اقبال کہ اس دشمن جاں کے آتے
منھ سے ہر ایک کے سو بار دعا نکلے ہے
سوز سینے کا بھی دلچسپ بلا ہے اپنا
داغ جو نکلے ہے چھاتی سے لگا نکلے ہے
سارے دیکھے ہوئے ہیں دلی کے عطار و طبیب
دل کی بیماری کی کس پاس دوا نکلے ہے
کیا فریبندہ ہے رفتار ہے کینے کی جدا
اور گفتار سے کچھ پیار جدا نکلے ہے
ویسا بے جا نہیں دل میر کا جو رہ نہ سکے
چلتا پھرتا کبھو اس پاس بھی جا نکلے ہے
میر تقی میر

یہی سبب ہے جو کھائی ہے میں دوا کی قسم

دیوان دوم غزل 856
مجھے تو درد سے اک انس ہے وفا کی قسم
یہی سبب ہے جو کھائی ہے میں دوا کی قسم
کل ان نے تیغ رکھی درمیاں کہ قطع ہے اب
قسم جو بیچ میں آئی سو اس ادا کی قسم
حنا لگی ترے ہاتھوں سے میں گیا پیسا
جگر تمام ہے خوں مجھ کو تیرے پا کی قسم
فقیر ہونے نے سب اعتبار کھویا ہے
قسم جو کھائوں تو کہتے ہیں کیا گدا کی قسم
قدم تلے ہی رہا اس کے یہ سر پرشور
جو کھایئے تو مرے طالع رسا کی قسم
سروں پہ ہاتھ کبھو تیغ پر کبھو اس کا
کچھ ایک قسم نہیں میرے آشنا کی قسم
جدال دیر کے رہبان سے کہاں تک میر
اٹھو حرم کو چلو اب تمھیں خدا کی قسم
میر تقی میر

موجزن برسوں سے ہے دریا ہے چشم گریہ ناک

دیوان دوم غزل 843
آج کل سے کچھ نہ طوفاں زا ہے چشم گریہ ناک
موجزن برسوں سے ہے دریا ہے چشم گریہ ناک
یوں نہ روئو تو نہ روئو ورنہ رود و چاہ سے
ہر قدم اس دشت میں پیدا ہے چشم گریہ ناک
دل سے آگے ٹک قدم رکھو تو پھر بھی دلبرو
سیر قابل دیدنی اک جا ہے چشم گریہ ناک
بے گداز دل نہیں امکان رونا اس قدر
تہ کو پہنچو خوب تو پردہ ہے چشم گریہ ناک
سوجھتا اپنا کرے کچھ ابر تو ہے مصلحت
جوش غم سے جیسے نابینا ہے چشم گریہ ناک
سبز ہے رو نے سے میرے گوشہ گوشہ دشت کا
باعث آبادی صحرا ہے چشم گریہ ناک
وے حنائی پامری آنکھوں ہی میں پھرتے ہیں میر
یعنی ہر دم اس کے زیر پا ہے چشم گریہ ناک
میر تقی میر

کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع

دیوان دوم غزل 833
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
کب تلک ان بتوں سے چشم رہے
ہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھ
ڈھونڈو تم یار و آشنا سے نفع
مغتنم جان گر کسو کے تئیں
پہنچے ہے تیرے دست و پا سے نفع
اب فقیروں سے کہہ حقیقت دل
میر شاید کہ ہو دعا سے نفع
میر تقی میر

طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا

دیوان دوم غزل 754
حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا
اس مہ سے دل کی لاگ وہی متصل رہی
گو چرخ نے بہ صورت ظاہر جدا رکھا
گڑوا دیا ہو مار کر اک دو کو تو کہوں
کب ان نے خون کر نہ کسو کا دبا رکھا
ٹک میں لگا تھا اس نمکی شوخ کے گلے
چھاتی کے میرے زخموں نے برسوں مزہ رکھا
کاہے کو آئے چوٹ کوئی دل پہ شیخ کے
اس بوالہوس نے اپنے تئیں تو بچا رکھا
ہم سر ہی جاتے عشق میں اکثر سنا کیے
اس راہ خوفناک میں کیوں تم نے پا رکھا
آزار دل نہیں ہے کسو دین میں درست
کیا جانوں ان بتوں نے ستم کیوں روا رکھا
کیا میں ہی محو چشمک انجم ہوں خلق کو
اس مہ نے ایک جھمکی دکھاکر لگا رکھا
کیا زہر چشم یار کو کوئی بیاں کرے
جس کی طرف نگاہ کی اس کو سلا رکھا
ہر چند شعر میر کا دل معتقد نہ تھا
پر اس غزل کو ہم نے بھی سن کر لکھا رکھا
میر تقی میر

ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا

دیوان دوم غزل 706
تیغ کی اپنی صفت لکھتے جو کل وہ آگیا
ہنس کے اس پرچے کو میرے ہی گلے بندھوا گیا
دست و پا گم کرنے سے میرے کھلے اسرار عشق
دیکھ کر کھویا گیا سا مجھ کو ہر یک پا گیا
داغ محجوبی ہوں اس کا میں کہ میرے روبرو
عکس اپنا آرسی میں دیکھ کر شرما گیا
ہم بشر عاجز ثبات پا ہمارا کس قدر
دیکھ کر اس کو ملک سے بھی نہ یاں ٹھہرا گیا
یار کے بالوں کا بندھنا قہر ہے پگڑی کے ساتھ
ایک عالم دوستاں اس پیچ میں مارا گیا
ہم نہ جانا اختلاط اس طفل بازی کوش کا
گرم بازی آگیا تو ہم کو بھی بہلا گیا
کیا کروں ناچار ہوں مرنے کو اب تیار میں
دل کی روز و شب کی بیتابی سے جی گھبرا گیا
جی کوئی لگتا ہے اس کے اٹھ گئے پر باغ میں
گل نے بہتیرا کہا ہم سے نہ ٹک ٹھہرا گیا
ہو گئے تحلیل سب اعضا مرے پاکر گداز
رفتہ رفتہ ہجر کا اندوہ مجھ کو کھا گیا
یوں تو کہتا تھا کوئی ویسے کو باندھے ہے گلے
پر وہ پھندنا سا جو آیا میر بھی پھندلا گیا
میر تقی میر

بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا

دیوان دوم غزل 683
نظر میں طور رکھ اس کم نما کا
بھروسا کیا ہے عمربے وفا کا
گلوں کے پیرہن ہیں چاک سارے
کھلا تھا کیا کہیں بند اس قبا کا
پرستش اب اسی بت کی ہے ہر سو
رہا ہو گا کوئی بندہ خدا کا
بلا ہیں قادرانداز اس کی آنکھیں
کیا یکہ جنازہ جس کو تاکا
بجا ہے عمر سے اب ایک حسرت
گیا وہ شور سر کا زور پا کا
مداوا خاطروں سے تھا وگرنہ
بدایت مرتبہ تھا انتہا کا
لگا تھا روگ جب سے یہ تبھی سے
اثر معلوم تھا ہم کو دوا کا
مروت چشم رکھنا سادگی ہے
نہیں شیوہ یہ اپنے آشنا کا
کہیں اس زلف سے کیا لگ چلی ہے
پڑے ہے پائوں بے ڈھب کچھ صبا کا
نہ جا تو دور صوفی خانقہ سے
ہمیں تو پاس ہے ابر و ہوا کا
نہ جانوں میر کیوں ایسا ہے چپکا
نمونہ ہے یہ آشوب و بلا کا
کرو دن ہی سے رخصت ورنہ شب کو
نہ سونے دے گا شور اس بے نوا کا
میر تقی میر

کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا

دیوان دوم غزل 676
رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا
کچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا
غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہے
گر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا
دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیا
بھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا
مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرے
میں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا
اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلق
دریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا
ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیک
وہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا
مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھو
دروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا
بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منھ بگڑ گیا
کیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا
عالم کی سیر میر کی صحبت میں ہو گئی
طالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا
میر تقی میر

شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا

دیوان دوم غزل 675
کرتے ہی نہیں ترک بتاں طور جفا کا
شاید ہمیں دکھلاویں گے دیدار خدا کا
ہے ابر کی چادر شفقی جوش سے گل کے
میخانے کے ہاں دیکھیے یہ رنگ ہوا کا
بہتیری گرو جنس کلالوں کے پڑی ہے
کیا ذکر ہے واعظ کے مصلیٰ و ردا کا
مرجائے گا باتوں میں کوئی غمزدہ یوں ہی
ہر لحظہ نہ ہو ممتحن ارباب وفا کا
تدبیر تھی تسکیں کے لیے لوگوں کی ورنہ
معلوم تھا مدت سے ہمیں نفع دوا کا
ہاتھ آئینہ رویوں سے اٹھا بیٹھیں نہ کیونکر
بالعکس اثر پاتے تھے ہم اپنی دعا کا
آنکھ اس کی نہیں آئینے کے سامنے ہوتی
حیرت زدہ ہوں یار کی میں شرم و حیا کا
برسوں سے تو یوں ہے کہ گھٹا جب امنڈ آئی
تب دیدئہ تر سے بھی ہوا ایک جھڑاکا
آنکھ اس سے نہیں اٹھنے کی صاحب نظروں کی
جس خاک پہ ہو گا اثر اس کی کف پا کا
تلوار کے سائے ہی میں کاٹے ہے تو اے میر
کس دل زدہ کو ہوئے ہے یہ ذوق فنا کا
میر تقی میر

اس کو جگر بھی شرط ہے جو تاب لا سکے

دیوان اول غزل 587
خورشید تیرے چہرے کے آگو نہ آسکے
اس کو جگر بھی شرط ہے جو تاب لا سکے
ہم گرم رو ہیں راہ فنا کے شرر صفت
ایسے نہ جائیں گے کہ کوئی کھوج پا سکے
غافل نہ رہیو آہ ضعیفوں سے سرکشاں
طاقت ہے اس کو یہ کہ جہاں کو جلا سکے
میرا جو بس چلے تو منادی کیا کروں
تا اب سے دل نہ کوئی کسو سے لگا سکے
تدبیر جیب پارہ نہیں کرتی فائدہ
ناصح جگر کا چاک سلا جو سلا سکے
اس کا کمال چرخ پہ سر کھینچتا نہیں
اپنے تئیں جو خاک میں کوئی ملا سکے
یہ تیغ ہے یہ طشت ہے یہ تو ہے بوالہوس
کھانا تجھے حرام ہے جو زخم کھا سکے
اس رشک آفتاب کو دیکھے تو شرم سے
ماہ فلک نہ شہر میں منھ کو دکھا سکے
کیا دل فریب جاے ہے آفاق ہم نشیں
دو دن کو یاں جو آئے سو برسوں نہ جا سکے
مشعر ہے اس پہ مردن دشوار رفتگاں
یعنی جہاں سے دل کو نہ آساں اٹھا سکے
بدلوں گا اس غزل کے بھی میں قافیے کو میر
پھر فکر گو نہ عہدے سے اس کے بر آسکے
میر تقی میر

سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے

دیوان اول غزل 566
حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے
سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو
کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر
صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب
لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں
نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے
ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن
کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
غم فراق ہے دنبالہ گرد عیش وصال
فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا
جو کچھ بھی پایئے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو
کسو کے زخم کو تونے کبھو سیا بھی ہے
گذار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں
کہ اس دیار میں میر شکستہ پا بھی ہے
میر تقی میر

کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے

دیوان اول غزل 481
برنگ بوے گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے
کہ ہمراہ صبا ٹک سیر کرتے پھر ہوا ہوتے
سراپا آرزو ہونے نے بندہ کردیا ہم کو
وگرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتے
فلک اے کاش ہم کو خاک ہی رکھتا کہ اس میں ہم
غبار راہ ہوتے یا کسو کی خاک پا ہوتے
الٰہی کیسے ہوتے ہیں جنھیں ہے بندگی خواہش
ہمیں تو شرم دامن گیر ہوتی ہے خدا ہوتے
تو ہے کس ناحیے سے اے دیار عشق کیا جانوں
ترے باشندگاں ہم کاش سارے بے وفا ہوتے
اب ایسے ہیں کہ صانع کے مزاج اوپر بہم پہنچے
جو خاطر خواہ اپنے ہم ہوئے ہوتے تو کیا ہوتے
کہیں جو کچھ ملامت گر بجا ہے میر کیا جانیں
انھیں معلوم تب ہوتا کہ ویسے سے جدا ہوتے
میر تقی میر

دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی

دیوان اول غزل 456
آگے ہمارے عہد سے وحشت کو جا نہ تھی
دیوانگی کسو کی بھی زنجیر پا نہ تھی
بیگانہ سا لگے ہے چمن اب خزاں میں ہائے
ایسی گئی بہار مگر آشنا نہ تھی
کب تھا یہ شور نوحہ ترا عشق جب نہ تھا
دل تھا ہمارا آگے تو ماتم سرا نہ تھی
وہ اور کوئی ہو گی سحر جب ہوئی قبول
شرمندئہ اثر تو ہماری دعا نہ تھی
آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج
لیکن ہماری جان پر ایسی بلا نہ تھی
دیکھے دیار حسن کے میں کارواں بہت
لیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی
آئی پری سی پردئہ مینا سے جام تک
آنکھوں میں تیری دختر رز کیا حیا نہ تھی
اس وقت سے کیا ہے مجھے تو چراغ وقف
مخلوق جب جہاں میں نسیم و صبا نہ تھی
پژمردہ اس قدر ہیں کہ ہے شبہ ہم کو میر
تن میں ہمارے جان کبھو تھی بھی یا نہ تھی
میر تقی میر

طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی

دیوان اول غزل 439
ہمیں آمد میر کل بھا گئی
طرح اس میں مجنوں کی سب پا گئی
کہاں کا غبار آہ دل میں یہ تھا
مری خاک بدلی سی سب چھا گئی
کیا پاس بلبل خزاں نے نہ کچھ
گل و برگ بے درد پھیلا گئی
ہوئی سامنے یوں تو ایک ایک کے
ہمیں سے وہ کچھ آنکھ شرما گئی
جگر منھ تک آتے نہیں بولتے
غرض ہم بھی کرتے ہیں کیا کیا گئی
نہ ہم رہ کوئی ناکسی سے گیا
مری لاش تا گور تنہا گئی
گھٹا شمع ساں کیوں نہ جائوں چلا
تب غم جگر کو مرے کھا گئی
کوئی رہنے والی ہے جان عزیز
گئی گر نہ امروز فردا گئی
کیے دست و پا گم جو میر آگیا
وفا پیشہ مجلس اسے پا گئی
میر تقی میر

پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ

دیوان اول غزل 423
جی چاہے مل کسو سے یا سب سے تو جدا رہ
پر ہوسکے تو پیارے ٹک دل کا آشنا رہ
کل بے تکلفی میں لطف اس بدن کا دیکھا
نکلا نہ کر قبا سے اے گل بس اب ڈھپا رہ
عاشق غیور جی دے اور اس طرف نہ دیکھے
وہ آنکھ جو چھپاوے تو تو بھی ٹک کھنچا رہ
پہنچیں گے آگے دیکھیں کس درجہ کو ابھی تو
اس ماہ چاردہ کا سن دس ہے یا کہ بارہ
کھینچا کرے ہے ہر دم کیا تیغ بوالہوس پر
اس ناسزاے خوں کے اتنا نہ سر چڑھا رہ
مستظہر محبت تھا کوہکن وگرنہ
یہ بوجھ کس سے اٹھتا ایک اور ایک گیارہ
ہر مشت خاک یاں کی چاہے ہے اک تامل
بن سوچے راہ مت چل ہر گام پر کھڑا رہ
شاید کہ سربلندی ہووے نصیب تیرے
جوں گرد راہ سب کے پائوں سے تو لگا رہ
اس خط سبز نے کچھ رویت نہ رکھی تیری
کیا ایسی زندگانی جا خضر زہر کھا رہ
حد سے زیادہ واعظ یہ کودنا اچھلنا
کاہے کو جاتے ہیں ہم اے خرس اب بندھا رہ
میں تو ہیں وہم دونوں کیا ہے خیال تجھ کو
جھاڑ آستین مجھ سے ہاتھ آپ سے اٹھا رہ
جیسے خیال مفلس جاتا ہے سو جگہ تو
مجھ بے نوا کے بھی گھر ایک آدھ رات آ رہ
دوڑے بہت ولیکن مطلب کو کون پہنچا
آئندہ تو بھی ہم سا ہوکر شکستہ پا رہ
جب ہوش میں تو آیا اودھر ہی جاتے پایا
اس سے تو میر چندے اس کوچے ہی میں جا رہ
میر تقی میر

اور رسوائی کا اندیشہ جدا رکھتا ہو

دیوان اول غزل 392
وہی جانے جو حیا کشتہ وفا رکھتا ہو
اور رسوائی کا اندیشہ جدا رکھتا ہو
کام لے یار سے جو جذب رسا رکھتا ہو
یا کوئی آئینہ ساں دست دعا رکھتا ہو
عشق کو نفع نہ بیتابی کرے ہے نہ شکیب
کریے تدبیر جو یہ درد دوا رکھتا ہو
میں نے آئینہ صفت در نہ کیا بند غرض
اس کو مشکل ہے جو آنکھوں میں حیا رکھتا ہو
ہائے اس زخمی شمشیر محبت کا جگر
درد کو اپنے جو ناچار چھپا رکھتا ہو
اس سے تشبیہ تو دیتے ہیں یہ ناشاعر لیک
سیب کچھ اس ذقن آگے جو مزہ رکھتا ہو
آوے ہے پہلے قدم سر ہی کا جانا درپیش
دیکھتا ہو جو رہ عشق میں پا رکھتا ہو
ایسے تو حال کے کہنے سے بھلی خاموشی
کہیے اس سے جو کوئی اپنا کہا رکھتا ہو
کیا کرے وصل سے مایوس دل آزردہ جو
زخم ہی یار کا چھاتی سے لگا رکھتا ہو
کب تلک اس کے اسیران بلا خانہ خراب
ظلم کی تازہ جو ہر روز بنا رکھتا ہو
ایک دم کھول کے زلفوں کی کمندوں کے تئیں
مدتوں تک دل عاشق کو لگا رکھتا ہو
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
میر تقی میر

پر وفا کا برا کیا تونیں

دیوان اول غزل 367
مجھ کو مارا بھلا کیا تونیں
پر وفا کا برا کیا تونیں
حسرتیں اس کی سر پٹکتی ہیں
مرگ فرہاد کیا کیا تونیں
اس کے جور و جفا کی کیا تقصیر
جو کیا سو وفا کیا تونیں
یہ چمن ہے قفس سے پر اے ضعف
مجھ کو بے دست و پا کیا تونیں
کل ہی پڑتی نہیں ہے تجھ بن آج
میر کو کیا بلا کیا تونیں
وہ جو کہتا تھا تو ہی کریو قتل
میر کا سو کہا کیا تونیں
میر تقی میر

پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں

دیوان اول غزل 326
آتا ہے دل میں حال بد اپنا بھلا کہوں
پھر آپھی آپ سوچ کے کہتا ہوں کیا کہوں
پروانہ پھر نہ شمع کی خاطر جلا کرے
گر بزم میں یہ اپنا ترا ماجرا کہوں
مت کر خرام سر پہ اٹھالے گا خلق کو
بیٹھا اگر گلی میں ترا نقش پا کہوں
دل اور دیدہ باعث ایذا و نور عین
کس کے تئیں برا کہوں کس کو بھلا کہوں
آوے سموم جاے صبا باغ سے سدا
گرشمہ اپنے سوز جگر کا میں جا کہوں
جاتا ہوں میر دشت جنوں کو میں اب یہ کہہ
مجنوں کہیں ملے تو تری بھی دعا کہوں
میر تقی میر

رنگ رو جس کے کبھو منھ نہ چڑھا میں ہی ہوں

دیوان اول غزل 299
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
رنگ رو جس کے کبھو منھ نہ چڑھا میں ہی ہوں
جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوں
پھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں
بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئی
کیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں
اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر رات
وہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں
خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایا
اس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفا
اتنا عالم ہے بھرا جائو نہ کیا میں ہی ہوں
رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیا
تن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں
اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرو
وہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں
میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہ
یک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں
جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگا
کیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں
سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھا
جن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں
میر آوارئہ عالم جو سنا ہے تونے
خاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں
کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرے
میر وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں
میر تقی میر

زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر

دیوان اول غزل 225
پشت پا ماری بسکہ دنیا پر
زخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر
ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوز
کہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر
گرو مے ہوں آئو شیخ شہر
ابر جھوما ہی جا ہے صحرا پر
دل پر خوں تو تھا گلابی شراب
جی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر
یاں جہاں میں کہ شہر کوراں ہے
سات پردے ہیں چشم بینا پر
فرصت عیش اپنی یوں گذری
کہ مصیبت پڑی تمنا پر
طارم تاک سے لہو ٹپکا
سنگ باراں ہوا ہے مینا پر
میر کیا بات اس کے ہونٹوں کی
جینا دوبھر ہوا مسیحا پر
میر تقی میر

ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا

دیوان اول غزل 140
کیا کہیے کہ خوباں نے اب ہم میں ہے کیا رکھا
ان چشم سیاہوں نے بہتوں کو سلا رکھا
جلوہ ہے اسی کا سب گلشن میں زمانے کے
گل پھول کو ہے ان نے پردہ سا بنا رکھا
جوں برگ خزاں دیدہ سب زرد ہوئے ہم تو
گرمی نے ہمیں دل کی آخر کو جلا رکھا
کہیے جو تمیز اس کو کچھ اچھے برے کی ہو
دل جس کسو کا پایا چٹ ان نے اڑا رکھا
تھی مسلک الفت کی مشہور خطرناکی
میں دیدہ و دانستہ کس راہ میں پا رکھا
خورشید و قمر پیارے رہتے ہیں چھپے کوئی
رخساروں کو گو تونے برقع سے چھپا رکھا
چشمک ہی نہیں تازی شیوے یہ اسی کے ہیں
جھمکی سی دکھا دے کر عالم کو لگا رکھا
لگنے کے لیے دل کے چھڑکا تھا نمک میں نے
سو چھاتی کے زخموں نے کل دیر مزہ رکھا
کشتے کو اس ابرو کے کیا میل ہو ہستی کی
میں طاق بلند اوپر جینے کو اٹھا رکھا
قطعی ہے دلیل اے میر اس تیغ کی بے آبی
رحم ان نے مرے حق میں مطلق نہ روا رکھا
میر تقی میر

اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا

دیوان اول غزل 119
لخت جگر تو اپنے یک لخت روچکا تھا
اشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا
دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیا
ٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا
اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولت
ورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا
مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراں
کل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا
اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشت
میں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا
بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیا
پر تونے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا
روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھو
میں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا
شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کو
ناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا
سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میں
سینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا
سو بخت تیرہ سے ہوں پامالی صبا میں
اس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا
یہ سرگذشت میری افسانہ جو ہوئی ہے
مذکور اس کا اس کے کوچے میں جابجا تھا
سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھ
بے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا
کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاں
احوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
آنکھیں مری کھلیں جب جی میر کا گیا تب
دیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا
میر تقی میر

جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا

دیوان اول غزل 79
کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا
جیتا ہوں تو تجھی میں یہ دل لگا رہے گا
یاں ہجر اور ہم میں بگڑی ہے کب کی صحبت
زخم دل و نمک میں کب تک مزہ رہے گا
تو برسوں میں ملے ہے یاں فکر یہ رہے ہے
جی جائے گا ہمارا اک دم کو یا رہے گا
میرے نہ ہونے کا تو ہے اضطراب یوں ہی
آیا ہے جی لبوں پر اب کیا ہے جا رہے گا
غافل نہ رہیو ہرگز نادان داغ دل سے
بھڑکے گا جب یہ شعلہ تب گھر جلا رہے گا
مرنے پہ اپنے مت جا سالک طلب میں اس کی
گو سر کو کھورہے گا پر اس کو پا رہے گا
عمر عزیز ساری دل ہی کے غم میں گذری
بیمار عاشقی یہ کس دن بھلا رہے گا
دیدار کا تو وعدہ محشر میں دیکھ کر کر
بیمار غم میں تیرے تب تک تو کیا رہے گا
کیا ہے جو اٹھ گیا ہے پر بستۂ وفا ہے
قید حیات میں ہے تو میر آرہے گا
میر تقی میر

کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 35
تشنہ لبِ سوال کو دیکھئے کب شفا ملے
کوئی جواب مِثل آب سادہ و جاں فزا ملے
اپنی پرانی اصل پر آتا ہوں لوٹ لوٹ کر
سمجھوں میں انتہا جسے وہ مجھے ابتدا ملے
سرد حقیقتوں سے دور جبرِ یقین سے پرے
پائیں نمو، یہ ذہن و دل ایسی کوئی جگہ ملے
اپنے ہی آپ میں رہے گنجِ لئیم کی طرح
اُس بتِ خود پسند سے دل کی نیاز کیا ملے
ہار گیا ہوں بار بار، اتنا مگر ضرور ہے
ہاتھ قمار باز کا بدلا ہوا ذرا ملے
اُس جا تمہاری آس کیا اور ہماری یاس کیا
دھوپ جہاں سفر میں ہو سایہ گریز پا ملے
آفتاب اقبال شمیم

باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
لو تم بھی گئے ہم نے تو سمجھا تھا کہ تم نے
باندھا تھا کوئی یاروں سے پیمانِ وفا اور
یہ عہد کہ تا عمرِ رواں ساتھ رہو گے
رستے میں بچھڑ جائیں گے جب اہلِ صفا اور
ہم سمجھے تھے صیّاد کا ترکش ہوا خالی
باقی تھا مگر اس میں ابھی تیرِ قضا اور
ہر خار رہِ دشت وطن کا ہے سوالی
کب دیکھیے آتا ہے کوئی آبلہ پا اور
آنے میں تامّل تھا اگر روزِ جزا کو
اچھا تھا ٹھہر جاتے اگر تم بھی ذرا اور
میجر اسحاق کی یاد میں ۔ بیروت
فیض احمد فیض

جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 11
وہ عہد غم کی کاہش ہائے بے حاصل کو کیا سمجھے
جو ان کی مختصر روداد بھی صبر آزما سمجھے
یہاں دلبستگی، واں برہمی، کیا جانیے کیوں ہے؟
نہ ہم اپنی نظر سمجھے نہ ہم ان کی ادا سمجھے
فریب آرزو کی سہل انگاری نہیں جاتی
ہم اپنے دل کی دھڑکن کو تری آواز پا سمجھے
تمہاری ہر نظر سے منسلک ہے رشتۂ ہستی
مگر یہ دور کی باتیں کوئی نادان کیا سمجھے
نہ پوچھو عہد الفت کی، بس اک خوا ب پریشاں تھا
نہ دل کو راہ پر لائے نہ دل کا مدعا سمجھے
فیض احمد فیض

بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں بجھا کے ہم

مجید امجد ۔ غزل نمبر 83
امّیدِ دیدِ دوست کی دنیا بسا کے ہم
بیٹھے ہیں مہر و ماہ کی شمعیں بجھا کے ہم
وہ راستے خبر نہیں کس سمت کھو گئے
نکلے تھے جن پہ رختِ غمِ دل اٹھا کے ہم
پلکوں سے جن کو جلتے زمانوں نے چن لیا
وہ پھول، اس روش پہ، ترے نقشِ پا کے ہم
آئے کبھی تو پھر وہی صبحِ طرب کہ جب
روٹھے ہوئےغموں سے ملیں مسکرا کے ہم
کس کو خبر کہ ڈوبتے لمحوں سے کس طرح
ابھرے ہیں یادِ یار، تری چوٹ کھا کے ہم
مجید امجد

تو اکیلا ہے کہ دُنیا سے جدا چلتا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 309
کام اس شکوۂ تنہائی سے کیا چلتا ہے
تو اکیلا ہے کہ دُنیا سے جدا چلتا ہے
رنگ آسان ہیں پہچان لیے جاتے ہیں
دیکھنے سے کہیں خوشبو کا پتا چلتا ہے
لہر اُٹّھے کوئی دل میں تو کنارے لگ جائیں
یہ سمندر ہے یہاں حکمِ ہوا چلتا ہے
پاؤں میں خاک کی زنجیر پڑی ہے کب سے
ہم کہاں چلتے ہیں نقشِ کفِ پا چلتا ہے
شہر در شہر دواں ہے مری فریاد کی گونج
مجھ سے آگے مرا رہوارِ صدا چلتا ہے
اس خرابے میں بھی ہوجائے گی دُنیا آباد
ایک معمورہ پسِ سیلِ بلا چلتا ہے
عرفان صدیقی

تو جہاں چاہے وہاں موجِ ہوا لے چل مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 295
میں تو اِک بادل کا ٹکڑا ہوں، اُڑالے چل مجھے
تو جہاں چاہے وہاں موجِ ہوا لے چل مجھے
خوُد ہی نیلے پانیوں میں پھر بلالے گا کوئی
ساحلوں کی ریت تک اَے نقشِ پا لے چل مجھے
تجھ کو اِس سے کیا میں اَمرت ہوں کہ اِک پانی کی بوُند
چارہ گر، سوکھی زبانوں تک ذرا لے چل مجھے
کب تک اِن سڑکوں پہ بھٹکوں گا بگولوں کی طرح
میں بھی کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں صبا لے چل مجھے
اَجنبی رَستوں میں آخر دُھول ہی دیتی ہے ساتھ
جانے والے اَپنے دامن سے لگا لے چل مجھے
بند ہیں اس شہرِ ناپرساں کے دروازے تمام
اَب مرے گھر اَے مری ماں کی دُعا لے چل مجھے
عرفان صدیقی

کہ لکھ دیں گے سب ماجرا لکھنے والے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 277
چھپانے سے کیا فائدہ لکھنے والے
کہ لکھ دیں گے سب ماجرا لکھنے والے
بہت بے اماں پھر رہے ہیں مسافر
کہاں ہیں خطوں میں دُعا لکھنے والے
ہمیں سرکشی کا سلیقہ عطا کر
مقدر میں تیغِ جفا لکھنے والے
مجھے کوئی جاگیرِ وحشت بھی دینا!
مرے نام زنجیر پا لکھنے والے
زمیں پر بھی سبزے کی تحریر لکھ دے
سمندر پہ کالی گھٹا لکھنے والے
سلامت رہیں بے ہوا بستیوں میں
پرندے، پیامِ ہوا لکھنے والے
عرفان صدیقی

عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 177
ہم اپنے ذہن کی آب و ہوا میں زندہ ہیں
عجب درخت ہیں‘ دشتِ بلا میں زندہ ہیں
گزرنے والے جہازوں کو کیا خبر ہے کہ ہم
اسی جزیرۂ بے آشنا میں زندہ ہیں
گلی میں ختم ہوا قافلے کا شور‘ مگر
مسافروں کی صدائیں سرا میں زندہ ہیں
مجھے ہی کیوں ہو کسی اجنبی پکار کا خوف
سبھی تو دامنِ کوہِ ندا میں زندہ ہیں
خدا کا شکر‘ ابھی میرے خواب ہیں آزاد
مرے سفر مری زنجیر پا میں زندہ ہیں
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
عرفان صدیقی

معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 175
خیمۂ نصرت بپا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
معرکوں کا فیصلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دیکھتا ہوں آسمانوں پر غبار اُٹھتا ہوا
دلدلِ فرخندہ پا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
دُور اُفق تک ہر طرف روشن چراغوں کی قطار
داغ دل کا سلسلہ ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آئنے خوش ہیں کہ اُڑ جائے گی سب گردِ ملال
شہر میں رقصِ ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
میں تو چپ تھا پھر زمانے کو خبر کیسے ہوئی
میرے چہرے پر لکھا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
ہو رہا ہے قید و بندِ رہزناں کا بند و بست
عاملوں کو خط ملا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
آج تک ہوتا رہا ظالم ترا سوچا ہوا
اب مرا چاہا ہوا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جب اِدھر سے ہوکے گزرے گا گہر افشاں جلوس
میرا دروازہ کھلا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
چاکر دُنیا سے عرضِ مدّعا کیوں کیجیے
خسروِ دوراں سے کیا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
لفظ نذر شاہ کر دینے کی ساعت آئے گی
خلعتِ معنی عطا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
جان فرشِ راہ کر دینے کی ساعت آئے گی
زندگی کا حق ادا ہو گا علیؑ آنے کو ہیں
عرفان صدیقی

دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 100
ڈوبتی شام پرندوں کی نوا بھی خاموش
دل میں سناٹا تو باہر کی فضا بھی خاموش
دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے تقش کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پُکار
صبح تک خون بھی خاموش، حنا بھی خاموش
شہر خوابیدہ میں فریاد نہ عکس فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے کوئی سبک دوش نہیں ہو پاتا
سر تسلیم بھی چپ، تیغ جفا بھی خاموش
کوئی ہے تیرگئ شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موج ہوا بھی خاموش
آج تک اہل ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
سو مرے باب میں ہیں اہل وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سر دنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا میرا خدا بھی خاموش
MERGED دیکھتے دیکھتے دروازے نظر سے اوجھل
بولتے بولتے نقشِ کف پا بھی خاموش
رات کی رات وہی رنگ ترنگوں کی پکار
صبح تک خون بھی خاموش‘ حنا بھی خاموش
شہرِ خوابیدہ میں فریاد‘ نہ عکسِ فریاد
آخری سلسلۂ صوت و صدا بھی خاموش
فرض سے عہدہ بر آ کوئی نہ ہونے پایا
سرِ تسلیم بھی چپ‘ تیغ جفا بھی خاموش
کون ہے تیرگی شام کا مجرم کہ یہاں
ہے چراغوں کی طرح موجِ ہوا بھی خاموش
آج تک اہلِ ستم ہی سے شکایت تھی مجھے
اب مرے باب میں ہیں اہلِ وفا بھی خاموش
اب دُعائیں نہ صحیفے سرِ دُنیائے خراب
میں بھی خاموش ہوا‘ میرا خدا بھی خاموش
عرفان صدیقی

کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 84
بام و در پر ایک سنّاٹا عزا کرتا تھا رات
کیسا نالہ وہ فقیر بے نوا کرتا تھا رات
شہر ہوُ میں ایک ویرانی کا لشکر صف بہ صف
ہر طرف تاراج بازار و سرا کرتا تھا رات
اس خرابی کے مکاں میں ایک سایہ ایک نقش
ہم کلامی مجھ سے بے صوت و صدا کرتا تھا رات
اک غبارِ ساعتِ رفتہ کسی محراب سے
میرے چہرے میرے آگے رونما کرتا تھا رات
طاقِ تنہائی سے اٹھتا تھا چراغوں کا دھواں
اور مرے ہونے سے مجھ کو آشنا کرتا تھا رات
وہم دکھلاتا تھا مجھ کو روشنی کی تیرگی
وہم ہی میرے اندھیرے پر جلا کرتا تھا رات
روشنی کے ایک ربطِ رائیگاں کے باوجود
اک خلا آنکھوں سے منظر کو جدا کرتا تھا رات
تھا مرے باطن میں کوئی قصہ گو‘ وہ کون تھا
مجھ سے اک طرفہ حکایت ماجرا کرتا تھا رات
ہو گیا تھا تاجِ سر میرے لیے سودائے سر
سایۂ شب سر بسر کارِ ہما کرتا تھا رات
زہر شب میں کوئی دارو کارگر ہوتی نہ تھی
ہاں مگر اک زہر شب جو فائدہ کرتا تھا رات
جسم میں میرا لہو درویشِ گرداں کی طرح
لحظہ لحظہ پائے کوبی جا بجا کرتا تھا رات
زرد پتوں کے بکھرنے کی خبر دیتا ہوا
رقص میرے صحن میں پیکِ ہوا کرتا تھا رات
میں کوئی گوشہ گزیں‘ ترکِ وفا کا نوحہ گر
دیر تک تحریر تعویذ وفا کرتا تھا رات
کیا بشارت غرفۂ حیرت سے کرتی تھی نزول
کیا کرامت میرا حرفِ نارسا کرتا تھا رات
بند میرے کھولتا تھا کوئی آکر خواب میں
جاگتے میں پھر مجھے بے دست و پا کرتا تھا رات
رنگ روشن تھا سوادِ جاں میں اک تصویر کا
ایک چہرہ میری آنکھیں آئینہ کرتا تھا رات
مجھ کو اپنا ہی گماں ہوتا تھا ہر تمثال پر
کوئی مجھ سے کاروبارِ سیمیا کرتا تھا رات
صبح سورج نے اسی حجرے میں پھر پایا مجھے
میں کہاں تھا کیا خبر عرفانؔ کیا کرتا تھا رات
عرفان صدیقی

دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 31
کوئی وحشی چیز سی زنجیرِ پا جیسے ہوا
دُور تک لیکن سفر کا سلسلہ جیسے ہوا
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اِک آوازِ پا، جیسے ہوا
گرتی دیواروں کے نیچے سائے، جیسے آدمی
تنگ گلیوں میں فقط عکسِ ہوا، جیسے ہوا
آسماں تا آسماں سنسان سنّاٹے کی جھیل
دائرہ در دائرہ میری نوا، جیسے ہوا
دو لرزتے ہاتھ جیسے سایہ پھیلائے شجر
کانپتے ہونٹوں پہ اک حرفِ دُعا، جیسے ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اِسے میرے خدا، جیسے ہوا
عرفان صدیقی

اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رُکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آپ ہے پہرا لگا ہوا کیسا
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خوُنبار
اُفق اُفق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
اذان ہے کہ علم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
یہ لوگ دشت جفا میں کسے پُکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
گلوئے خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
وہ مہربان اجازت تو دے رہا ہے مگر
یہ جاں نثار ہیں مقتل سے لوٹنا کیسا
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہو گا، مقابلہ کیسا
سلگتی ریت میں جو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
یہ سرُخ بوُند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئنہ کیسا
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لیے
اُجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
سیاہ نیزوں پہ سورج اُبھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
تجھے بھی یاد ہے اے آسماں کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے سانحہ کیسا
عرفان صدیقی

بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 11
دھنک سے پھول سے‘ برگِ حنا سے کچھ نہیں ہوتا
بدن صحرا ہوئے‘ آب و ہوا سے کچھ نہیں ہوتا
بہت کچھ دوستو‘ بسمل کے چپ رہنے سے ہوتا ہے
فقط اس خنجرِ دستِ جفا سے کچھ نہیں ہوتا
اگر وسعت نہ دیجے وحشتِ جاں کے علاقے کو
تو پھر آزادیِ زنجیر پا سے کچھ نہیں ہوتا
کوئی کونپل نہیں اس ریت کی تہ میں تو کیا نکلے
یہاں اے سادہ دل کالی گھٹا سے کچھ نہیں ہوتا
ازل سے کچھ خرابی ہے کمانوں کی سماعت میں
پرندو! شوخیِ صوت و صدا سے کچھ نہیں ہوتا
چلو‘ اب آسماں سے اور کوئی رابطہ سوچیں
بہت دن ہو گئے حرفِ دُعا سے کچھ نہیں ہوتا
عرفان صدیقی

آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 279
در کوئی جنتِ پندار کا وا کرتا ہوں
آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں
رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم
وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں
وہ ترا، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا
یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں
پہلے خود آپ بناتا ہوں تماشا اپنا
پھر تماشائی کا کردار ادا کرتا ہوں
پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں
اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں
کبھی آنکھوں سے بھری راہ گزر مجھ پہ گراں
دشت پیمائی کبھی آبلہ پا کرتا ہوں
مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا
ننگے پاؤں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

راکھ کو یعنی ہوا کا درد تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 93
دل کو یارِ بے وفا کا درد تھا
راکھ کو یعنی ہوا کا درد تھا
موت کی ہچکی مسیحا بن گئی
رات کچھ اِس انتہا کا درد تھا
ننگے پاؤں تھی ہوا کی اونٹنی
ریت تھی اور نقشِ پا کا درد تھا
کائناتیں ٹوٹتی تھیں آنکھ میں
عرش تک ذہنِ رسا کا درد تھا
میں جسے سمجھا تھا وحشت ہجر کی
زخم پروردہ انا کا درد تھا
رات کی کالک افق پر تھوپ دی
مجھ کو سورج کی چتا کا درد تھا
منصور آفاق

دل ترے درد کے سوا کیا ہے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 248
کیا بتاؤں کہ مدعا کیا ہے
دل ترے درد کے سوا کیا ہے
دور تاروں کی انجمن جیسے
زندگی دیکھنے میں کیا کیا ہے
ہر قدم پر نیا تماشا ہو
اور دنیا کا مدعا کیا ہے
کوئی لائے پیام فصل بہار
ہم نہیں جانتے صبا کیا ہے
درد کی انتہا نہیں کوئی
ورنہ عمر گریز پا کیا ہے
آپ بیٹھے ہیں درمیاں ورنہ
مرگ و ہستی میں فاصلہ کیا ہے
نہ رہا جب خلوص ہی باقیؔ
پھر روا کیا ہے ناروا کیا ہے
باقی صدیقی

رات بھر کیا صدائے پا سنتے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 197
سو گئے دل کا ماجرا سنتے
رات بھر کیا صدائے پا سنتے
گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے
کارواں بھی گریز پا نکلا
ورنہ کیا کیا شکستہ پا سنتے
غم ہستی کا روگ کیا معنی
چل کے نغمہ بہار کا سنتے
کسی کنج طرب میں دم لیتے
مرغ آزاد کی نوا سنتے
حسن سرو و سمن کے پردے ہیں
داستان غم صبا سنتے
جرس غنچۂ امید کے ساتھ
طوق و زنجیر کی صدا سنتے
گاؤں جا کر کرو گے کیا باقیؔ
شور کچھ دیر شہر کا سنتے
باقی صدیقی

متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 184
جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
متاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئے
وہ گرد اڑائی کسی نے کہ سانس گھٹنے لگی
ہٹے یہ راہ سے دیوار تو ہوا آئے
کسی مقام تمنا سے جب بھی پلٹے ہیں
ہمارے سامنے اپنے ہی نقش پا آئے
نمو کے بوجھ سے شاخیں نہ ٹوٹ جائیں کہیں
تم آؤ تو کوئی غنچہ کھلے، صبا آئے
یہ دل کی پیاس یہ دنیا کے فاصلے باقیؔ
بہت قریب سے اب تو کوئی صدا آئے
باقی صدیقی

کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 162
رنگ محفل ہے ادا سے تیری
کوئی اٹھ جائے بلا سے تیری
دل تری بزم میں لے آتا ہے
ہم تو واقف ہیں رضا سے تیری
مرگ و ہستی کی حدیں ملنے لگیں
بات چل نکلی وفا سے تیری
تیرے جانے پہ ہوا ہے معلوم
شمع روشن تھی ضیا سے تیری
وقت جب چال کوئی چلتا ہے
یاد دیتی ہے دلاسے تیری
تیری آمد کا بہانہ ہے بہار
پھول کھلتے ہیں صدا سے تیری
بوئے گل دیکھی ہے رسوا ہوتے
کیا کریں بات صبا سے تیری
کرتے پھرتے ہیں بگولے باقیؔ
بات ہر آبلہ پا سے تیری
باقی صدیقی

کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 130
راہ میں شمع جلا بیٹھے ہیں
کس سے ہم آس لگا بیٹھے ہیں
رنگ محفل سے ہمیں کیا مطلب
جانے کیا سوچ کے آ بیٹھے ہیں
ختم ہوتی نہیں دل کی باتیں
اپنا قصہ تو سنا بیٹھے ہیں
کون سنتا ہے کسی کی آواز
ہم ابھی کر کے صدا بیٹھے ہیں
مسکرایا ہے زمانہ کیا کیا
کھا کے جب تیر وفا بیٹھے ہیں
خود کو دیکھا تو نہ پہچان سکے
ہم بھی کیا حال بنا بیٹھے ہیں
ابھی کچھ ملتے ہیں منزل کے سراغ
ابھی کچھ آبلہ پا بیٹھے ہیں
منزلوں رہ گئے پیچھے باقیؔ
وہ گھڑی راہ میں کیا بیٹھے ہیں
باقی صدیقی

اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 129
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں
پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹّھا دیتے ہیں
قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا
کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں
بعض اوقات ہوا کے جھونکے
لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں
دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں
ایک دیوار اٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں
سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں
باقی صدیقی

انے نقش کف پا کیا دیکھیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 119
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
رونق شہر سبا کیا دیکھیں
کھوکھلے قہقہے پھیکی باتیں
زیست کو زیست نما کیا دیکھیں
زخم آواز ہی آئینہ ہے
صورت نغمہ سرا کیا دیکھیں
قہر دریا کا تقاضا معلوم
ہم حبابوں کے سوا کیا دیکھیں
سانس کلیوں کا رکا جاتا ہے
شوخی موج صبا کیا دیکھیں
دل ہے دیوار، نظر ہے پردہ
دیکھنے والے بھلا کیا دیکھیں
ایک عالم ہے غبار آلودہ
جانے والے کی ادا کیا دیکھیں
زندگی بھاگ رہی ہے باقیؔ
شوق کو آبلہ پا کیا دیکھیں
باقی صدیقی

چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 34
جذبیاں نُوں بے تھانواں کر گئے، سفنیاں نُوں دہلا گئے نیں
چنگیاں دِناں دے ہاڑے، سِر تے ہور بھسوڑیاں پا گئے نیں
خورے کیہڑیاں رُتاں ہتھوں، مُدّتاں توں زنجیرے نیں
پاندھی پَیر اساڈے، اگّے ودّھن نُوں، سدھرا گئے نیں
صورت کوئی نہ بندی جاپے، سنگ مقصد، کڑمائی دی
وچ اُڈیکاں پھُل گانے دے، وِینیاں تے کُملا گئے نیں
ٹِنڈاں دا کیہ، ایتک تے، ماہلاں وی تَرُٹیاں ہون گیّاں
اچن چیتی کَھوہ تاہنگاں دے، اِنج اُلٹے چکرا گئے نیں
ویہندیاں ویہندیاں ائی راہ لبھ پئی، دل چ رُکیاں ہیکاں نوں
سَد وطنوں کُھنجیاں کُونجاں دے، سُتے درد جگا گئے نیں
ویلے نے کد پرتن دِتا، ودھدے ہوئے پرچھانویں نوں
سجن سانوں، اُنج ائی میل ملاپ دے، لارے لا گئے نیں
ہاں ماجدُ چُنجاں کُنجیاں، کانواں فر نانویں انڈیاں دے
چِڑیاں ہتھوں ککھ جوڑن دے، دن فر پرت کے آ گئے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)